Skip to main content

Full text of "012 Surah Yusuf"

See other formats


رسہت 


زان تزول اور سبب نزول: 7 9  .‏ 
منقاصر نزول: 7بی یٹوِتجگلہ‪ہہیہ ییتتیتیپ- 
مبادث و م اتل : 7 صکصکصکصصتستےٗےِ9ت 9 ذ0 
تار من و جخرافالی عالات: کس سن سسمہ شسس تل 
رکو۶ 7ص ,0مھ ت"''ھم 
رکو ۲۶ زٗ‌ ہہ سسسی ہلفخفُسىىححسسمسستتہت”ا''أا 
رکو ٣۶‏ 09000000 ص,91 2ص 
رک ۶ ہد۔مسمسدسسسسسسمحسب سس+٢ہشےلسشس‏ ٣د‏ 
رکو۵۶ جم سس سس س سکسمسسبمسسسسسىہ ہت 
رک ٦۶‏ 07بفببب +ا:٦لمهههبہهەجهەًه‏ ە 0كیهە١۳”٭.ە+ە‏ 49 4 0 0 ییویتٹیٹ.-یي  -‏ -ھ 
رکو یگ 0 78 8 8 888 0ں  ‪‏ ەصںص۵ءں-ت-تھ.ٹھھئٹئ09-“ٰ'" 


زما نہ تزول اور سب نٹزول: 


اس سورے کے منمون سے مر ہو جا ےک مہ بھی زمانہقیا مہ کے آخ ری ڈور ٹیس نازل ہی ہ کی کہ 
کے ین لے موک ےکر لن سیک کی ور 
مر دمیں۔ أس زمانہ میس مینت سکغارمہ نے ( غالبا یبددییوں کے اشارے انی صلی الد علیہ و سم صقان لیے 
کے لیے آپ سے سوا لکیاکہ بی ار ائیل کے مر جان کیا سبب ہو اد چھکلہ اب عرب الس قضہ سے 
ناداففف تےء ا سکانام دنا ن تک الن کے پال کی ردایات می نہ پایا جات تھہ اوخ دنچی صلی این علیہ د سٔ 0 
زان سے بھی اس سے پیل بھی ا اگ نہ س نایا تھاہ اس لیے انییں توق شی کہ آب پان ا س کا مفصل 
جواب نہ وے میں کے ء یا اس وشت خال منوا لک ہے بعد یپوی سے کو جن کیک ون ری ہاور 
اس طرح آ پکا پھر مل جاہگا لان اس امقان می انیس لٹ من ہک کھالیٰ پڑی۔الڈد تا لی نے صرف 
بی نیو ںکیاکہ فو ری وت اوسف علیہ السلا مکا یہ بی را قصہ آ پک زان پر جار کر دیاہبلہ یدب ھآں 
اس قھ ےکو قررٹیش کے اس معالمہ پر سیا ںجھ یکر دیاجھ دہ بر اوران اوس کی ط رح 7 تحضرت صلی الاند علیہ 
: ا و رکررسے تے۔ 


مقاصرنزول: 


اس ریہ قعشہ دد اہم متقاصد کے لیے نازل فرما ایا تھا: 
ایک بک مگ ہو تکاشھوت, اور و بھی مخام نکااپنامنہ ماڈگاشیوت کہم بچایاجاۓ اوران کے خوو جو یز 
کر دہ امتجان میس یہ اب کر دیاجال ۓکہ لپ سناسنائی اٹ بیان نی سرت بکہ نی الا ا پکووگی کے 


ذریجہ سے معلم حاصل ہوماے۔ اس مق رکو آیات ٣اور‏ ے یس تھی صاف صاف دا عکردماگیاے اور 
آیات ۱۰١‏ اور ا می پورے زور کے ساتھ اہ سکی تص رت جک یکئی ے۔ 

دوسرے کہ عمرداراان ٹیش اور مم کے در مان اس وفت جو معاملمہ بل دہا تھا اس پر بر ادران اوسف 
اوربوسف کے تھ ےکو ہا ںکرتے ہوۓ تفرلیش والو ںکو بتایا جا ےک آج تم اپنے بھاٹی کے ساتتھ دای بنھ 
کررے ہو جو پوسف کے پھائیوں نے ان کے سا تی کیا تھا گر جس رح وہ خد کی ممشیت سے لڑنے یں 
کامیاب نہ ہو ے اور آخ رکار أسی بای کے قد موں سن کر ین کو نے بی ااکی ہے رتھی کے 
ماق یکنوسسں میں یکا خواء ای طرح میگ زور آنزمائ بھی خد ائی ہیر کے ہنا لے می کا ماب نہ ہو س ےگی 
اور ایک دن میں بھی اپنے ای بھاکی سے رم دک مکی جدیک مالنی پڑ ےکی صے بج تم مٹاد نے پر سے 
ہوۓ ہو۔ ہہ مقصد بھی سورہ کے آناز یں صاف ضافت بیا نک دیاگیاے۔ چنانچہ فرايالَقَدْكَانَ فی 
يُوْمُف وَاخوَتدة ای ايل ”یوسف اور اس کے بپھائیوں کے مجیے میس ان لو نے والوں کے 
لیے بڑکی نشافیاں ہیں “۔ 

یقت یہ ےکہ بوسف علیہ السلام کے تی کو مھ صلی الد علیہ وسلم اود ٹیش کے معالے پر چا نکر کے 
رن نی ےگ ایک ضرغ شش یکو کیک دی یی کے ۶7ر یمالک راقات نے ور ت وت 5 
ماب تک کے دکھادیا۔ اس سورہ کے نزول پر ڈیڑھ دو سال بیگزرے ہہوں ےک ریش والوں نے 
رادران پوس فک رس کے ف کی سازن کی اور آ پکو مجبورآان سے جان بچاک کہ سے اکنا پڑا۔ مر 
ا نکی نو قعات کے پالٹل خلاف آ پکو بھی جلاو نی بیس ولیماجی عر وع اق ار نصیب ہُو اجیا لوس فک ہُو | 
تھا۔ پھر مہ کے موم پر میک یک وی یھ یل آیاجھ مصرکے پا نت میس وس کے ساتے اان کے 
چائیو ںی آخ ری تضوری ے موںع پر نی آیا تد دہال جب بر اوران اوسف نچاکی جرد دراندگیکی 


عالت ال ان کے آکے اھ پیا ۓبھٹرے تے او رکہہ رسے ت ےک تی مَليْتَااِنُ الله زی 


المْتَصذِقدن ” عم پر صدقہ ییجےء اللہ صد قہکرنے والو ںکو یک جنزادیتا ےک وو سن نے افظا مکی 


۔>ًَُ2ھ 


قدرت رکنے کے پاوجود انیل ما فک دیااود فرایا لا فَثْريْبَ عَلَيْكُم اليَؤْمَ يَفمُ الله َکُۂ 
َو ار حم الج ن” آرج تپ رکوکیگرفت نیل ال دس میں معا فکرے ووسب رہ مکرنے والوں 
سے بڑ ھک رقمکرنے والا ہے “ای رع جب بیہاں ش کے سا مے علست خوردہ قر ٹیش س رو ںکزرے 
ہوۓ تے اور آ تحضر ت ان کے ایک ایک ظ مک بدلہ لیے پر تقادر ت ف آپ نے ان سے لے بچھا نتہاراکیا 
خیالی ‏ ےکہ میس تمارے سات کیا معال ہک ون گا؟“ انہوں نے ع رت کاخ کریخ د ابن ا کریم ”آپ 
کیک عالی خرف بھائی ہیں ء اور ایک عالی ظرف بھائی کے یٹ یں “۔ اس پ رآ پانے فربایا فان اقول لک مکیا 
قال یوسف لاخوته؛ اعت تی اذھبوا فائتم الطلقاء ٹنمیس مس یں دی جو اب دبتاہوں جھ 
او سف نے اپنے بھائیو ںکود اتک ہآرج تپ کوک یگرفت نیہ جال نہیں موا فکیا“ 

مباحث وم اتل : 


یہ وہل وو اس سورہ میں منقصری حیشیت رت ہیں_ لیان اس تی ےکوبھی ق ران چجیرحض قص ہگ وکی و تار تا 
_گارکی کے طور پر بیان فی لک تابللہ اپنے قاعدے کے مطا بی وو اسے اپپقی اصصل د عو تکی ت میس استتعوال 
نے 


وہ اس ری داستان مل ہے بات مایا ںکبر کے دکھامنا ےکلہ خضرت برای اء حضرت اسحاقیء حضرت 
تقوب اور نخرت اوس کا دین وبی تھماجھ شم کے اور ای کی طرف وہ بھی دعوت دینے سے جج سکی 
طمرف اج دک دے رے ہیں۔ 

چم روہ ایک طرف حطرت تقوب اور نطرت اوس فک ےکر دار اور دوص کی طرف ہر ادران اوسفء تال 
ارہ ع زین مصرء ان کی جبدییءبیابات مھ راور جکام مرک ےکر داد ایک دو سرے کے مقابلہ مس رکھ دیجاہے 
اور نل اپنے انداز بیان سے سا شت۲ن وناظ رین کے سان مہ نماموش سوال ٹین کر ما ےککہ دیکھوء نیک 
تھونے کے کم دار وہ یں جو اسلام سی ھ72 ار اب آخرت کے مین سے پیر اہو تے ہیں ء اور 
دوسرے خھونے ک ےکر دار ووڈیں جھکفرد جا ہابت اود د نیا رک اد حد او آخرت سے بے نیا نکی کے سا ئچوں 
بس ڈع لکر تار ہوتے ہیں۔ اب تم خوداپتنے عیب رسے لو کچ کہ ددان یل ےکس خھون ےکوپہن ہک رما ے۔ 
راس تے ے ق رن میم ایک او رگ رىی جقیقت بھی انسا لن کے ذ جن نشی نیک تاہے۔ اود ددیہ ےےکہ اللہ 
تزالی ج کا مک ناجاتاے وہب رعال پوراہدکرر تاے۔ انسالن ابیقی تی رول سے اس کے منموبو لکورو کے 
اورپر لے میں بھیکامیاب نیس ہو لا۔ بمہ بسا او قات انسان ای ککام ہے منص ےکی خاط کر ماسے اور 
تنا ےکہ بیس نے میک نشانے پر تب ماردیاگھر می یس حابت ہو ا ےکلہ ایدنے ای کے پا خھوں سے وہ 
ام نے لیا جو اس کے مو ہے کے خلاف اور ایر کے منص مے کے معن مطا لق تھا۔ او سف کے بھاکی جب 
ا نک وکنویسں میس پیک ر سے تے تو ا نکالممان خھاکمہ بھم نے ابق راہ ک ےکا ن کو پییشہ کے لیے طادی گنی 
لوا انہوں نے وس فکو اس ہام عرو کی مکی سی ھی پر ات پاتتھوں لاکھٹ کیا جس پر الد ا نکو جانا 
چا تنا تھا اور ایی اس م کت سے اخ ہوں نے خوداپنے لیے اگ پگ ھکھا یا اس ب کہ لو سف کے ہام عرو نپ 
نے کے بعد بجھاۓ اس کےکہ دہ عزت کے ساتھ اپنے بھاٹی کی ملانقا تکو جاتے انی ند امت و 


شر مسمارکی کے سا ای بھاکی کے سان سرگکوں ہونا بڑا۔ عزیز مم رکی بیو بی لوس فکو قید خانے مپٹواکر 
اپنے نز ویک ون سے انام نے ری ھی مر فی الو اح اس نے ان کے لیے تنت ساطلدت پر کی کا راستنہ 
صا فیا اور ايک اس ن ہیر سے خحوداپنے لیے اس کے سوا بٹھ نہکمایاکنہ دفت آنے پر فرمانروانے مل کک 
مرخ کہلانے کے بھائے ا سکو علی الاعلان اپقی خیات کے اعترا فکی شر من دگی اُٹھائی بڑی۔ یہ شخض 
دو چا نشی واتقیات نیش ہیں بللہ ار تی بے شار مثالوں سے پھر پڑی سے جھ اس حقی تک یگوای 
دی ہی کہ اللہ جے اٹھاناجاہتا ہے سماری دنام لک ربھی ا سکو خی ںگم اسحتی۔ بللہ داجس تل ہی کو اس کے 
گر ان ےکی خہای ت کا رگر اور شتیقی تیر جج ےکر اخقیا رک کی ےء .0تس وت 
صور یں فکال دیتاےء اور ان لوگوں کے جئے میں رسوالی کے سو اھ یں نا جچنہوں نے اس ےگ انا جا 
تھا۔ اور اسی رح اس کے ب رہ خد ایج ےگ انا اب ا ےکوئی نر ہیر سنیبال نی سکقی ہبہ سنا لے 
گی ادگ تل بی ریس فی کی ہیں ء اود ای تی ری کر نے والو یکو من ہک یکھاکی بڑکی ے۔ 

ایس حتقیقت عا لکو اگ رکوکی بج نے تو اسے پہلا بجی نیہ لے گاکیہ انما نکو اپنے منقاصد اور ابیقی ت ایر ء 
دونوں میں ان عدود سے تنیاوز نکر نا چاہے ج اون الی بی اس کے لیے مقر کرد یگئی ہیں ۔کاممال ید 
ائی تذالل کے ات میں سے لیکن جو شس پاک مقصد کے لے سی دع سیعھی جائ نرہ دکھرے گا دہ اگر 
ناکام بھی نمو اذ بہر عال ذات در سو ائی ے دوچار تہ ہ وگا_ او رج خس اک متصر کے لے یڑ شی یرس 
کرینۓ مہ آئخزت می اق راہ گاب ی گر دیاش نمی این کے لیے رسوال یکا کو رٹ 
دوس اہم سیقی اس سے نول لی الد اور تفولیٹ الی اکا متاے۔ جو لوگ مجن اور صد افقت کے لیے سی 
کررہے ہول اود دا انیس منادینے پرگگی ہوک ہدوہ اگر اس حقیق تکویشی نظ ررککیں نوا نہیں اس سے یر 


سر ل۴یل کی رظ تن یت ات 1ا نتر ں ظا مان2 
ہوں کے بکنہ تا کو ال پر جھوڑتے بوے انا اخلاقی خر اضجام د بے مہ جکیں گے_ 

گر سب سے بڑا مق جو اس ے سے ماما سے وہ می ےککہ ایک مرد موم ن اگ لنٹ اسلا بی سیرت رکتا ہو 
اور حکمت سے بھی بجرہیاب ہوہ فذوہ جن اپنے اخلاقی کے زور سے ایک پورے مل کو کر سنا ے۔ 
لوس فکود مکی ےار لکی عمرہ تن تجباء بے سروسامان ۲ اجکی میک اور پگ رر کی انتا یہکہ ظلام بناکر 
یچ گے ہیں۔ مار کے اس دور یس خلامو ںکی جو حیشثیت تی دی سے پوشیدہ نجیں۔ اس زی میک 
کیک شید اخلاقی جر کا الزام اکر اشن یل ھچ د ایاج سکی مہعاد مز اکچ یکو تی نہ تھی اس حال ت تک 
گر ادیے جانے کے بعد وہ جح اپنے ایمان اوز اغلاقی کے مل پر ات ہیں اور بالاخر پورے مل ککو مسر 
کر لیے ہیں 

تار ہنی وجنش رافیاکی حالات: 

اس تی ےکو ینہ کے لے ضروری ےس مخفق )اس سے متحلق ببھہ با رسپنی وجضرانی معلورات بھی ناظظ رین 
کے یس نظ ررہیں: 

نضرت او سض ء حقرت تقوب کے بی ےء منرت اسحاقی کے ات اور ظرت اب ائیم کے پر بات تے۔ 
ال کے بیان کے مطا بی لج سک تائید ق رن کے اشمارات سے بھی ہوقی سے ) حخرت تقوب کے پارہ 
بے ار ہیولوں سے تہ رت لوسف اور ان کے یھو ٹے بھی بن مٹین یک بیو بی سے ء اور ہاقی یس 
ررض ریو رن ہے۔ 


فسطین میں حضرت لیتقو بکی جاۓ قرام رون (موجو دوا خی کی وادی میس تی جہاں رت اسھاق اور 
اع سے بے نضرت برائیڑ رپاکرتے تھ۔ اس کے علاوو حضرت یتقو کی پچھ زین یکم (موجو دہ 
اس ) ہیں بھی تھی۔ 

اتیل کے علاءکی خی کر درست مانی جاۓ نو حضرت اوس کی پید اش سن ۱۹۰۷ ٹل سج کےکلک کیک 
زہائے میں ہوئی اورسن ۱۸۹۰ ٹیل کیج کے قریب زمانے میں دو واقعہ ٹیش آیایجس سے اس حقص ہک ابد ا 
ہوئی ےء لیف خو اب دیکھنا اور رکنوگیسں میس پھیکا جانا۔ اس وقت ححضرت اوس فکی عهر روب رسکی تھی 
جج س منوس میں وہ کے گے وہ پا ہاور عم ودیی روایات کے 7 0 
مان ) کے خریب دائح تتھاء اور جس نا ےن کی ںکنویس سے الا دوعاعاد(شجر رون کت آربا ھا اور 
مصرکی طرف عازم تھا۔ (جلعاد کےکھنٹرر اب بھی ددیاتے ارون کے مشمرق بی َادیی الیاشس ک ےک ارے 
داع یں)۔ 

7 7ن نان میں پنررہویں ماند ان کی علومت 1 و مصری جار ۰ آُنارے بادغاہوں 
(88 0ک 1:1505 کے نام سے یا دکیاجااے۔ یہ لوگ عربی انل سے اور فسبن و شام سے مصر 
جاک ٢‏ ہنرار برس شل کے کے لک پیک زمانہ میں سلطعت مصریر زالس ہو گے تے۔ ععرب موک خنع اور 
مفسرین تق ران نے ان کے لیے تن خم ایی انام متا لکراے جو مصریا تکی موجو دہ تحقیقات سے ٹنیک 
مطابقت رکتناے۔ مصمرمیں یہ لوگ ای تل آور دشر نے تھے اوک کی اتی نا مات کے حب 
سے نین ال ابیقی بادشای اخ مرن کا وضع م لککی تھا ۔ کی سبب و کہ ال نکی علومت میں حضرت 
راز کر ےکا او کر ین تی ان خون ا لے نان ےکن 
زرخزعلاتے میں آباد سے گے اور ا نعکووہاں بڑااشور سورخ حاصل ہو اہک وکلہ ود ان غی می تک رائوں کے 


ہم جفس تھے پند رح میں صدی شل سکع کے اواخ کک بی لوگ مصررپر تا یٹس رہے اود ان کے زمانے میس 
ےکر ا تی کے فرشا 1یطت ستا قش ارت +۶ ال شا ریا 
ےر و ےکا تا ابا ےن پت اس کے بعد ملک میں ایک زبروست لوم 
پرمتانہ تح ریک أنشھی ضس نے لشوس اقترا کا تق لٹ دیا ڈ ای اک ھکی تعد اد میس عمالقہ تک سے کال دپے 
گے ایک نہایت تحص ب ٹیلی انل نادان بر حر اقترا آنگیا اور ال نے عمالقہ کے مان ےکی یادگارو ںکو 
گن جو نکر ماد اور بی اع رائنل پر ان مظال میا سلملہ شرو کیا ج کا ذکر حضرت موی کے قصے میں آ نا 
ے۔ 

مصرکی تار سے یھی پن جانا ےکہ ان تچ واے اد شاہوں نے مصری داد او ںکو لیم خی سکیا ھا بکنہ 
اسپنے دو تاشام سے اپنے ساتھ لاۓے سے اور ا نیک یکشخ ىہ شش کہ مم رٹ ا نکا ہہب را ہو۔ بجی 
وجہ ےک ق رآن ید ضرت بوسف کے کم حصر باد شا ہکو ”نف عون “کے نام سے یاد جو سک ما کیوکلمہ 
نر عو“ مصری مز بی اصطلاج شی اور ہہ لوگ معری نہب یتیل نہ تے_ لیکن اتیل میں غلٹی 
سے ا سک و بھی ”نف رعون “یکا نام دماگیاہے۔ ابی اس کے مرش بکرنے والے میڑھنے ہوں گ ےککہ مص رکے 
سب بادشاہ نفراعنہ “ىی تے_ 

موجووہ زانہ کے شنقین, جنپوں نے ایل اور مصری مار کا تقائ لکیاہےء عام را بی رت ہی یکلہ 
چرواے پادشاہوں میں سے جس فرمانرواک نام مصریی جار ںنئیشس ال نیس ( 707118 ۸) متا سے ودی 
رت وس فکا ہم عص رتھا۔ 

مص کا دارالسلطنت اس زمانہ میس ممفس(منف) تھواجٹس کے کھنٹرر تاہرہ کے جوب میں ۱ مل کے فا صلہ 
پپاۓ جات ہہیں۔ ححضرت لوس ف نے ۸۰۱ اسسا لک عمرییش وہاں یچ دو تین سال ع یز مص رک ےگ رر ہے۔ 


لن سال تل می نکتارےے۔ ٭+ن مرا لکی میں ملک کے فرمانرواہوے اور ۸۰ سال لی تک پاش رت 
میورے تام ممللت مصریر علوم کرت رہے۔ اپاقی علومت کے موی اد سو سال اضنہوں نے حضرت 
تقو بکو اپتے پورے خاندانع کے ساتھ فلسین سے مبلا لیا اور اس علاتے میں آبا دکیاجھ دمیاط اور 
قاہرہ کے درمیان واج ہے پاتھیل یس اس علات ےکا خشن پاگوشن بتا ایا ہے۔ حضرت موک کے زمانے 
تک بہ لوگ اىی علااتے ٹس آبادرے۔ پا تھی لک بیان کہ خحخرت اوسف نے ایک سودس سا لک جم 
وفات بای اور اتال کے وفت بی اسر ات لکووصی تک یکہ جب تم اس ملک سے کو قومی ری پڑریاں اپنے 
ان ن ےآروا 

پوس کے تج کی جوتتصیلات پاتبل او رحهود بیس با نک گئی ہیں ان سے ت رآ نکابیان بہت یچجھ لف ےء 
گر تی کو اہم اجنزام میس تنوں شف ہیں۔ ہم نے جو ای میں سب ضرورت ان اختلا فا کو وا حکرتے 
بایں گے۔ 


اہ ہے ا ۵٠-ےج(‏ سا |کرھ.-۔ زتارفھ 


دع :وہ متقام ہے ججہاں با کل لے بیان کے مطابِق بر اوران بوسف نے ضرت وس فک وکنوی میس پھیگا۔ 
سم :دومقام جہاں حضرت یتقو کی آبائی ند اد تھی_ اب اس مم کا نام ”ٹس ہے۔ 

رون :دوعتقام چہاں حضرت تقوب رجے تھے کو یل بھ ی کت ہیں۔ 

مفیس: مص کا میا تحفت۔ اب ائل مصرا سکومن فلت ہیں۔ 

ٹجشن:دوعلاقہ جہاں نحخرت و سیف نے مصرمیں بن اص رام لپک وآ بادکیا۔ 


سم ال الحْدن الٌحّم 


از "جِلْكَ ای الصٴب الْمیین ‏ ا اَنْولْلۂ فُرغنًا عَوَبیًا لمَلَُم تَعْهِلُوْنَ 2 


0 
َ۔ 


027 


فَمْْ تَقُضٌ عَلَيْكَ اَحَسَی الْقَصَص بمَا اَوْحَیْنَآالَيْكَهٰذا الْقُزاتَ٭ وَاِنْكنْتَ مِن قَبْله 


پیاو مرو وو بی لق رَاَيْثت اَحَدَعَهر کؤْگبَا وَالشُنَسَ وَاثْفَر 


: ۲ 7 2 _.- 7 سی 2 چسے 
دص سن 
لْحَا وك و يْىيعْتَعَد مَلَياكَءَ عَل ال يَعَقُوبَكمَا اکا عَل اَبََيِكَ مِن قَبْل(برمِیمََ 
بے ظ نً ك 


١ رکوع‎ 


کے نام سے جو رن ور تیم ے۔ 


لے اس فان کی رات ا 2 چا ھا صاف صاف بیا نکر پی ہے۔ جم نے اسے ناز لکیا سے 
17 گے ہناکر عربی زان یں تاکہ تم ائل عرب پچ ا سکو ابی طرح سج سکو تاے مر جم اس ق رآنن 
کو تہاری طرف وگ یکر کے بہت رین پیرایہ میس واتقعات اور تال تم سے با نکمرتے یہ ورشہ اس سے پل 
پان چیزوں سے یہ تم اگل ہی ےش سے2 


بس وف ت کا ذکر سے جب اوسف نے اٹنے باننا سےکہا” اباجانہ ٹس نے خو اب درکھا ےک گیارہ 
تارے ہیں اور مور نج اود چاند ہیں اور وہ نے سد ہکم رس گیں۔ “ جو اب میس اس کے پاپ ن ےکہاہ ” باء 
این یہ تو اب اپنے بھائیو لیکو نہ مناناودرنہ دہ تیرے درپے آنڑاز ہیں گےء مےجقیقت ہہ ےلم شبیطان 
آدٹ یکاکھلا وشن ہے اور یبای ہو گا لایر اٹونے خواب مس دیکھام ےک ہہ تیر ارت تھے وڈ اپ ےکام کے 
لیے پچہ تق بکرے گا تاور ھے بانو ںکی نرک پانچناسکھا ےگا اور تیرے اوپہر او رآ ھتقوبپھ ایق 
لت ای رع پور یکر ےگا خجس طرح اس سے پپیے دہ تیرے بز رگوں ء ابر اریم اور اححاق یی رک چکاےء 


یق تیر ار لیم اور یع ے۔ گج 


سورۃیوسف حاشی تمبر: 1ھ 

ق ران مصدرمہے قیفر سے۔ اس کے اص مع ہیں نپڑ ہنا“ مصد رکوکی چچ زکے لیے جب نام کے 
طور پر استعا لکیاجااے فو اس سے ہہ موم لکانا ےکلہ الس تے کے اندر صعنی مصیرریی بدد ج ہکمال پایاجاتا 
ہے۔ مخلاج بکسی فی سکو ہم بہاورکینے کے بھجائے ”نبہادری“ کہیں نے ا کا مطلب یہ ہ گاککہ اس کے 
اندر شیاعت ال یکمال درج ہک پالی عانی ےک گویادہ اور اعت ایک پیز ہیں ۔ لیں ان کا بک نام 
مق رن“ (پڑھنا) رک کا مطلب یہ ہو اکہ یہ عام و خمائش سب کے پنڑ سے کے لیے سے اور بیشرت پیڑنھی 
جانے دای چزے۔ 

سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 2ھ 

ان کم لاب تی ےکی کات خصوصس طو :بر ائل عرب ہی کے لیے ناز لک یکئی ہے۔ بکمہ اس 
تر ےکااصل مدعا ‏ یکہنا ےک اے الل عرب ممول کات نکی لو ناقی ایر ای بان یس فو یں سنائی 
ای ہیںء تہارک اتی ز بان شش ہیںء الین اتحم نہ فو یہ عفر شی لک کت ہہ کہ یہ باٹیش نو ہھارگی بجھ ہی بیس 
ری مک سے کیہ ا ںکتقاب میں اجماز کے جو ہو ہیں جو انس کے کلام اہی ہونے کی شمادت 
د نے یں ٤‏ دو تہارک اہول سے لو شیددرہ چائیں “ 

یت لوگ ق مان ید میں اس طرح کے فقرے د بل ھکر اعزرائض یی لکرتے می کہم کاب نے ئل عرب 
کے نے تج تی ران فرب کے لیے نازل بی خی سک یگئی ہے بجر اسے تمام انسانوں کے لیے ہد ابی تکیے 
کہا جاسکتا ہے لان ىہ جس ایک س رسرب سااعترا ے جو فی تک و کب ک یکو شش کے بضی رجڑ دیاجانا 
ہے۔ انسانو ںکی عام ہدایت کے بے جو چ بھی ٹین کیا جا ۓگ دہ ہہرحال انسالیز بانوں شیل ےم ایک 
زان بی یس شی کی جات ۓگیء اور اس کے می ںکرنے وا ےک یکو شش بجی وک یمک پیل دو اس قو مکو اتی 


لیم سے پعی رس مت کرے جح سکیا ز بان میس دہ اسے شی لک رام ءپچمروجی قوم دوس ری قومو کک 
اس نعلیم کے کی کا دسیلہ نے نی ایک فطربی ربیقہ ہے می دعوت د تح ہیک کے شین الا توائی ہپانے پھ 
نے گا۔ 

سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 3ھ 

سور کے د یباچ یس ہم جیا نکر گے ہی ںک کفذاربکہ می سے تح لوگوں نے آححضرت صلی الد علیہ و سم 
کاالتمان لیے کے ےہ بللہ اپنے خزدیک آ پکا در مکھو لے کے یہ غالبا ببددیوں کے اشارے پر آپ 
کے سامنے ا اتک بہ سوال ٹین کیا ھاککہ بی اسر ائیل کے مص رپ ےکاکیاسبب ہھا۔ ایا :نا یر الن کے جو اب 
یش جار جن ہی اص ران لکا ىہ باب ین یکر سے سے لہ خمہیرابہ فقرد ار شاد ہو ا ےکہ اے مج صلی الد علیہ 
وسلم !تم ان واقعات سے بے خر تھے ء دراصل بے چم یں جو وگی کے ذدیجہ سے میں ا نکی خر دے رسے 
ہیں۔ بظاہر اس نقترے میں خطیاب نمی صلی علیہ وسلم سے سے لیکن اصل میس روئۓے شع ان مخ لی نکی 
مرف سے جج نکوشلین نہ تھا ہآ پکوودگی کے ذریجہ سے صلم حاصصل ہو جاڑے۔ 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 4۹4ھ 

سے راد حعخرت لو سض علیہ العلام کے ود بھاگی یں ج دوص مر کی ماوں سے جے_۔ نرت تقوب علیہ 
الما مکو معلوم تھاککہ یہ سو ستیلے چھاٹی وسف علیہ السلام سے حسد رسکتت ہیں اور اغلاقی کے لیاط سے بھی ایس 
صا نیں ہی ںکہ ابنا مطلب کا لے کے لس ےکوکی نارداارردائ یکرنے میں انی ںکولی مجائل ہو اس لیے 
ول نے اپنے صاع یٹ ےکو تئیہ فرماد کیہ الن سے ہوشیارر ہنا۔ خو ا بکاصاف مطلب یہ تھاکہ سورجع سے 
مرا رت لیتقوب علیہ العلامءچچاند سے مرادا نکی یو گی (حضرت او سف علیہ السلا مکی سو مکی والد ہاور 
گار ہنارو سے خر ادگیا رہ چنا ین۔ 


سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 5ھ 

میتی نت عط اکر ے گا۔ 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 6ھ 

”ول ایی “ما مطلب جن تی رخو ا ب کا علم نیس سے حجی اک ہگما نکیاگیاسے ہبکنہ ا کا مطلب یہ 
ےکہ اللہ تی جھے معاملہ ٹٹھی اور یقت رب یکی نعلیم د ےگا اور وو اصیرت تج ھکو وط اکر ےگا جس سے 
نہر معال ہک یگہراٹی بیس اتزنے اور ال سکی تم ہکو ہا لیے کے تقائل ہو جات ےگا۔ 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 7ھ 

ا تل او رحمو دک بین تق رن کے انس با سے ملف ہے۔ ال نک ان یہ ےک ححخرت تقوب علیہ العلام 
نے خحو اب س نکر کو خوب ڈانظااو رکہاء اخا اب مہ خ اب دیکیے لا ےکہ میس اود تی ری ماں اور تہرے 
ہپ ای تی کی گی لن خر م٢کے‏ ایی ات تین آ کر ےکر صرت 
تقوب علیہ العلا مکی چیم رانہ سبہرت سے ق رآ کا بیالن زیادہ مزاسبت رکتنا سے کہ پاقنیل اور مو دا 
رت لوسف علیہ العلام نے خو اب بیا نکیا تھا ہکو کی اتی تمنا اور خاش نئیں بیا نکی تی خو اب اگ سیا 
تما اور اہر ےکہ حخرت تقوب علیہ العلام نے جو ا سک تی ہوکالی دہ سخ اب بی سج ہکر بالی یہو 
اس کے صاف مع مہ ج ےک یہ لوسف علیہ السلا مکی خو اش نیس تھی بلکنہ تفزیر الپ یکا فیصلہ تھاکہ یک 
وت ا نکو یہ عروج حاصل ہوا پھ رکیا ایک تشم رتو د رکزار ایک ممقول آآدب یکا بھی یمام ہو تما ےکلہ 
اکا بات پہ بر امانے اور خ اب دیکھنے وال ےکو ای ڈانٹ پلا ہے ؟ او رک اکوئی ش ریف اپ ایا بھی ہو سنا سے 
جو اپنے پیٹ کے آ مد عرو نکی بشارت ‏ نکر خوش ہو نے کے بھاے الا تل بصن جا قئے ؟ 


کے یم۔ .ود 7 1 و کے ۳م سے ئا ا 2 :2 3 خی کے 27 کے لق >٦‏ ٌ2 
۳۷70 ا" یسیا 


٤ 7‏ ٌ 7-2 ےد ۰ 2 ہے ہے انت 
سہمہی سو یہد وَاََمُوَةُ 
0۴7۴1 وو 9 7 0273703-7902 دا وٹ 2 0 71 کے صمےہ کے 
عبت البٔتٍِ یَلَعَقِصْدُ بَعَضَْالِمَیَارة(نكُنعغ فعلِیّن دی قَالوا پا باتا ما لَك لا تَأَمَنًا 


۰۲ 7 1 7 ےم سس ۰ج گج ہے اص 2 7 گے سے ہے >٠‏ 5 
صلی سُف ٤‏ وَانَالهُ لكلَنَمِخوْنَ(ق ٢‏ "رك مَعَتَاعَدَا؟ تی0 "تْ وَانَالكُ 7 نرت 0 
کے وپ کو ےووہ ۵٣2ئ0"‏ - ہو ٤ھ‏ ےو ےو وہ2 ہز ہک کااد ۰۲ ہہ کر کھ 
ٹلھزنۂ ۱ سو و ف١ن‏ ی الدب و انم عنه مِدون ڑکا ١‏ لہ اط 


7 ے ہکہوےے۔۔ ٠‏ صرس کت و٢٤5‏ 2 40+ ۔2 2وو۔ ے ۔ ۔ ٣و٭>>‏ 4 ص 
اٹ سو ہبی بد سے عو ابَاہمُ جِشاء 


ِت الہ قَالَوايَأبَاَاَِنَا َمَبْتا تسکَہق 2 کوگتا يُؤْمُف عِنہَمَماعتاۂ لد الیْنبْ و 


مآ نت بُؤمن لَنا ة آؤ لُنا صِيِقِیْنَ (ق د جآ َلٰ قیْصد بدّم گزْب ايك 


نگ'ٹ 

ہا 
١۹ء‏ 

۱ 
و 

۱ 

۱ 


تک انف مگ ان ٴ تحت 'ٴدَاللّة الْنمْتَعَانُ عَلٰ ما تَِنُؤن 30ء 
فَأَرِمَلُوا وَارِکئْ قَافِل کَلوا“ قال لہ ئغُزی ھا مُا ص/۰2۰2. عد وا مَييْعٌ ہما 


ب0 0 9۶ -٦۰ 7٠"‏ ا 7ے 7 ب_ ۶ ۶ 027 ۴ 
یعملون (3ج) و شرو5ابٹشمن بحس ذرام معدودو وکا نوافيّدِ مِن ال اهں 
سج ے 


٢ رکوع‎ 


یقت بہ ‏ ےک وف اود اس کے بھائیوں کے قصہ می ان و نے والوں کے لے بڑکی نشانیاں یں۔ ىہ 
قصہ بوں ش رو ہو تا ےکم انس کے بھائیوں نے آ ہیں می ںکہا” یہ اوس ف اور ا سکابھاٹیء ڈ8رولوں ہمارے 
وال دک ہھم سب سے زیادہ “یوب ہیں عالاکمہ ہم ایک پپاراجتھائیء ہا بات یہ ےک ہمارے ابا جان پل 
ھی بسک گے ہیں۔ 9 چلووسف ,2 8080 ہیں چیک دوج اہ تمارے وال دک نوج صصرف تہاری 
بھی رف ہو جائے۔ یکا مک لیے کے بعد پچ خیک من رہنا۔ مل“ اس پان شی سے ایک بولا” وس فکو 
فلی ب کروہ اکر پج کرای ے و ا سی ند ھےکنویس میس ڈال دوہ کولی آج جاما قافلہ اسے کال لے 
جا گا۔“ اس قمرادداد پر انہول نے جاک اپنے ماپ س ےکھا” اباجان ءکیابات ‏ ےک آپ لُوسف کے 
معاملہ بی ہم پر چھروسہ فی ںکرتے عا لالہ ہم ال سے سے خر خواہ ہیں ب کل اسے ہمارے سانتھد عے 
دتیےء بن رک نے گااو یل کود سے بھی ول بہلات ےگا عم ا کی حفاق تکو موجو و ہیں۔ اپ 
ن ےکہاتتتہارا ا سے نے جانایے شا یگزر اے اور مج ھکو اند یش سے وس میٹ ینہ بھاکھائۓ جب 
کہ تم اس سے ذاش ہو“ نے جرب و“ اکر جمارے ہہوتے اسے پھیٹریے ن ےکھالمیاہ ج بک جم 
ایک ججتاہیں جب فو ہم بڑے بی گے ہوں گے“ ا می ان اتوھ ا 
نے ٹ ےک ل یاککہ اسے ایک ان دج ھےہکنوئیں میں چچھوڑ دییںء فو ہم ن ےنوس کو وگ یک یک ” ایک وف ت کات کا 
جب تو ان لوگو ںکوا نکی ىہ مرکت جنائے گا مہ اپنے تل کے متا سے بے خر ہیں۔ 12 “شا مکووہ 
روتے نے اپنے باپ کے پا لے او کہا ” اا ان ٠‏ بم دو ڑکا مقابلہ کر می ںیک گے تھے اور وسف کو چم 
نے اپنے سامان کے پاس چچھوڑ دی تھاکمہ امن یس کعیٹریا اکر ےکھاکیا۔ آپ ہار با تکا ین نک بس 


کے چاے ہم بے بی ہہوں۔ “ اور وٹیو س کی نیش پر گیوٹ نمو ٹکاخوان لاکلر لے ہآ ئۓ تھے می ش نکمم 
نے باپ ن کہا بلکہ تمہارے نے تہارے لے ایک بڑ ےکا مک آسان بنادیا۔ اچچھاء صی رکروں 
گااور بن یکمروں گاء لاج بات مم بنارے ہو انس پر الد ای سے مردراگی جا کے ھ1“ 


اُدھر ایک قافلہ آیا اد ال نے اپنے تن کو بای لانے کے لے کھیا۔ تے نے جوکنویس میں ڈول ڈلا تو 
لال ش فکو دج کر ہہ پکار ٹا مبارک ہہ یہاں نو ایک لڑکا ہے “ان لوگوں نے ا سکو رای ارت بج ھک 
پالیاء ھا لالہ جو پگ و ہکرر ہے تے مد اس سے باخمر تھا آخ کیار انہوں نے ا سکوخھوڑ یىی قببت پرچد 
درتھوں کے عوضض یچ ڑڈالا ہ1 اورودا ڑل شبت کے معاملہ ٹیس بیجھد زیادہ کے امیر وارشہ ے_ ئ٢‏ 
سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 8ھ 

اس سے مم راو رت اوسف علیہ السلام کے نیقی چھا کی این ہیں جو ان کی سال وٹ تے۔ ا نکی 
ید الیشی کے وقت ا نکی والد ہکا اتقال ہ وکیا تل بی وج ہش یک حضرت تقوب علیہ السلام ان دووں بے 
ا و و ا می ا ا ا 
بس صرف ایک حضرت اوسف علیہ السلام بی اییسے تے مجن کے انعدر ا عکو آخار رشروسعادت لظ رآتے 
جے۔ اویر خرت اوسف علیہ السلا مکا و اب س نکر اضہول نے جو بج ٹرمایا اس سے صاف ظاہرہو تا ےکلہ 
وواپنے اس بٹ ےکی غیر معموٹی صلاعتوں سے خوب واقف تھے دوس ری طرف ان دس بڑے صاججزادوں 
کی بر تکاج حال خھما ا کا انلدازہتجھی آکے کے واقعات سے ہو جامتاے۔ پچ رکیسے نے کی انی ےک 
الیک نیک انسان انی اولادے خوش رہ کے۔ لان جیب بات ےک بایل ٹیش بر اوران اوسف علیہ السلام 
کے حدکی الیک ای وج با نک یگئی سے جس سے الٹاالزام خرت لوسف علیہ السلام پر عائد ہو تا ہے۔ اس 


کا ان ےک حضرت لوسف علیہ السلام چھا و لکی جچفایاں باپ سےکھایاکرتے تے اس وجہ سے بھائی لن 
ے ناراض تے۔ 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 9ھ 

اس فقر ےکی روں جن کے لیے بدویانہ ای زن گی کے حالا تکو ٹیش نظ ررکھنا چا ہیے۔ جہا ںکوئی 
رت ول 2ت ے٤‏ ف7 نیہ نکی نت نی 
تو تکاسارا ا تار ال پر هو ماے کیہ اس کے اپنے ٹیہ لڑتےء بھالیء کیچ ببت سے مہوں جو وقت آنے پر 
انیبان دمال او رز کی نفک لے ا انا در جگین۔ اٹ ات مین جعو ٹین آو جن 
کی بہ بت فطری طور پر آدئ یکو دوجو اع لیے زیادہ عزیز ہوتے ہیں جو دشحضوں کے متقابلہ می ںکام آسکت 
ہو ای ہناپہ النا چھائوں ن ےکہاکنہ ہمارے ذالعد بڑھاہے میں سٹیا گے ہیں ۔ ہم ج ان بیو ںکا جنتماء جھ 
برےوقت پر ان کےکام اسلناےء ا نکو انخاعزی: نیس سے جن یہ کوٹ یھو ٹے ہے جھ ان ک ےک یکام 
یں سک بللہ ال خو دہی حفانظت کے حا ع ہیں۔ 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 10ھ 

یہ ران لوگوں کے نفسیا تکی بت بین تر مال یک تا سے جو اپنے آ پکوخو اہشات ففس کے حوال ےکر 
دی کے ساتھھ ایمانع اور گی سے بھی پاتھ ر شنہ جوڑے رھت ہیں۔ الیے لم وگو کا تقاعد در ہو تا ےکہ جب 
مبھی نس ان می ہر ےکا کا نظاضاکر تاس نود یمان کے تقاضو ںکوملتو یکر کے یفخ سکیا تقاضاورا 
کرنے پر تل جات ہیں اور جب عمیہراندر سے چنلیاں لے فو ات ہک ہک لی دی ےک یک وش لکمرتے 
ہی ںکہ ذداصپ رر مہ ناگزی رگمنادہ جس سے ہکاراکام اکا ہو اہے ؛ک رگزرنے دےء پھر ان شناء الد چم فو ہکم 
کے وی بی نیک بن جائیں کے حجدیسانو ہیں د یھنا جابتاے۔ 


سورۃیوسف خاشی نمبر: 11ھ 

ہہ بین ھی باتببل اور جم ود کے بیان سے ملف ے۔ ال نکی ردابیت بی ےکہ پر ادرانع اوسف علیہ السلام 
اپنے مویئی چ انے کے لے گ مکی طرف گے ہوے تے اور ان کے بی خود ححضرت لیقوب علیہ السلام 
نے ا نکی متلاش میں ححضرت لوسف علیہ السلا مک کیا تھا مم یہ بات بجی از قباس ےک حخرت تقوب 
علیہ ااسلام نے بوسف علیہ ااعلام کے ساتھ ان کے جس کاعال جامتۓ کے باوجود ا یں آپ اپنے ہاتھوں 
موت کے منہ میں کیچیاہو۔ اس لیے ق رآ نکابیان بیز یادہ مناسب حال معلوم ہو تا ے۔ 
سورۃیوسف خحاشی تمبر: 12ھ 

من میس و ھپ کت کے الفاظط ہن ای اندازسےآآے ہی ںکہ ان سے تین معن پل ہیں اورتننوں 
ہی گت ہوۓ معلوم ہہوتے ہیں۔ ایک ب کہ ب وف علیہ السلا مکو ىہ سی دے ر سے تے اور اس کے 
پھائیو ںکو یھ خم رنہ یکمہ اس پرودگی جارکی ے۔ دوس ےیکت ارےے عالات ٹیل ا نکی ریہ کت اغیں 
نا گا جہاں تیرے ہو ےکا امیس وم دمما ن کک نہ ہوگا۔ تیس سے ب یہک آبج یہ بے جے لو گے ایک 
کی کمرر سے ہیں اور کے 220 کیا ہونے دا نے ہیں 

اتل او د عو دائل ذک سے خالی ہی کہ اس وت الد تھا یکی رف سے اوسف علیہ السلا مک وک گی صلی بھی 
و گئی تی اس کے ہیا مود می جو ددایت بیان ہو ئی سے و ہبہ ےک جب ححقرت لوسٹف علیہ السلام 
نوس میں ڈانے گے ذوہ بہت جاہلاۓ اد خحوب ہی کر اننہوں نے پھائھوں سے ریا دکی۔ تق رآ نکابیان 
پٹ ییے آے حسوس ہ وگ کہ ایک ایی وج ا ن کا بیان ہو رہاے جو آگے لک جار نع اضما کی تیم تین 
تخصیتوں میں شار ہونے والا ے_ تگمودکو پٹ سے نو پکھ ایا فتشہ سان آت اکم راٹس چند بد و ایک 
ڑ ےک وکنویسش می ینک رے ہیں اور ود داکی یگ ھکد ہاے جو ہر کال مو پر ری ےگا 


سورۃیوسف حاشی تمبر: 13ھ 

من میں مت صب رکیل“ سے الا طط ہیں جن کا لفطی تزجم"* اچماصر “ ہو سا ہے۔ اس سے مر اداییا ہرے 
مس میں شکایت نہ ہوہ فریاد نہ ہوء تمرم ف زم ضہ ہوء ٹھنڑے دل سے اس مصیبب تک پر داش تکیا جا جو 
ایک عا لی ظمرف انسان پر آپڑیہو۔ 

سورۃیوسف خاشیہ نمبر: 14 ھ 

ایل اور مود یہاں حفرت یوب علیہ السلام کے چا کا قش بھ یھ ایا می ہیں جکسی معمولی باپ 
کے جاشر سے یھ بھی مطلف میں ہے۔ بات لکابان بی ےک تشحب لتتقوب علیہ السلام نے اپذا ران چاک 
کیا اور اٹ ایق کھمرسے ٹا اور بببت دفو کک ان بے کے لیے اق مک رما را“۔ اور جو وکا بیاع ےک ” 
توب ےک نہیں بات بی اوند ھے منہ زمجان پ رگ پڑاادر دی کک بے حس وہ رکمت پنڑارہاہ پچھر اش ھکر 
بڑے زور سے پچ اک ہاں یہ میرے ےب یکا فی ہے :....... اود وو سمالہا سا یک لو سف علیہ السلا مکا 
ات کر جار“ اس قنے میں حفرت لیتقوب علیہ السلام وئی پٹ ہکرت نظ رت ہیں ج ہر باپ ای مو پھ 
کرے گا۔ لیان ق رن جو نقشہ ٹن يکردراے اس سے ہمارے سا ےیک اریے یر معمولی انسا نکی تصویر 
آٹیے جوکال در چ بر دپار وپاہ قارےءا تی بڑی م اگیز خم رح یک بھی اپن دا غکانازن می ںکھو اء اتی 
فراست سے معامم ہکہ میک لیک نو حی تکوپھانپ جا تا ےک یہ الیک :ناد کی بات سے جو الن حاسد بیٹوں نے 
ناکم ین کی ےء اور پھر عالی ظرف انسانو کی ط رح صب رک اے اور خحد اھ روس کر ماے۔ 
سورۃیوسف حاشی ٹتمبر: 15ھ 

اس معالل ہکی سادو صورت ہہ معلوم ہو لی ےک بر ادران اوسف علیہ الام حضرت اوسف علیہ السا مکو 
کنوس بیس وین ککر لہ گے تے بعد می ما لے والوں نے کر ا نکووہاں سے بکالا اور مصرنے چاکر پچ 
دیا۔ گگم پا کیل کا بان ‏ ےکہ بر اوران او سف علیہ السلام نے بعد میس اسماعیایوں کے ایک تقا نگ ہکودیکھا اور 


چاپکہ بوسف علیہ السا مک ھکنویں سے بکال ان کے پا تھ بے دہیں۔ لیکن اس پیل ہی مدبین کے سود اگ انی 
کنویں سے بکال گے جے۔ ان سوداگمروں نے حخرت اوسف علیہ السلا مکو یں روہے میس اسماصیلیوں کے 
اھ ٹیچ ڈالا۔ پچ رآ گے تچ لکر اتیل کے مم نشین یہ بعول جات ہی ںکہ ایر وہ اسماعیلیوں کے پاتقھ حضرت 
وسف علیہ السلا مکو فروض کر اگے ہیں۔ چناغجہ وہ اسماصیلیوں کے بات پیر مین بی کے بر کروں‌ے 
نے 5 1 دوپارہ روش کرات ہیں (مااخظہ ہو کاب پی زا باب ے۳۔-آبہت ۸۵ یت 
۳). اس سے برح ست ورک ان ےک مدین کے سوداگمروں نے لوسف علیہ السلا مک وکنوبیں سے ہا لک 
ابنافلام بناللیا۔ تچ بر ادران لوسف علیہ السبلام نے حضرت اوسف علیہ العلا مکو ان کے قیضہ میس دس کم ال 
سے جھگٹڑاکیا۔ آخرکار اغہوں نے ٢٢‏ در جم بت اداکر کے برادران لوسف علیہ العلا مکو راش یکیا۔ پھر 
انہوں نے ٹڑیں بی درم میس او سف علیہ السلا مکو اسماشیبوں کے پاتجھ بی دبااور اسماعیایوں نے مصرنے چاکر 
نہیں روغ کیا بکڑیں سے مسرانوں بیس ىہ روایت مشپوز موی سےککہ بر ادران اوسف علیہ ااعلام نے 
ضرت اوسف علیہ السلا مکو فروخن کیا تھا. لان دانع رہن جا ےک ق رن انس روایم تکی اید خھیں 
ران 


٠ 


رکو۳۶ 


َ۔ ے۔ 


وَقَال الَزِی امْدَََد مِن مِمْرَلِامََآَكِه ارم مَنْوںڈُعَلّی اَنْيٌنْقَعَنَا أَوْتَكِدَهَوَنَدَا 


َ۔ 


۔-7۶ ۔ 2 یَّ ٠‏ 1 و مہ کے ر0 لاو ے 7 51 
و گذٰيِكَ مکنا لِيْوْمُف ف الَأزضِ و لِنَعَيْمَه مِن تَأویّل الََحَادِیْثِ وَ الله غَاِبّ عَز 


م۔ح ۔۶ 


و الله 
ہ1 لصيِن أََُتَالنَاسِ لا يَعْلَمُوْنَ :5 و لَنا بَلَةَ اَمْنَہ اتَْلهُ حُْکمَا و وِلما ەَ 
گُذلِك غَبْرٍی الْمَحْيِىِیْنَ (وَرَا ٥ال‏ هُوَخ بَيْجِھَا عَنْ تَفْي و عَلْقتِ الابَوابَ َ 


ہد عہےی۔ے۔ے ۔ ٦‏ مس ط 7 ٌ ک٢‏ ئی ود : ٭ّ 
قَالَثْ هَيْتَ نَكَ قال مَعَاذَاللِانْهَرَنٌاَحَسَنَ ا ا ا کی 46۹ھ ×"ە 
حَتَت ہہ وَشٌبِه>َالَوْلََانْ دا بُزمَانَ یک يك عَنَه الموِءََالْتَحْمَاء اِنَهُ 


90 ٰٰٰيئئبب ص9 9 مَهْدَحًا 


ے۔ 
رں سم 


تَا اباب“ قَالثَ ما جَرَآء مَن اَرَادَبِأَْلِكَ مُوَءا الا ان يمَجَن َو عَذَابٌ اَم ي قالَ 


ہے رصے 2‏ یہ ےو “8 وا کے 0۰ وا ے ھو ہے گے ًرے کے ک6 با ہے ص ہے 
می راو دتی عَنن یسوم ان کان قیيْصَّۂ قد مِن قبّل فصزقت و 
۔ 2 


2 ا 


هُوَمِن الَکذِبِیْمَ :5ا ذَان فَانَ قَیْصُه قَُ من مُثْرِ فَكُذْبَت دَهُوَین الشِِقِیْنَ : 

رقال اِنَهُ من کَمْدِ گن“ را تھ حئ وٹ آَغْرض 
.>8 ے ہے ئ۰ 7 
مَتَفْفِیلِذثبك * اك کن من الطِيِیْنَ :کے 


سحعمٍ 
َ۔ 


و۔ .- 


)۔ 
6 72 ہ۔ 31 جے تا ٌَ 
فلنًا را قِيّصۂ قد مِن دہ 


94 تپ 


٣ رکوع‎ 


مص میں جس نس نے اے خر یا 5 نے اہی ید ی گلا کیا ”ا سکو اٹچجی ط رح رکھناء بعد خی ںکٴہ 

یہ ہمارے لیے مفید شابت ہو یا ہم اسے با نالیشس۔ 8 اس رپ نے فو سف کے لیے اس سر مین میں 

جرح روا 9ص“ 077 الیم دی ےکا اتظا مکیا۔ لک ال اپناکا مب۷ر کے در جتتاےء 

گر اکشر لوگ جات نیس ہیں۔ اور جب دہ اپقی ری جوا یکو چان ہھم نے أسے قوتت فیصملہ اور عم عطا 
لس طط رس کم یک لوگو ںکوجم اد یتے ہیں۔ 


شس وین ےک یں دا ئن و ےڈ لن آی ود ایآ رون واڑے دک ےکوی "ای ز* 
لوسیف ن ےکھد اکی پناہہمیرے ری نے تو بے اکچھی منرات چنشتی اور بس ب ےکا مکروں !بکہ ای الم 
بھی فلا یں پایاکرتے۔ لت “دہ ا سکی طرف بڑعھی اوزفو ف بھی ا سکی طرف بڑ تا اکم اپنے رسٹ کی 
ران نہ د مہ لیتا۔ ایانم داہ اک ہم اس سے بدی اور ہے حا یکوڈو کر ریہ پور تقیقت وہ ہمارے 
ہے ہو نول بی سے تھا۔ آخ یکا رٹ شف اوردہ آگے خی درداز ےکی طرف بھاگے اور اس نے می 
ے وم فکا تمیش ون ک رہ پجاڑ دیا۔ دردازے پر دونوں نے اس کے شوہ کو موجو دای اسے دیھت ہی 
عور سک کی م کیا زاس فو سکی ج تی رب یگھردالیٰ یہ خی خر ا بکرے؟ اس کے سوااو ریا زاہو سی 
ےکم دہ قی دکیاجائۓے یا اس سخت عطر اب دیا جائے ؟ “و شف تن ےکہاڑ می جج پان نک یکو ش لک ر ری 
سی او ریگ میا ےآ کے جا اک ا ظرارت کی 4 *اگر 
رتو نیں آکے سے ہنا ہو نو عورت بی سے اور یہ کو جو غاء اور اگر ‏ کا فیس کے سے پا ہو نو عور 
دی سے اور ہہ ھا ل5 جب شوہرنے درکھاکہ وش ف کا ٹنیک چیہ سے ھٹا سے تو انس ج 


پت 


عورتو ںکی چالاکیاں ہیںء واتنی بڑے خض بک ہو ہیں تطہاریی چالیں۔بُوشف٠‏ اس معالے سے و رگزر 
کر اور اے عورت کو اي ۓے تو کی معا نی اتک ؛کوچی | مل میں خطاکار شی _>25۵ 2 

سور ڈیوسف حاشیہ تمبر: ٤ھ‏ 

تل میں اس شن کا نام فوطینا رکا ہے۔ ق رآن ہجید آگے جج لکر اسے ” عزی“ کے اقب سے یا دکر تا 
سھہ جح مت لیے بھی اسستعجا لک ما سے اس 
سے معلوم ہوما ےک بہ شس مصرمی ںکو گی بہت بڑاع بد دار یاصاحب منصب تھا ءک وکلہ ید ھا 
مع ای بااقترار شف کے ہیں جن نکی چ رات ن کہ جاستی ہو۔ پ اگل اورجمودکا بین ےک دہ شای 
حوداروں(ہاڈیی گار ڈ کا اسر خھاء اور ازع جر بر حظرت عبد اث بکن عبااس ر شی الد عشہ سے روابیم تکمرتے 
یسک وہ شابی خز ان ےکا اف ر ول 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 17ھ 

تمود بی اس عورتکانام راچا ( 1118 7) ککھاے اور جھڑیں سے بہ نام مسلرانو ںکی روایات بیس مشہور 
ہوا۔ مھ یہ جھ جمارے ہاں عام شر بٹرۓ کہ بعد میل اس عحورت سے خظر ت او سض علیہ السلام کا اپ ہواء 
ا سک یکوکی اصل نی ے نہ ق رن میس اورنہ اس رانیکی مار سن یں ۔ حفقیقشت بس ےکلہ ایک نی کے مر حے 
سے بہ بات بہت فرونڑ ےکم دوکسی اڑسی عورت سے میا حعکرے ج سکی بد جل یکا ا کو ذائی تج ہو کا ہو 
> لرآنع جی سے قاعدہکلیہ میں تایا گیا ے کہ امت لِلْتَبِیْفِیْنَ ة اَبِْعُونَ 
1ت0هٔ) والدنٹ . عیڈ ریہطت کی کون ہے مز کے کے 
0 ‪ی,-,"7."م0 مردوں ے لیے ہیں اور یاک مر دیاک 
عورتوں کے لیے۔ 


سورۃیوسف حاشی تمبر: 18ھ 

تو دک ان ہ ےکہ اس وقت ححقرت لوسف علیہ السلا مکی عمر۸ اسسال ھی اور فوطیفار ا نکی شاند ار شخصیت 
کو دس کر ہی بج ھگیاتھاکہ یہ لڑکاغلام نیش ہے بل ہی بڑے ش ریف غاند ا نک چم وج ا سے جے عالات 
کیگردش یہاں گے لائی ہے۔ چناغجہ جب دو انیل خر یدرد ہاتھااسی وقت اس نے سوداگروں سےکمہ دیاتھا 
کہ ہہ فلام نہیں معلوم ہوجاء مجھے شیہہ ہو جا ےک شاب تم اسےکمیں سے تچ الا +ھ۔ ای بنا پر فوطیفار نے 
ان سے ملا مو ںکاسا بر جا می سکیا لہ انیس ای ےگ اور ای کنل اعلا کک مار بنادیا۔ ہاش لکابیان ‏ ےکلہ 
ٍ ا نے اپناسب پچھ لوسف علیز الام کے پا میس پوڑ دیااور سواروٹٰی کے یے دہکھالپداتھا اسے اق 
می چزکاہو شید تھا“ ۔(بید انل ۹٭٣۳-١)‏ 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 19ھ 

رت اوسف علیہ السلا مکی تز ببیت ال وق ت کک سح زاین یم خانہ دو شی اورگلہ بانی کے ماحول میس ہو کی 
تی ۔کتعان اور شالی عرب کے علاتے میس اس وقت نہک وگ مم ریاست می اور نہ تھرلن و تیب نے 
کوئی بڑی تزت کی تھی۔ پحھھ آزاد ق انل تے جو وق فو قاہجر کرت رت خھےء اور لن ق انل نے محخذیف 
ما قیں ہیں مصتتفل سکونت اخنا رکر کے مھونی چھوٹی ریا بھی بنالی شھھیں ان لوگو کا ای حصر کے 
پپلو میں قریب قریب دی تھاجو جعاری شال مفرپی ص رحد پر آزاد علاقہ کے پیٹھان تا کا ہے۔ ییہاں نضرت 
وسف علیہ العلا مکو جو تعلیم وت یی عی شی اس میس بدویانہ زن گی کے محاسن اور خائدادہ اید ائگ کی 
حدایر سی ودیدارکی کے عناصر فو ضرور شائل تھے ؛گر اللہ تقاٹی اس وفت کے سب سے زیادہ مرن اور 
تر یافنۃ میک ءیڑنی مصرمیس ان سے جوکام ینا چاہتا تھا اور اس نے لیے جس وا قفیت :جس تھے اورجخس 
ےک رر کین کے نف کی نی ہی مین ان انی نے لیے زع رت 
کاملہ سے یہ انمظام فرمااکنہ ا یں سلطنت مصصرکے ایک بڑے عہدہ دار کے ہال جاہیادیا اود انس نے ال نکی 


غمی ر معمولی صلاعیتو ںکودسل ہکر انیس ای ےگھ اور ابقی جاگی رک منارکل بنادیا۔ الس ط رح مہ موض یداہ وگاکہ 
ا نکی دہ تام قائنتیں پو ری طرح نشو نمیا میں جوا ب کک برو ےکار خھیں آکی خی اور انیس ایک تو 
اگ ر کے اتظام سے وو تج رہہ حاصصل ہو جاۓ جآ تد ہ ایک بڑی سط ت کا عم ونس چلانے کے لے دریار 
تھا ای مو نکی طرف ا سآیت مس اشاردفرماماگیاے۔ 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 20ھ 

ق رآ نکیا نز پان می ان الفاظط سے م راو پالھوم ” شثوت خوطاک را“ ہوجاے۔ ”عم“ کے میتی قوت فیصلہ کے 
ھی ہیں اور ار ار کے ببھی۔ بی اد کی طرف ےکی بن ےکو عم عطا کیے جان ےکا مطلب مہ ہو کہ الد 
لی نے اسے انسائی زن گی کے مواعلا ت گی فیصل کر نکی ابلیت بھی عطاکی اور اخیارات بھی تذو اٹل 
فا ہے رپا تلم“ و اس سے مر ادوو نماض مم یقت سے جو انہیا کو وگ کے ذر بعہ سے بر اوراست دیاجاتا 
ے۔ 

سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 21ھ 

عام طور پر مفسرین اور مت مین نے می مھا ےکم یہال نع رے رب“ کا لفظطا ضرت ابو سف علیہ العلام 
ےن تق کک لے ضا نے ین یت بی دنت کے دن کے نجرا بک 
مطلب بہ ت اک می رے آ مانے فو یھ ارکی اٹچھی رح رکھاےء پچ رمیس می نمنک مع ائی کی ےکر مہو کہ 
ا ںکی وی سے زناکروں۔ لین جھے اس تر جمہ وتقیرسے حخت اختلاف ہے۔ اگ چہ ع رب زان کے اعتپار 
سے بہ مف ہوم لی ےکی بھ یکفیائئش ہے ؛کی وکلہ عرپی میس لفطا رب ”ا“ کے معمی میں استعال ہو جاے لین 
ی بات ایک ن یکا شحان سے بہت ہگ رک ہو گی ےکک دہ ای ک گناہ سے از رج مس اللد تال کے ہیا ےکی 
نر ے کالما ککرے۔ اور ق مان میں ا سک یکوئی نظی بھی موجود کی ےک میا نیا نے حد اکے س وی اور 
کو ابنار بکہا۔ آگے تی ل کر آیات ۴۱ء ۲۷۲ء۵۰ یش ہم دیکھے ہی کہ سینا بوسف علیہ السلام اپے اور 


مصریوں کے مم ککابہ فرق باد ہار وا فرماتے ٹی کہ ا نککارب نے اید سے اود مصربیوں نے بندو کو اپنا 
رب بنا رکھا ے۔ پھر جب آیت کے الفاظطا میس بہ مطلب لی نکی بھ یکنیائنش موجور کہ حطرت لوسف 
علیہ العلام نے رٹ کہ کر ال کی ذات عم رادم ہو 2کیا وجہ ےک بھم ایک ای مع یکو اخقا کر میں بج میں 
صر با قباح تکابہلو لھا ے_ 

سورۃیوسف خاشیہ ٹنمبر: 22ھ 

برہان کے مع ہیں دبیل اور جت کے ر بک بر جالع سے راد خداکی بھائی ہوکی دیل سے جچ سک نا پر 
ححخرت لوسف علیہ السلا مکی زین ان کے نف سکو اس با کا قاع لک اکمہ اس عور تکی دعوت نیش 
قو لک نا تھے زیپا نٹیں ہے۔ اور وو ول کھ کیا ؟ اس پچچلہ قھرے میں جیا نکیا جاچکا ہے؛ مجن بی ہک 
”میرے رب نے تو جے ىہ منزات بش اور مار اکا مکروںء ای خطالمو ںکو بھی فلا نصیب نیس 
ہو اکر ثی“۔ بھی دوبربان حم تھی جس نے سنا سف علی الا مکواس نو خی جو انی کے عالم میس ا بے ناک 
موق پر محصمیت ے ہاز رکھا۔ پگ ریہ جو فرما پا ” یوسف علیہ العلام بھی ا سکی رف بڑحمتا اگ اپنے رب 
کی بر ان نہ دک لیا“ فو اس سے عصمت انا ہکی عقیققت پر بھی پچ ری روج پڑ لی ہے۔ ن یی متصومیت 
کے معفی میہ یش ہی کہ اس سےگناہ اور نز و خطاکی قوت و اسنتعد او سل بکم یگئی سے مت یک گنا ہکا 
صددور اس کے امکان بھی یس می د ہاہے۔ بل اس کے می می ہی کہ نی اگج ہگنادکمرنے پر قادد ہوا سے 
کن بخریتکی قرام صفات سے متصف ہونے کے پاوجودہ اور چملہ انسالی جذ باتء احماسمات اور خو اہشات 
رک ہوۓ بھی ددایبائیک نس اور خداترزس ہوا ےک جان بوچ ہکر مھ یگناوکا قصد نمی سکرما۔ وہ اپے 
تی میس اپنے ر بک ای ایی بر دست گی اور یں رکتا سے مجن کے ما بلہ میں خوا ہش نس مبھی 
کامیاب نی ہونے پائی۔ اور اگ نادانستہ اس سےکوکی اخزشش سرزد ہو لی سے وذ اد تعالی فوراوگی ججلی کے 


ذدیجہ سے ا لکی اصلاع فرمادیتا سے کی کہ ا لکی لخزش تھا ایک شف سکی از نیس مہےء ایک کپوری 
ام تکی لغش ہے ددراوراست سے پال بر ابربہٹ جات قد اگ رای ٹیس میلوں دور نگل جاے_ 
سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 23ھ 

اس ارشاد کے دومطلب ہہوسکتے ہیں۔ ایک ب کہ ال لکاد یل ر بکودمھنا او رگناہ سے پیے جانا ہما ری نو شی و 
رایت سے و اک کہ ہم اپنے اس شخب بندے سے بلدکی اور بے حیا یکو دو کر ناجاتے تے۔ دوس امطلب 
یہ بھی لیا جاسکما ےہ اور ىہ زیاد ہگ را مطلب ےک لوسٹف علیہ العلا مکو بہ محالمہ جھ یٹ آیا نو یہ تھی 
دراص٥ل‏ ا نکی ت یت کے مسلسملہ جیا لیک ضروری مر علہ نتھا۔ ا نکو ہدیا اور بے حیاٹی سے پا کک نے اور 
ا نکی طہارت نف سکو درج ہکمال پر تین کے لے مصصلحت الٹی بیس یہ ناگزیر تھاکیہ ال کے سان 
محصبب ت کا ایک السا نازک موخح بپششی نے رو گیب مائنشی سے وت 7 اپ اداد ےکی ری طافت 
پ ہی زنگاری و تقڑی کے پپڑے میں ڈا لکر لیے نٹس کے ہرے میلانا کو پمیشہ کے ہے 
لت دے ومیں۔ تصوعییت کے سا اس مخصم وص طربقہ تر ہبی کے اختما رک رن ےکی مصملجت اور اببیت 
اس اغلاقی ماحو لکوڈگاہ جس رکنے سے پاسائی سج میں کسی سے جو اس وق تکی مصریی سوسا کی میس بایا جات 
تھا۔ آگے روغ ٣‏ میس اس ماحو لک جو ایک ذدای مجھنک دکھائ یگئی سے اس سے اند اذہ ہو ا ےکلہ اس 
وت کے ”عنزب مر“ میں الوم اور اس کے او جج طب یس پاففوص صنی آزادی قرجب قریب ای 
پانے پیا جس پر ہم اپنے زمانے کے ایل مضرب اور مضرب دہ طبقو ںکو نفائز“ ار ؤں۔ رت 
اوسف علیہ العلا مکو ای مجکڑے ہو ۓ لوگوں میں رہوگ رکا مکر نا تھاہ او رکام بھی ایک متمولی 1وب یکی 
حیثیت سے میں بللہ فرمانرداۓ ل ککی حیقیت ےکنا تھا۔ اب مہ ظاہر ےکہ جو خو اتی نکرام ایک 
مین فلام کے آ گے پھی ار ہی تی ء دہ ایک جو ان اور خ بصورت ف مان واکو ھا نے اور پگاڑنے کے لیے 


کیا ن ہک رگزر تی ۔ ا یکی یل بندی اللہ تاٹی نے اس طر فرمائ کہ ایک طرف نو ابق ای ۴یس اس 
آزمالئشی سےگزا رک ر حضرت اوسف علیہ العلا مکو پخن دکر دیاء اور دوص ری طرف خو دخ ا تین مص کو بھی ان 
سے الو لک کے الع کے سمارے فقو ںکا دروازہ بن دک دیا۔ 

سورۃیوسف خاشیہ نمبر: 24 ھ 

اس معاط کی نو عحیت ہہ مبجھ ٹیل لی ےک صاحب نان کے ساتج خو داش عورت کے بھالی نول یل سے 
بھ یکوئی تنس آ رہام وگااور ا نے می قضیہ ک نک رہام وگاکہ جب یہ دوٹوں ایک دوصرے پر الام لگاتے 
ہیں اور م وش کاگوا مکوگی نیس تید ہکی شبادت سے اس معاط کی یں شی کی جا سی سے لیحض 
رولیات ٹل جیا نکیاگیا ےکہ ىہ شبادت ھپ یکپرنے والا ایک شر خواربیہ ماج وہاں چگکھوڑے میں لیٹا ہوا 
0 لی و ا 
سے اور نہ اس معاٹے میں خو اہ نو اہ شجھزرے سے مد لی ہگ کوک ضرورت بی حسوس ہولی ے۔ اس شاہد 
نے قریی ےکی جس شہاد کی طرف تج دلا کی سے وہ راس ر ایک متقول شارت سے اور ا یکو د ھن سے 
پیک نظ معلوم ہو جا ا ےک بہ تفش ایک محاملہ شھم اور جہاندیدہ آدئی تھاجو صورت معاملہ سان کتے 
تی ا کی تی ہکوہ گیا۔ بعد می ںکہدہکوک ین یا میٹ ہو۔(مفس رین کے ہاں شی خو ار ےکی شہاد تکا 
قصہ وراگل ببددی روایات سے آیااے۔ لاحظہ ہو اقتقاسات مود ازپال احاقی ہرغون, لنرنء "ین 
۶ػ۸۰-_ حمئ ۲۵٢۷‏ 

سورۃیوسف حاشیہ ٹتمبر: 25 ھ 

مطلب بی ےک اگر بوسف علیہ السلا مک ٹنیس سان سے پپٹا ہو فے یہ اس با تکی صر ‏ علا مت ےکلہ 
اقد ام اوسف علیہ السلا می جانب سے تھا اور عورت اپنے آ پکو بانے کے ےکی یریت 
لان گر بوسف علیہ السلا مکا ٹیش یہ سے ھٹا سے نے اس سے صاف خابت ہو تا ےکک عورت اس کے 


یہ پڑی ہو گی تی اور وف علیہ العلام اس سے پ کر لکل جانا چاہتا تھا۔ اس کے علادہ تر ےکی ایک اور 
شہادت بھی اس شہادت مس گی ہی تی دوب کہ اس شاہدنے نجہ صرف اوسف علیہ السلام کے ٹیس 
کی طرف دلاگی۔ اس سے صاف ظاہ رہ وگیاکہ عورت کے حم یا اس کے لمباس پر تشد ودک یکوٹی علامت 
سرے سے پائی ہی نہ جائی تی ء عالاکنہ اکر یہ مقدمہ اقدام زناپابجرکا ہو جا فو عورت پر اس کے کھہ آخار 
نا2 

سورڈیوسف حخاشیہ نمبر :25۸ ھ 

پا تل ہیں امس تی کو جس بھونڑےۓ ریہ سے بیا نک یاگیاےء دہ ملا حظہ ہو: 

تب اس عورت نے ا کا پیبرائن بک ہکہاکہ میرے ساتھ ہم بستزہہوء دہ اپنا ران اس کے بات بیس 
چو ڑکر ھا اور باہر لگ لگیا۔ جب اک نے د بتاک و اپذا ران اس کے ہا میس چو کر پوا کگما نے اس 
نے اپنےگھ رکے آدمیو ںکوب لاک ان ےہاک دیو وہ اع رب یکو چم سے اتیک کے کے عے بہارے 
ال نے آیاہے۔ مہ مھ سے ؟م بستزہون ےکواند رھ سآیااور ولا ِ روا سے چلان ےگی۔ جب اس نے 
دی ھاکہ یل زور زور سے چلارجی ہوں نے اپنا برا ئن میرے پاس کچھو کر چھاگا اور باہ رن لگیا۔ اور دہ ا کا 
چبرائن اس کے آتا کےگھ لوٹ کک اپنے پا ر کے رپی -.۔۔۔۔ جب اس کے آتھانے ابق وک یک دہ 
افش ج الس نے اس سے کی سن لی سک تیرے ظلام نے مھ سے الیا لی اکا فے ا ںکاخحضب بھٹرکا اور 
وسف کے ات انے ا لکول ےکر قید خانے ٹیش جہاں بادشاہ کے قیری بند تے ڈال دیا۔(پید ال 39: 12 
-00))۔ 

خلاصہ ال جیب دخریب روا تکابہ ‏ ےکہ رت لوسف علیہ العلام کے سم پر لپاس جھ انس شک کا تھا 
کہ اوھ ز لان اس پر ہاتھ ڈالا اور ادھر دو رالاس خود نود ات رکر اس کے پاتھ میں گیا !سچھ رطف بب سے 


کہ حخرت بوسف علیہ العلام دولباس اس کے پاش تچھو کم بی ٹچی بر ہنہ بھاک کے اور ا نکا ا2متی ان 
کے تصورکانانقائل الکار ثبوت )اس عورت کے پا نید ہگیا۔ اس کے بد حضرت او سف علیہ الام کے 
مج رم ہونے میں آخ کون کر سکتا تد 

بی آڑے پا تح لکی روایت۔ دب یت مود فو اکا بیان ‏ ےک فوطیفار نے جب ابی ہی کی سے ہہ شکایت سنا فو اس 
نے بوسف علیہ السلا مکو خوب پٹ ایا پھر ان کے خلاف عد الات می استفاظہ دائ رکیا اور حکام عد الات نے 
حفرت لوسف علیہ العلا مکی ٹٹی کا جاتزہٹ ےکر فیصل ہک یاکہ تصورعور تکاس مکی کہ ٹیش چیہ سے چنا 
ےت ہک ہآگے سے۔ لیکن یہ بات ممکعب خخل دی تھوڑے سے خورومائل سے پلسانی بج سلنا ےک 
ق رآ کی روایت تو دکی روایت سے زیادہ رین قجاس ہے۔ آخ ھکس رح یہ باو ہک لیا جات کہ ایاڑا 
ایک ذکیادجاہ تآد می ابق :وکیا پر اپنے خلا مکی دست درازک یکا معاملہ خودعد اات میں ل ےگیاہ وگا۔ 

بی لیک نمیا ترین مثال ہے ق ران اور اس انی روایات کے فر قکی جس سے مفرپی مصمتنش ٹین کے اس 
لزا مکی لغوبیت صاف دا ہو عائی ےکہ مج صلی اللد علیہ و مم ےق بی اص رائیی سے لف لکر لیے 
ہیں۔ بے بی کہ ق رالن نے فا نکی اصلا حکی اور اصل داقعات د خیاکوبتاۓ ہیں- 


٣وکر‎ 


وسر سر یت 


و اتت 6 وَاحدق مه يَنهُنٌ سِعّیْٹا و قَالتِ اعْرمْ مَلَيْهنٌَْ فَلْنَا رَآَيْنَد اََسََيَِنَہ و 
قَصُمْن اَويِيَهُنٌدَهُذْحَ حَاحَ.لأومَا هُذًا بَکَراِنهدَآالَّا مَنَش کریز رق فَاتَت نَذيصَُنٌ 
الَرن لُنَنْنًی فِیْوٴ دَ لَقذ رَاوَذْثَّة کن لئے فَامَتَفْصِۃ ری تر کر تام 
کے یں الضغرِينَ کا قَال رب الیْۂ خر ت لاب عَو تا الد وَال 
ہبہ ہہ بن الهلِنَْ () فَامْتمَابَ ذ ل۵ك رَتّه فضَرفقَ 
عَنَهُكِیْدَهُ اِنَدُمُوَالشَيِیْعَالْعَدِعُ هينُرَنَدَ لَهضِن بَعْدِمَازَآَؤا الایِتجِلَيَنْجْكْثَهً 


۱ 
2-7 


2 2 
“جم یی 
۳۵٣‏ 
حجی حین(2ھ) 
2 


٣ رکوء‎ 


ش رکی عورتیں آلیں میں چ رن گکی کہ ”زی زی ویو اپنے نوجوان لام کے کے پڑکی ہولی ہے 
محبت نے اسے بے نقال دک رکھا سے جمارے نزدیک موہ ص رجح تل کے “انس نے جو ا نکی 
رن یس صن ا نکوپاا دا سد ا او زان کے لیے کیہ دار لس آنراست کی _اور ضیافت میں ہر ایک 
کے آگے ایک ایک پپچھفرکی رک دئی۔ لاجر عین اس دقت ج بک وہ کی لکیا ٹکیا فک رکھارجی میں پل اس 
نوف کٹا ک کان چون کی کربت خ نزک نکی سنج و نک کک اور 
اپنے اق کاٹ جیشلیں اور ہے ساخت: انیل ” ۶ 7 بت 
ہے۔“ عزیدکی ہدئیان ےکھا” دجچھ لاہ ہے لاہ نیس جس کے معاللہ میں تم مھ پر یں بناتی ت!یں۔ 
بے گنک می نے اسے ر ”مان ےک یکو کی عصی عرب ھا ام مہ می راکہنانہمان ےگا نذقی کیا جائۓ گا 
7277 گا۔ نے ضف ن کہا اے میرے زی اق رج منظورے ہہ نسبت اس ےکلہ 
وومئں ےسیو نر کے عتصین 
کے دام میں مچٹس چاو ں گا اور جابلوں بیس شال ہورہوں ہے گا “...اس کے رٹ نے ا لک ڈعا قجول 
کی اور ن عورتو ںکی چالیس اس سے د کر ریہ بے کلک ودی ے جو س بکی ختمااور سب یھ جانا 


سے۔ 


پھر ان لوگو ںکو ىہ وھ یکمہ ایک نت کے لیے اسے قی ہکم دی عالاکمہ د٥ا‏ سک پاکند می اور خود ایی 
عورنقوں کے برے اطوا رکیپ ص رن نشانیاں د بد گے تھے۔ 0اخ م 


سورۃیوسف حاشی تمبر: 26ھ 

ین ابی یس جس میں مہمانوں کے لیے کی کے ہو ۓے ے۔ مصرکے آنارقدبیہ سے بھی ان کی تد 
ہوئی ےک ا نکی میلسوں میں گگیو ں کا استعال بہت ہوم تھا 

اتل می اس ضیاف تکاکوگی ذکر فیس سے البند مود میس یہ واقعہ بیا نکیاگیاسے ہ گر وو ق رآن سے بہت 
ٹلفے۔ ق رن کے بیان میس جو زن گی ءجو رو جو فطریت اور جھ اخلاقیت پائی حجائی ے اس ےت مو وکا 
ان پالنل ای ے۔ 

سورۃیوسف خاشی نمبر: 27ھ 

اس سے اندرازہ ہو تا ےکہ اس وقت مع کے اوخ بقو ںکی اخلاقی عال تکیا تی ظاہرےکہ عزی کی 
ہی ےک کرراںاکر ے غ-- درو ں ‏ کک کی کات ایم نکی بات 
عالپی رحب خو اشن کے سام وہ اپنے محبوب نوجوا نکو ٹپ یک رکی سے اور ا سکی خو بصورت جو ای دکھاکر 
یں تام لک رن ےک یکو شک کی ےکسہ ایسے جو الن درعنا پر ین رنہ شی آخر او رکیکرئی۔ پچھ ریہ بڑے 
گھرو ںکی بہو بیٹیاں خود بھی اپنے عمل سےگو یا اس اھ کی تصصدر لق فرمائی ہی کہ دا نی ان ٹیس سے ہر ایک 
ابیے عالات یں وی پک ہک کی جو میم زین ےکیا۔ پچ رش ریف خو خی نکی اس بجھربی میلس میں مز مینزبان 
کو علاغیہ اپنے اس عز مک اظہا کرت ہو ۓےکوکی شرم سو س نہیں ہو کہ اگ ال کاخ بصورت خلام اس 
کی ای سگککھلوزا نے پر راضشی نہ ہو اقذدد ا سے جیل کجتو ار ےگی۔ ىہ سب پلتھ انس جا تکا پت دیتاے 
کہ ورپ اود ام پلیہ اور ان کے مشرٹی مقلمرین آرج عو رتو ںکی جس آززرادکی و لے باک یکو ٹیسویسں صدبیکی 
ترقیا تکرش بجھدرہے ہیں دہکوگی نی چ نیس ہےء بت پدای یز ہے۔ د قینوس سے سیڑوں ب رس پلیہ 
میس یہ ای شان کے ساتھ پائی حجاقی ھی جیی یج اس ”نر وشن زمانے “ یس پائی جار ہی ے۔ 


سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 28ھ 

بہ آیات ہمادے سائے الن حالا تکا ایک جیب نقشہ شی لک کی ہیں جن میں الس وفت نحخرت اف علیہ 
ام 0 جے۔ این یسیا ل کا ایک خوبصورت نوج اع ے جو بدو پان زن گی سے مبترین تقد رس اور 
بھری جواٹی لیے ہو ےآیاے۔ خر یہ جلاوشنی اور جب ری لا بی کے مراعل سےگ"زرنے کے بعد قمت 
اسے دٹیاکی سب سے بڑی ممقمرن سلطنت کے پارہ تحت یس ایک بڑے متس کے ہاں نے آ کی ہے۔ بیہاں 
پیل وخود ا سکھ کی میم يہ ال کے چیپ انی ہے جس سے ا کا شب درو زکا سابقہ ہے۔ پھر اس کے 
تس ن کاچ چاسارے دارالسلطنت میس بپچھیلناے اور شب رھ ر کے امی رگھرانو کی عور تیں اس پر فریمنہ ہو جالی 
ڈیں۔ اب ایک طرف ددے اور دوس ری رف سیگکڑوں خو بصصورت چال ہیں جو ہروقت ہ رجہ اسے بدا نے 
کے لیے یل ہو ہیں۔ ہر طر عکی تم ہیر رس الکن کے جذ جال تکو بھٹکانے اود اس کے زہ دکو نو ڑنے کے 
لی ےکی حجاردی ہیں ۔ جدھر جاتا ہے می دبتا ےک گناہ اتی ساریی خوشذمائیوں اور ولنریبیوں کے ساتھ 
دا کے ا ںاخظر رکھر نے کوئی و بُور کے موائحع خودڈھوڑھتاےء گر یہاں خوو موا 03- کو 
ڈعونڑرے ہیں اود انس ماک میں کے ہو ۓ ہی ںکہ جس وقت بھی اس کے ول میں بر ال کی طرف ادلیٰ 
یلان پید ابد دہ فورااپنے آ پکو اس کے سان یی سکم دیں۔ رات دانع کے چو شی ں کنل وہ اس خطرے میں 
تک یف نے ین کے رات کش ھن نے کن نک 
ان بے شمار دروازوں میں ےکی میں داخل ہو کنا سے جو اس کے اتظھار بی ککھلے ہہوئے ہیں ۔ اس حالت 
ٹس یہ خد ابر ست وج الن جم سک میالی کے ساتھ ان شیطالی تر خیبا تکا مقاہل ہک اسے دو ہجیائۓ خود چا کم 
ال تر یف نڑیں ہے گر ظ ہدس کے اس حرت ای کمال پر عفان ٹس اور طہارت کک رکا ھی کال 
بے ص2 9 اہ خیال نغہی ںآ کہ واورے میں مکی مضبو ید ے می ری 


یبر تکہ الییا ال تین اور جو ان عور ٹیں می رک یگرویدہ ہیں اور پچ بھی میرے قدم یں کچسلتے۔ اس 
کے بھیائے دہ اپتی بش رب یکمزدرایو لکا خیا لک کے کانپ اٹھتتا سے اور خہایت عاتتزکی کے ساتھ خداسے مدکی 
لاک تا ےکم اے رب یل ای کفکمرود انسائن جھولء مر ااتفائل اد کہا کہ ان بے پناہ تر غیبا تکامقابلہ 
کر سکوں, نوج سہارادے اور بے باہ ڈرجا ہو ںک ہیں میرے قدم کیسل نہ جائیں ۔ در متقیقت یہ 
رت اوسف علیہ السلا مکی اخلاقی تز بی تکااام ترین اور نازک تین مرعلہ تھا دیاتء امانتء عذتء 
جن غنابسیء راست روکیء انضباطاء اور نذازن ذہٴن کی غمیر صعموبی صفات جو ا ب کک ان کے اندر ہی ہوک 
میں اور جن سے وہ خود بھی بے خج رہ دوس بکی سب اس دید آزمائنشی کے دور یس اب رآئیںء 
پرے زور کے سماق کا مرن ہیں اور نین خو بھی ملوم ہگ یاکہ ان کے انم رکون کون شی خو تج 
موجود ہیں اور ود ان سےکمکام نے سکتے ہیں۔ 

سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 29ھ 

د کر ناس می میس ےک لوسف علیہ السلا مکی سرت صا یکو ای مضبو ما شش دب یگکئی جس کے مقابلہ 
الع عو رتو ںکی سماری تہب میں ناکام ہ ھکر رہوگنیں۔ نیز اس می می بھی سےسسہ مشیت الچی نے تی کا 
دروازوان کے لی ےگھلواویا_ 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 30ھ 

اس طرح حضرت اوسف علیہ السلا مکاقید میس ڈالا جانادر عقیققت ا نکی اخلاقی اور مس رکے پوورے طبقہ 
ام راو کا مکی اغلاٹی گلس ت کا اخمام و اعلان تھا اب حضرت اوسف علیہ ااعلا مکوٹی یر محروف او رگمنام 
آدئی ضر سے تھے سارے ملک یں ء او رکم اکم دا رالساطنت ٹیس پوعام وخما سب الع سے واقف ہو گے 
جھے۔ جس خف صکی داغریب شخصیت پر ہیک دو ٹہیںء اکٹروبیشنخربڑ ےگھ راو ںکی وا تین فرییہ ہوں ‏ 
اور جس کے فصنہ روزگار صن سے اپ ےگھ گمڑتے وس کر مصرکے کم نے اپ خی یت ای یس د جھی ہو 


کہ اسے قیدکر دییء ظاہر کہ ایاشنحس چا نیس رہ سکنا تھا۔ بیقناک کم ا کاچ چا گی لاہ گا عم 
طور پر لوگ اس بات سے بھی واقف ہو گے ہوں ےک بر تن سکیس بلند اور مبوط اود کیہ اغلا یکا 
اضاان ہے اور بھی جان گے ہوں گ کہ اس شی کو یل اپ ےکسی جم پر نیس با اہ بکہ اس لے 
بھی ایا ےکہ مصرکے امراء اپتی عورفو ںکو تقابو بیس رک کے بعیائۓ اس گنا ہکو جیل می دینازیادہ 
آسائن پا ھے- 

اس ےب بھی معلوم ہو اک کسی شی سکو شر ائط انصاف کے مطاب عدالت یس رم نابت سیے یرہ بس 
ٹچ یکر خیل شی ینہ بے ایمان جکمررافو ںکی پر انی سنت ہے۔ اس معاملہ بیس بھی نج کے شیا ٹین چار 
نرار رس پیل کے اش رار سے بین بہت زیادہ ملف نی ہیں۔ فرقی اگمرے لیس ی کہ وو“ تھسوریت کا 
ام یں لیت تےء اور بیہ اپنے ال نکر نوقوں کے سا می نام بھی لیے ہیں۔ دہ مقائون کے می اتی خیر تقانوٹی 
نی سک کے تا اردان دق کے لیے سے ایک نون“ بنا کت ہیں وہ صاف صاف ایق 
اع زا نے لیے لوگوں پر وست درازکیکرتے سے اور ہہ مج پر پا و لئ ہیں اس کے متحل دن اکو ٹین 
دلان ےک یکو شش کرت مہی کیہ اس نے ا کو کی بہ میک اور قو مکوخطرہ تھا خر وہ صرف نلم تے_ 
یہ ال کے ساتجھ گھوئے اور بے <یا بھی ہیں۔ 


رکوع۵ 


‌١ 2 


وَكَعَلمَعَدَاليِجْنَفَعَٰنِ کال كت اخ ارىی اع رٌخٹر حَقٌّا وَقَالَ الأعَو 


سر ے 
۸۵ 


صم 
2 
ارسزی 


٦ 


َ‫ وط 
اخمل فوق زاسی خلا تَا الطَتومَئه کِِمْتابفاوللہٴ اِفَائَزيك سن الِتْحَىتنن 


َ۔ 


886+" جج ٹن تا ذِیَباً 


7ء-) 


مھ اہ ۔ ١‏ ہہ ہ2 .6ک 720٦‏ 
بِن فَضْلِ الله عَلَيْنَا و عَل النَاسِ دَ لن اَحَتدَالنَاسِ لا یَفََْرونَ (5 یصَاجی 
۔ ْ ۶ ٍ 


]7 ہ_۔ اہ دد دے۔ ط لس وٹ- 
الطْجُن ءَاَرِبَابً مُکَفرٍقونَ خَيَرّ ام الله الا جن الْقَهَارُ (5) ما تَعَبِْدَوْنَ مِن دوَیَة !لا 


۱ 


ء سَمَْیْمموْهَا انگ دَابَاؤممکَا اَنول اللہ بَا مِن ملطنَ ان الْمْکَ الا للہٴ آَممَال 
تعْبْدُزًا الّايَاۂ ذْيكَ زی الک لین ات النَاس لا یَغْلَئونَ (ج یصَاجی 
اتکی اکا کا سی تا کہ وکا اھر مت ماک کی 57ا 

ُييٰالْْرالّيِن ذيْهِتسعذعِيِب (ہ ذفَالَلِلَِنْك و أنَدَُاِيِنهُما ا لت جن زبَكَٴ 


ےَ ٦‏ ۳ل ومں 2 طِ 
فَاَنْة القَيْطنوِتَرَرَيِو فلت ي الیْجُن بضْے سِىِيْنَ کا 


رکوع ۵ 


تر وق جن 1ے دونماام اور تھی ال ماظرر اق ہرے_ 2اک روز ان نے آ لیے انت 
۶1 متس نے خحو اب میں دریکھا ےکہ میں شر ا بکشی رک رہاہہوں۔ “ کے ےکی 2ء0 
مہرے سرپ روٹاں ر تھی ڈیں اور یر نے ان کو کھارے ہیں۔“ دوٹوں ن کہا یں ا سکی تی رتھایئ ء 
ھم د یھ ہی ںک ہآپ ایک نی ک آ دی ہیں۔ "ضف ن ےکہا: 


یہاں ج کھانا ہیں ملاک تا ہے ا آنے سے پیل یٹس ہیں ون خو او ںکی تی ربنادو ںگا_۔ یہ علم ان 
موم یش سے ہے جو میرے رٹ نے مج خطا یی ہیں۔ داتعہ ہہ ےکلہ بیس نے ان لوگو کا طر ینہ سچھو کر 
اش پر ایمان یں لاتے اور آخر تکا انا کرت یں آٹنے ہز رگوں ء اب خی /ء اسعاقی اور یتقو کا ط راہ 
ایا رکیاے۔ جمارام کام نیل ےکہ الل کے ساط کس یکو یک تھب راھیں۔ در یقت یہ اکا فضل سے 
ھم پر اور تمام انسانوں پر ولاکہ الس نے اپنے اکس یکا تد یں تی ہگ راوگ شک خی ںکرتے۔ 
اے زنداں کے سا یہ تم خودبی سوچ کہ بہت سے ضطرق ریب ابر ہیں یادہ ایک اللد جو سب پر غالب 
سے؟ ا سکو چھو کر تم ج نکی بن دک یکررے دو اس کے سواپجھ یں ہی کیہ اس چند نام ہیں جو تم نے اور 
شمھارےآ پا اجد ادنے رک لیے ہیں ء اد نے الع کے لی ےکوگی سد نازل نکی ںکی۔ خرماں روا یکا ات ار الد 
کے سو ای کے لیے نیس ہے۔ ا سکا عم ےہ خود اس کے سوا ت مک یکی بنل گی ن ہکرو۔ بجی وی سیدعا 
ےت مز رر مرا ھررہود نو رک رو کی اید 
کہ تم ٹیش سے ایک و اپنے رٹ دشا مص ری ہکو شر اب پلاے گاء دبا ڈو سس رات اسے مموٹی یپ چڑعایا 

اد پر ندے ا کا سر فو فو خک رکھاکئیں گے۔ فیصلہ ہ گیا اس با تکاجوت ئو چچھ رے سے 34 “ 


چھ ران میں سے جس کے متعلق خیال تھاکہ دہ ربا ہو جا گا اس سے و شف ن ےکہاکہ ”اپنے رٹ ظشاہ 
مص رپا ے می اہک رکر نا۔ “ عم شیطاان نے اسے الما غفلت میں ڈالا رووا رٹ جلا شاو مض یچ سے ا کا 
زک رکر ناو لگمیاو روش ف کیا سال قیدخانے میں ارہد 5ج۵ 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 31ھ 

لاس وت ج بک حخرت لوسف علیہ السلام قید سییے گے ا نکی عم ریس اکینس سال سے زیادہنہ ہوگی۔ 
مود بیں جیا نکیاگمیا ےک قید خانے سے بچھو کر جب وہ ممص کے فر مان واہہو ئۓ و ال نکی عم ریس سال 
تی ء اور ت رآ نکہتا ےٹکہ قید خانے شی وو یضمم سنین ]کی سال ر ہے۔ بضہ کا اطلاقی ع ری زان یش 
دی کک کے عدرد کے لیے ہو ماے۔ 

سورۃیوسف خاشیہ ٹنمبر: 32ھ 

یہ دوغلام جو قید خانہ میس حضرت اوسف علیہ السلام کے ساخمنہ واشل ہو ہے جے ان سے متحبق پاب لکی 
ردابیت ےکم الن میس سے ایک شاہ مر کے سا ٹیو ںکا صردار تھا اور دو حر اشھابی نان پائیوا یکا ارت ودک 
ان ےکہ ان دونو ںکوشاہ مصرنے اس تصور پر ققیل جیا تھاکہ ایک دعوت کے موئح پر روٹیوں میں ہک 
ک کم اہٹ پائیگئی تی اور شر اب کے ای کلاس میں ملھی کل کک یت 

سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 33ھ 

ا سے انداز ٥کیا‏ جا مکنا ےہ قید خانے میں حطرت اوسف علیہ السلا مس اہ سے دبکے جات جے۔ 
ایر جن داقعا تکاذک رگزر چچکاے ا نکو ٹیل نظ رن سے یہ بات تقایل تب نیس رہق کہ ان دوقیریوں 
نے آخر حضرت لوسف علیہ ااعلام بی سے اکر اپنے خو ا بک تح کیوں او کچھی اور ا نکی خحد مت میں ىہ 
نز رعنظیر تکیوں ہن کہ افو اض چک مرا رسب را زس 


ےک تح سکوقی مجرم ٹیس ہے بل ایک خہایت یک لفس آ دی ہے مخت نزی نع آزماکوں میس اپاپ 
رکشت رے :نار ے کپ ین ایت دو یف سا نکی وس رت یک کک 
کے پر بی پیٹچواوں میں بھی ا سکی نظیر مفقور ہے بچی وجہ شع یکہ نہ صرف قیدی ا نکو خقیر تک ٹاہ 
سے د یھن تے بللہ قید خرانے کے ام اور اپارتک ان کے متنقلد ہو گے تے۔ چناخیہ کیبل میں ےک ” 
قید ان ےکی داروفہ نے سب قرو کو جو قید یس تے وسف علیہ السلام کے پاتھ میں سو تا اور جو ہن وہ 
7ت ای حم سےکرتے تھے اور قید نما کا دارویمہ س بکا مو لکی طرف سے جو اس کے پاتھ میں جے 
ے ری“ (ییر النشی ۰:۲۳.۲۲٠٭)‏ 

سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 34 ھ 

یہ نقریر جھ اس پا رے جھ ےکی جان سے اور خود ق رآنن میں بھی توحی کی کبترین تقریروں میں سے ےء 
اتل او جم وی کی ا سکی طرف ادن اشاروکک نین کے وو حضرت لوسف علیہ العلا مکو حض ایک 
دانشمند اور پر ہی گار آد کی عیشیت سے پی یکرت ہیں گر ق ان صرف بھی خی کہ ا نکی سیرت کے 
ان پپہلوئو ںکو بھی پا بل او رجمھ دکی ہہ نسبت بہت زیاددروش یکر کے یی ںک ماس ء بلکنہ اس کے علادددہ بم 
کو یہ بھی بتاا ےک نطرت اوسف علیہ السلام اہن الیک تٹہر انہ مشن رک تے اور ا سکی دعوت و تین کا 
کام ان ہو نے قیدخانہ ہی میں شرو گر دیاتھد 

آتقریر ای نیس ہ ےک اس پر سے و ٹچی سر صری طورپ رگزر جائے۔ اس کے مع دلو اریے ہیں جن پھ 
توجہ اور مور وگ رک رن کی ضرورت ے: 

(۱) یہ پہلا مو سے چکہ حضرت لوسف علیہ العلام پ مکو وین جن نکی تل کرت نظ رآتے ہیں ااس سے 
لے ا نکی داحتالن حیات کے جوابات خ رآلن نے میں سے ہیں ان ٹیس صرف اغاق ناضل کی ٹلف 


خصوصیات مخلف مر علوں پر اب ری ری ہیں گر تن کوک نشان وہاں نٹیس پایاجانتا۔ اس سے خابت ہہو ما 
ےک پیل مراعل شعن تیادی اور بیت کے تے۔ نبو تکاکام عھلا اس قید خمانے کے مر حلے یس ان کے 
سر دک یاگاہے اور ن یی حیثیت سے یہ ال نکی بی تق یبر دعوت ہے۔ 

(۴) بی بھی پہلا مو ےکلہ انہوں نے لوگوں کے ساسح انی اصلیت ظاہ رکی۔ اس سے سے جم دبکعتے 
لک دد ہابت تم 00-0 "تو" اس عال تکو قجو ليکرتے ر سے جو ان او ٹیل کی جب ال والوں 
نے ا عکو پک کر لام بنایاء جب دہ مع رلاۓ گے ء جب ا یں عزبیز مص رکے بات فروغن تک یاگیاہ جب انیل 
یل بھیھاگیاہ ان میں ےکی موئحپ بھی انہوں نے مہ فیس با یاکہ میس ایر انیم و اسحاق علیہ السلا مکا تا 
ہوں اور تقوب تلیہاالسلا مکا بنا ہو ۔ الن کے پاپ داداکو کی غیر مروف لوگ تہ تے_ تا لے وانے خو اہ 
ال مین ہوں ما اسامییہ دونوں ان کے خاندا نس تقر می علق رن وانے بی تے_ ایل مص ربھ یکم از 
عم حضرت ابر ائیم علیہ السلام سے نو ناواقف نہ تھے (بللہ حظزت او سف علیہ السلام جس اند از ے ال کا 
اور ححضرت تقوب اور اسحاقی لہا السلا مکا ذک رک در ہے ہیں اس سے انلذازہ ہوا ےک"ہ یں ہز رگو ںکی 
شورت مصرمیں کی ہوئی تھی لان ححضرت اوسف علیہ السلام نے می باپ داداکا نام ےکر اپ آ پک 
ان عالات سے ہیا لک یکو شش نہک یک جن میس دہ لے یر پاچ سال کے دوران یش متا ہوتے رہے۔ 
ذالباوہ خود بھی اٹپھی طرح بجھ ر سے ت کہ اللد تعالی ج ٹہ ایس بنانا ابا ہے اس کے لیے ال کا ان 
عالات سےگزرناتی ضروریی سے ۔ گر اب انہوں نے تضحض اپتی دعوت وخ نکی اط راس جتقیقت سے پر دہ 
اٹھا کہ می لکوئی اور نر الادین پیٹ خی سکر رباہوں بللہ می تلق دعوت تو حیدکی اس عا لی رحح یک سے 
سے جس کے آآئمہ ابر ایم و اساقی ولتقوب مل ہم السلام ہیں ۔ ای اکر نا اس لیے ض روریی تھاکمہ دای بھی 
اس دعوے کے ساتھ ٹیس اٹھاک کہ دو ایک خی بات یلک دہاے جو اس سے پیل ہکس یکوشہ سو کھی تھی 


بللہ سے قدم می پر ہہ با تکھول دیقاہ ےکہ میس اس از وابدکی عقیق تکی طرف بلارہاہوں جو پھیشہ سے 
تمام الف می لںکرتے رسے ہیں۔ 

(۳) پھر رت اوسف علیہ العلام نے جس رح ابی حلئنغ کے لیے موشع بکالا اس میں ب مک و حکمت تن کا 
ایک ام سب ماما ہے۔ دو آد ھی ابناھ اب با نکرتے ہیں اور اق عتقییرت منل دک یکا اظہا کرت ہو ئے الس 
ا ہے لئے ڈیں۔جو اب یس آپ فرمات ہیں کہ تب نہیں تننہیں ضرور تاوں گا اھر پیلے یس ناو 27 
صلمکا ماخ ذکیاسے مج سک بناپد میس ہیں تحییر دیتاہوں۔ اس رع ا نک بات می سے اپتی بات سن کا 
موئح کا لک آپ ان کے سانے اپنافین ٹن لک ناخشرو عک دتتے ہیں اس سے بہ سب ما ےکم فی 
لوق حکسی تخس کے ول می اگ ر جع نکی دن سائی ہوئی ہو اور وہ حکمت بھی رکتا ہو یی خو بصور تی 
کے ساتق دو گنگ وکا رخ اپقی دعو تکی طرف پیر نے صے وعوم تکی دح نکی ہوگی نییس ہوثی اس 
کے سا تو مواقع پر موا قح آت ہیں اور وہ بھی مس وس پک ناک بہ مو تع سے اپ بات سک ےکا گر وہ 
جیے دع ن گی ہوئی ہوئی سے وہ مو کی جاک می لگار بت ہے اور ات پاتے بی ابناکام ش رو عکر دیتاے۔ 
ابد بہت فرقی سے شی مکی موب خناسی میس اور اس نادان مو کی بھو نڑی تغ میس جو موب وت لکالھاط سے 
یر لوگوں کےکانوں میں زبردستی اہی وعوت تٹھو نم ےک یک وش کر ماے اور پچھرمیچڑین اور جنکٹڑ الو بین 
سے ا یں الطا شض کر کے تچھوڑ ما ے۔ 

(۳) اس سے بہ بھی معلو مکیا جاسکنا ےہ لوگوں کے سام دعوت دبین ٹین یکرن ےکا ج ڈی ککیا 
ہے حضرت اوسٹف علیہ السلام چو بی وین کے مضمحہلی اصول اور ضواہا بن لکرنے شروع نی کر 
دتن رہ ان کے ساسمئے دن کے انس فقطلہ آغا کو یی ليکمرتے ہیں جہاں سے اٹل عق کا راستہ اٹل با ل کے 
راستوں ے جداہو جا ےء لن توحید اور ش ر کک فرقی۔ پھر اس فر کو وو اللے ممقول طریقے سے وا 


کرت ہی کہ عقل وام رکیے وااکوگی تن اس محسوس کے بغی نہیں رہ سلتا۔ خصوخیت کے سماھ جو 
کک نت ان سے فا ت ےن کول دن تفر ات کو نار 
پیشہ لام تے اور اپنے د لک یگہرائیوں بی اس با تکوخوب سو سکر نے ت ےکلہ ایک آت اکا غلام ہونا 
بر سے با بہت سے آ ماک ںکاء اور ساارے ججہاان کے آ ت کی بندگی پہتر سے پابندو لکی بنلدگی۔ پچھر ددم تبھی 
ون کے کن ڑا مرے با ڈنف کا ال کے م رنڈ اور ےتور دن 
ال کا یکننابڈ انل ےکہ اس نے اپینے سوا مک اص یکا ند نیس بناپاجھر لوگ ا سکاشگکر اوا نی سکر تے اور 
خواہ تن اوخ وک رگ کر اپنے رب بنا اور ا نکی بن دگ یکرت ہیں۔ پچمردہ اپنے مخاطبوں کے دن پر تقیر 
بج یکرت ہیں گر تہایت متقولیت کے ساٹ اور ول آزاریی کے ہر شا سے کے یر یس اتنماکننے پر اکنا 
کرت ہی سک ہہ معتبود جن یش ےکس یکو تم ان دانا سک یکو مد اود نحقت ؛م یکو ایک ز مین او رازیب 
دوات پا مقار صحت وم رت وغی رہ کے ہہوء ریہ سب خالی خونی ٹا بی ہیںء ان ناموں کے تی ھکوکی یی ان 
دا اہی ود اون گی اور ماککیت ور پوبیت موجود میں ہے۔ اصمل انک اللہ ای سے جے تم مھ یکا نات کا خالی 
ورب لی مکرتے ہوء اور ال نے ان یل س ےکی کے لیے بھی حداوندکی اود معبودبی تک یکو گی سند نیس 
اتادیاے۔ الک نے فو فرمانروائی کے سمارے توق اور اختیارات اپنے بی لیے تخصم وھ ر ھے مہیں اور ا کا 
حم ےک تم اس کے سو اک یکی ین گی شہکرو۔ 

(۵) اس سے بھی انداز ہکیاجا سنا ےک حضرت لوسف علیہ العلام نے قید ان ےکی ز ندگی کے یہ آھ 
زا لیکن طر حگمزارے ہہوں گے لوک کینخت ہی نک ہف رن یق کل نع کے ایک بی دع اکا کر 
سے اس لیے انپول نے صرف ایک می دفعہ دعوت دین کے لے زبا نکھوٹی تھی گر اول فیک توخم ر سے 
متعلق ‏ مھا نکرنابی خت بدمای ہ ےکہ وواپنے اص لکیام سے ناف ہوگا پھر جس تن سکی لیفی دع نکا 


یڑھال تھاکہ دو آ دی تتبی رخ اب پوت ہیں اوردہااس موئ سے فائد داٹھاکر دی نکی فن رو حکر دیتاے 
اس کے علق کی ےما نکیا جا سکم ےکہ ان نے قد خانے کے مہ چند سال نا موش ب یگمز ار دپے ہوں 
گے۔ 

سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 35ھ 

اس متا مکی تی رین مفس رین نے ب ہکا ےک ” شیطاان نے حضرت لوسف علیہ السلا مکو اپنے رب مجن 
الہ تال ی کی یادسے اش لک دیا اود اہول نے ایک بندے سے چاپاکہ دہ اپنے رب ( یجن شاو مص )سے ان 
کا کر کر کے ا گار بائ یک یکو شچن مک یھرےء اس لے الد لی نے ال نکو یہ سز اد کہ دہکئی سا کک جل 
ا پڑےر ہے “۔ در یقت یہ تقسی الک ل قاط ہے۔ جع بھی ہے ہج کہ علامہ ا نکی رہ اور منف ین میں 
سے مبابد اور م بن ا اق وخب رون کہا ےسک فَانلسهُ الشْیْظنْ کے رن دکی خر اس شی سکی طرف 
پھرٹی ےجس کے متتحلق حضرت بوسف علیہ السلا مکاممائن تاکن دەرہائی انے ولا ے٠‏ اود لس یت کے 
تنا ہی کہ ” شیطان نے اسے اینے آمقا سے حضرت او سف علیہ لمعلا مکا ذک کر نا کچھ دیا“۔ اس سلسلہ 
یس ایک حدیث بھی ین ںکی عائی ‏ ےکہ نی صلی اللد علیہ وسعلم نے فرمااکہ ”اکر وسف علیہ السلام نے وہ 
ات ن ہی وی جھاغبوں ن ےکی وو قید ٹ سک سال نہ پڑے رج “۔ لیکن علامہ ای کشر فراتے ہی کہ 
” یہ عدیث جے طریقوں سے روای تک یگئی سے ووسب مضیف ہیں۔ لت ط ربیقوں سے ہہ مر فوعاروابیت 
کیاکئی سے اوران میس سفیان بن دس در ابر ائی بن یی روگ ہیں جو دونوں نا تال اعد ہیں _ اور 
ریقوںل سے ب مر سلات ددایت ہہ وگ ے اور لی-ے معاملات میں مرسملا تکا اختبار غیڑ سکیا جا سکتا“ علادہ 
ری ددایت کے اعتبار سے کی ىہ بات ہاو رکر نے کے تڈائل غیں ےہ ایک مظلوم تن انید ہائی کے 
18 7 و و راج 


و قَال الْمَلِكٌ١ِقّ‏ زی مَبَعّ بقرتِ مِمَان بَأَصلْهَنَ مَبَْعّ عجَافٌ ذَمَبْعّ منْبْلتِ خُر 


٭ ).۲۴ ہو ھ0 2223 مہ 7 ہیں وًَ۔ : 
ریبدت يَأَيها الْمَلا اَفْمُوْن ف ے عم ےت 


خلا سک 
أحَةٍ آتا أتبِمُکُم بَأوشلہ فَأَزْيِلوْن ( يُوْمفُ اَيُھَا لیتق آٹًیتا ‏ مبٌع تقر 
يِمَانِ يّأَطْهُن مَبْعّ عجَاف ٤ة‏ وِمَبَشتْبدحِ خُھرڈأغریبدتيٴ لَعَلٌاَزجِعُال النَاس 
تَمَلْعم يَعْلَمُوْتَ دج قَال تَزدَعُوت مَبْعّ سیت2 اتا فا حَمَِكْمْفَدَرفَه ق مُتْبْره ال 


قَلِيْلامت تَأَفَوْنَ :ئ خُوَیَأق مِن بَغْي ذٰيكَ مَبْعّ مِدَ١ذيَأكُلیَ‏ حَا قَدمَعم هن الا قَيبْل 


سک اص ے مب و ےھ 1 و ےا ہے9 وع 
ما تھے تْصِمُوْت ركْرَیَأمِْٔبَعَدٍ بَعَيٍ ذلِك عَامٌ فِيْدِيْعَات الثاس و فِهْد يَعَِرَوؤْن(2) 


٦ رکوء‎ 


یں روز ڈلاپاویڈا ور ےکی نے خو اب مین داز ےکر عاتم وٹ انی ہیں جش ن کو انت ڈرگی یں 
کر نون ا ا نت کن رف اوخ کی ات کی رت ال کن ان خوا پک 
تیر تا اگر تم خوابو ں کا مطلب کھت ہو۔ ےا وکگوں ن کہا یہ و پر ینان خو اہو کی پا قش مہیں اور جم 
اس طر کے خو ابو ںکا مطلب نہیں جاتے۔ “ 


ان رویرروں .و٠‏ بی گیا تھا اور سے ایک بت دراز رے بعر اب "ھ۶ 
مس آپ حظر ا ٹکو ااں کی تادیل بتا اہول ء کے ذراظقید خانے ہیں لوف سے اس گنج سے “38 


اس نے جاک کات فو شف اے سر اپاراستیء 9ھ بے ان خو ا بکا مطلب بتا ٦‏ 0 
0 ا ا ا ا ا و ی۔ شای دک می ُن لوگوں کے پاس 
وایں جاوں اور شاب دک دہ جانلیں۔ مان شف ن ےکہا” سمات برح ن تک گا ار تم لو گبیتی باڑ یکرتے 
رہد گے۔ اس دوران ٹل چو ضلیں مکائو ان میں سے 1 جھوڑاساحصہء جو تہارک خو راک کےکامم آئےء 
أکالو اور بائ یکو ال ںکی بالوں بی یس ربنے دو پچھر سمات بر س ہت مخت آئیں گے اس زمانے میں وہ سب 
ہکھالیاجا ۓگا جو تم اس وفت کے لیے ش عکروگے۔ اکر یلج ہچ گا نواس ددی جوتھمنے فو اکر رکھاہو۔ 
اس کے بعد پچھر ایک سال ایا آ گا جس میس بارائن رحمت سے لوگو لیکو فریاد رک جات ےکی اور وەرں 
وھ ھا و 


سورۃیوسف حاشی تمبر: 36ھ 

می ںکئی سال کے زان فی دکاحالی چو ڑکر اب “ررش بیان اس مقام سے جوڑاجا سے جہاں سے حضرت 
بوسف علیہ العلام کے دنو یی عرو شروں ہوا۔ 

سورۃیوسف حاشب تمبر: 37ھ 

اتیل او رج مو دکابیان ےکلہ ان خ الیوں سے بادشاہ بہت پر بشان گیا تھا اور اس نے اعلان عامم کے ذر بج 
٠2ً 2‏ واپشمنروں ءکاہنولہ نر بی پایجوائوں اور جادوگرو یکو کر کے الع سب کے 
سان یہ سوال جن کیا تھا۔ 

سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 38ھ 

رن ے یہاں اختقمار سےکام لیٰے۔ اتیل او رجموو سے ا سک ی تفصبیل ىہ معلوم ہوئی ہے ( اور قیاس 
جج یکنا ےکہ ضرور الیماہ اہ گا )کہ صردار ساقی نے بوسف علیہ السلام کے عالمات باد شا سے بین بے ء 
اور یل ٹیس اس کے و اب اور اس کے سا شی کے خحوا بگلچیچھیں جع تی را نہوں نے دی تھی ان کا کر 
مھ یکیااو رکہاکمہ ٹیس ان سے ا کی اویل لو چ ھک رآ جا ہوںء نے قید خائنہ یس ان سے کی اجازت عطاکی 
7 

سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 39ھ 

من میں انا اص رن “ استعال ہواے جو عربی زبان میس ساٹ اور راستمازی کے انتچائی مر کہ لیے 
استعال ہو تا ہے۔ اس سے انداز ٥کیا‏ جاسکنا ےکہ قید خانے کے زمانہ قیام میس اس شس نے پوسف علیہ 
العلا مکی بیرت پاک سےکیساگہرااث لیاتھاادر یہ اٹ الیک مر تگزر جانے کے بحلد پچ یکتفا راج تھا۔ صدبتی 
کی می تن رض کے لیے ملاحظہ ہوء جلمد اول سورونمانءہ حاشیہ نب ر۹۹ 


سورۃیوسف حاشی تمبر: 40ھ 

یجن آ پک قررو مضزات جا نٹ اور ا کو ا ماس 6 ھک ہکس بای کے آ وٹ یکو ا نہوں تن ےکہاں بن دک رکھا 
ہےء اود الس طط رح کے اپنے ال وعدے کے ایفاءکا مو شح مل جائۓ جو یس نے آپ سے قیدر کے زمانہ می نکیا 
تھا 

سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 41ھ 

من یں لفظط ”یع رون“ استعال ہواے جس کے لفٹی می چو ڑنے “ کے ہیں۔ اس سے متصود یہاں 
سرن کی و شاداپ ی کی دہ کیذیت با نک نا سے جو قط کے بعد پاران ر ححت اور در یاۓ نیل کے ڑا سے 
رو نما ہہوے وا ی یں شف سی را ہوکی ے تو جیل درییۓے والے ‏ یع اور ری دۓ دز گل اور 
روے وب پید اہو تے ہیں ء اود مو کی بھی ارہ اچچ ما لے اوج سے وب دودھ دنن کلت ہیں۔ 

رت اوسف علیہ العلام نے ال تی ریس صرف باد شاو کے خو ا بکا مطلب بانے بھی پر اکنفان ہکیاء بل 
سا سا ىہ بھی تناد یاکہ خو شھالی کے ابنق ای مات بر ول می نے دانے قط کے ل ےکم میں بنلدک کی 
جاۓ اور مل ہکو تفوظاے رسک پکیابند ولس تکیاجاے۔ پچ رز ید براں آپ نے قط کے بعد ایج دن ان ےکی 
و شخج ری بھی دے دی جم سکا کر باد شا کے خو اب میں نہ تل 


رکوء> 
وَقَالَ الْمَلِكُ اتُمُوْنْ به 21.71 ول قَالَ ازج( ل زَبِك فَسَلهُما بَال النْمَوَة 
ال فَطَعَْ ايد مت اكٌدَيْبِكَيْدِمِنٌ غَ رد ا ا رو رد ا وو 


سٌ مو قَالّتِ امَآت الْعرَنْرِانَ مض خہ 


۔ ضر نے لف ۔ ‏ کْکھھ ہوےگٴ۔ 
یی ذٰيكَيِيْعْدَم اخ تَمَاَمُنۂ بالْقَیب 


۲ طوو 27 ۷ َ‫ 
- قلنَ حاض بلهِ ما عَدِنْتا عَليْهِ م من 


701م 


ےم دج 
اق تا رَاَذْثُّعَنتَفْسلا9َِلهِلَنَ الضْيِقِیْنَ× 


وَمَا ابَڑِیٗ نفيِیٌ ان النفس لامَارَةبا لسوء!ال" 


7 7 3 سے قرو ےئ شدویر ےر ۔۔ کو کیو ولی۔و ‏ کے 
مَارَحِمَدئ اِن دی سمسبس جس سس فَدذنًا 


صا 1 


مد قَالانكَ الِيَوَم لَرَیْتا مك امن 2 فَاقجَعَلی عَلٰ خرزآین الااضيَْ اخ 
۲ 3 ص×٠.-دًًو*‏ ۔7 72 تج ۔ : ٍ‌ٰ۔ 
حَیِیِظ مَيْعٌ ( دَکذْلِك مکنا لوف ف الائض- بت ہک متاح نا سرت 

2 7 ضا ٣‏ ۔ گے و کو 7ے کک |‌ سض ہے یں 5 ۱ و 
بِرَحَمَیِتَا مَنْ نشَاءُوَلا تْضِیْع أَجْرَالْمَحَيِیِیْنَ رق وَلَاَجَرَالَاجِرَوِحَیْرِلِلزِيْنَامنوا 


ہے ْ ے اہ 
و کَانوا يَکَفُوْنَ کا 


رکوع > 


بادشاد ےکہااسے ممرے پا لا گر جب شاتی فرتادولوسف کے پاس پیا نو اس ن ےکہا نے رب 
کے پاس دائنں جااور اس سے پچ ھکہ ان عورف کا یا معاملمہ سے جج نپول نے اپنے باتق ھکیاٹ لیے تھے ؟ می را 
رٹ فا نکی ما رکی سے واقف ہی ے۔ پگ اس پر باد شادنے ان عورفوں ے ور یافت شڈ گیا” تہاراکیا 
تر ہہ ہے اس وق تکاجب تم نے ٹوش فکور چان ےک یکو ش نکی شی ؟ مسب نے ہیک زبان ہدک رہکما” واڈا 
یرہ جھم نے پوس میں بر یکا شاپ پیک نہ یایا۔“ ع زم کی وی لول أئشی مت 
ھی جس نے ا سکوچھسلان ےک یکو شش کی تی ہے کک دولل سپا ے58“ 


ڈاوشن نے ق8 کباپچ ”اس سے میری خر یش یکلہ دلاخ زی ہہ رہ جالن ل ےہ مٹس نے دید دہ ا کی 
خیات می ںکی گی۔ 

اور ب کہ جو خیاح کر تے ہیں ا نکی الو ںکو انڈ رکا میا یکی راہ پر کین لگا نا۔ یس ین اپنے وت 
کن کررہاہوںء شس نوبدی پر اکسا ابی ے لا 7 کاپرمر سعازت ارت ہو ء ےک مر ارس :ڑا 
مقورور جھم ے۔ َ 

ار کا میں ے پاش لات اک یش ا نکو نے لیے من و صکرلوں_ “ 

جب شف نے اس مگ کی فو اس ن ےکہا” اب آپ ہارے پال قردو منزات رکھت ہیں اور آ پک 


مات پر پور ھروساے۔ “مو شف ن کہا ملک کے نز انے میرے پر دی ء میس فا تکرنے والا 
بھی ہوں اور علم بھی رکتاہوں “472 


رس ط رع پھم نے اس صرز ین میں نو شف کے لیے اہ ا رکی راہ بدا رکی۔ دہ ار تھاکمہ اس میس جہاں چا ے 
ایقیا لہ بنائے۔ 8وہ اپقی رححت سے ج سک جاتے ہیں نوازتے نہیں ء نیک لوگو ںکا اججھ ہمارے ہال مارا 
میں جاماءاور آخر تکا اج ان لوگوں کے لیے زیادہ مبتر ہے جو ایمان لاۓ اور حد اتکی کے سسانت ام 
را رد تفع 

سورۃیوسف خاشیہ نمبر: 42ھ 

یہاں سے ل ےکم باد شا ہکی ملا نقا ت کک جھ بیھ ق رآ نع نے بی نکیاے ہت جو اس ےکا ایک بڑ ای انم 
باب ے ہت اس ککوگی ذکر پانیل اور جمود یں نبیں ہے۔ بامی لک بیان ےککہ بادشا ہکی شٹھی پ 
حخرت لوف علیہ السلام فوراجلے کے لیے تا ہو یع امت بنو کی کپڑے بد نے اور در ہار شی جاحاضر 
ہو ہے تتگموداس سے بھی زیادوگھٹیا صورت میں اس واست ےکو می يک کی ے۔ اکا ان یھ ےک ” بادشاہ 
نے اپ ےکادندو یکو عم دیاکہ لوف علیہ العلا مکو میرے تضمور یی لکروء اور مہ می پدایہ تک دگ کہ 
ویصوالیاکوئ یکام نہکر ناکہلڑکاکھبر اجاۓ اور جج تی رنہ دے گے چناج شاہی ملاز موں نے وسف علیہ 
العلا مکو قید خانے سے کالاء امت ہنو ای ہکپڑے بدلداۓ اور در ہار یس لک ٹن يک دیا۔ بادشماہ این تخت 
پر ٹیٹھا تھا۔ وہاں زد وج اہر یا جک دک اور ددہا کی شحانع دی کر او سف علیہ ااسلام ہکا بکارہ گے اور ای 71 
میں خر وہونے گگییں۔ شابی قحن تکی سات سیڑمیاں شھیں۔ اعد یہ تھاکہ ج بکوگی معز زآدىی بادشاہ 
سے پجھہ عمرخ کر ناچاہتانذدہچھ سیڑعیال ڑم ھکر او پر جانا اور بادشادسے ‏ مکلام ہوم تھا۔ اور جب اوثی طبقہ 
پکوئی آدمی شادی خخاطبہ کے لیے بلایاجاتانذدہ بی چهکھٹرار جتا اور بادشاہ تس کی سی تح یمک اترک اس سے بات 
کر تا۔ اوسف علیہ العلام اس تواعرے کے مطابق یی کٹ راہ ا اور ز ین وس ہہ وک اس نے بادشا ہکو سای 
دی۔ اود بادشاہ نے تیس ری سی ڑھ یک تر اس ےگنفگ دکی “_ اس تصویر یں بنی اص رائیل نے اپنے یل 


ادرف رکو جن اگر اکر ٹن یکیاسے ا سکو ڈگاہ یس رریے اور پچھر د مکی کہ ق ران ان کے قید سے لے اور 
پادشاہ ےل کاواقع ملس ان او رس آن بان کے ساتھ یی کم جاے۔ اب مہ فیصل ہک ناہر صاحب نظر 
کا اپناکام ےکہ ان دونوں تصویروں میں سےکوضسی تصویر ہقمبری کے مرسے سے زیادہ مناسبت رھتی 
ہے علاددبریں ىہ با تھی خقل جا مک و علگتی ہ ےک ہاگ بادشاہکی ملانقات کے وش تک حرت بواسف علیہ 
اعلا مکی حیثیت اتی گکری ہوگی جھی تی تلود کے بیان سے معلوم ہوتی ہہ توخوا بکی تیر سفت ہی 
الیک ا نکو تام سلطن تکا نا تل سے ہناد ماگیا۔ ایک مزب و ممقمدن ملک می اتفابڈام رحبہ نآ وہ یکو 
اوت مار جاے ج بک دہ ایق اخلائی وذ ہنی بر تر یکاسلہ لوگوں پر بٹھایکاہو۔ میں عف لکی روس بھی 
اتیل او رج مو دکی یہ نسبت ق رآ ن کا بیان ز یادہ مطا ِ مقیفقت معلوم ہو جا ے۔ 

سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 43ھ 

ینمی جہاںکک میرے ر کا معاممہ سے ا سکو پیل بی می کی ےناب یکا حال معلوم ہے گر تھہارے 
ر بکو بھی می رک رہائی سے پل اس معالل ہکو ری طرح شقی کر بی ای ج سکی بناپر مج یل میس ڈالا 
گیا تھا ۔کیوکلہ می کی شمہہ اورکسی ہما یکا داغ لیے ہہوۓ خلق کے سان نیس آنا چاہتا۔ یے رہاکر نا سے 
نپ بر سرعام ىہ خابت ہو اچاب ےک میں ے تصور تھا اصصل تصور وار ہار ی سلطنت کے کار فرما او رکار 
پرواز ٹے ج نپوں نے ای پا تک بد الو ار یکاخمیاز می کی اک دام پر ڈالا۔ 

اس مطالیےکو نضرت او سف علیہ العلام مجن الفاظط شش شی کرت میں الن سے صاف ظاہرہو جا ےک شاہ 
مر اس لورے واعہ سے پیلے ھی واقف تھاجھ یکم ع زی دکی دعوت کے مو پر ٹین آیا تھا۔ یکلہ دہ ایا مور 
واقعہ تھ ماک ا ليکی رف صرف ایک اشنار یکا تھا۔ 


مر اس مطالبہ میں حضرت ابوسف علیہ العلام عزیز مص کی یو یکو سچھو کر صصرف پانق ہکا والی عو رتوں 
کے ذکم پر اکنا فرماتے ہیں ۔ یہ ا نکی انتا ئی شر افت نف سکا الیک اور شموت ہے اس عورت نے الع کے 
ات خوا هکفٹی بی برائ یکی ہو ءگر پچ بھی ال کا شوہر ا کان تھا اس لے ا نہوں نے نہ چاپاکہ اس کے 
زام وس پر خودکوٹی رف لاگیں۔ 

سورۃیوسف خاشیہ نمبر: 44 ھ 

کن ےک اتی تل میں ان تام خو اتی نکو کر کے یہ شہادتلگئی ہوء اور یہ بھی کن ےکلہ باد شا 
تَُ و حروص کی کر ففردآف دانع سے ور یافف تکر ایا ہو- 

سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 45ھ 

انداز ٥کیا‏ جاسکا ےکلہ اع شمادتوں ن ےکس ط رح مھ نو سال پبیلہ کے واققعا تکو ماز کر دیاہ وکا دن 
طرح حضرت لوسف علیہ السلا مکی شخصیت زمانہ قی دک وی یکمنابی سے مک لکر بپایک پھر می گی ہ گی 
ورس طربح حمصر کے ام اشراف معززینہ متوسین اور وا مک میں آ کا اغلاقٌ وتمار تام ہوگیا 
ہوگا۔ او باشیل او رج مود کے حوالہ سے یہ با تگزدچگی کہ بادشاہ نے اعلان عا مک کے قمام ممللت کے 
داشمرول اور علاء اور رو لکو ش کیا تھا اور ود سب اس کے خوا بکا مطلب با نکمرنے سے عاجز ہو کے 
تے۔ اس کے بعر رت اوسف علیہ ااعلام نے ا کا مطلب بہ بتایا۔ ا واقعہ گی بنا پر یہ بھی سے 
سمارے مل کک ڈگائیں آن پکی ذات پر م مج ہو گیب گی۔ تچ رجب باد شا ہک می پر آپ نے باہر لن سے 
الگا کیا ہ وگ ٹوسارے لوگ نے بیس پڑ گے ہوں کہ یہ جیب شک کابلند حوصلہ انسان سے ج سکو آٹھ 
بر کی قیر کے بحد بادشادوفت مہربان ہ ھکر بمارہاے اور پچ بھی دہ باب ہ ھک دوڑ خی پیٹ تا۔ پھر جب 
لوگو ںکو معلوم ہو اہ کہ بوسف علیہ العلام نے قد ہائی قجو لکرنے اور بادشاد وق تکی ملا تا کو نے 
کے لی کیا ش رط یی کی سے وس بک مگاہیں اس تحقیقات کے نڑے رن کگئی ہو ںگی۔ اور جب لوگوں نے 


اکا متیہ سنا وگانذ مل ککابیہ بیہ عنل معن کر جار گیا ماک کس قد یاکزہ یر تکاہے مہ انساان جج سکی 
طہارت نفٹس پر آرج وخی لو گگوابی دے رے ہیں جنوں نے مل مج لک کل اسے جیل میس ڈالا تھا اس 
صورت حال پر اگر تو رکیاجاۓ و ھی ط رح بج ٹیس مزا ےکہ اس وقت خخرت لوسف علیہ الام کے 
ام عم وع پر نے کے ل ہکس طرں فضاسا زار ہوچچگی تھی اس کے بعد یہ بات پیجھ بھی تقائل تجب نیس 
رہق یک رت اوسف نے بادشاد سے ملاجات کے موئٌح پر خمزائی اخ کی سپ ردگی کا مطالہ ریس ہے 
دک شی يک دا اور باد شاہ نے اس ےکیوں ہے مال تقو لک لیا۔ اگر بات صرف ای قدر ہوئ یہ خیل 
کے ایک قید یی نے بادشاہ کے ایک چا بک تیر بتتادی تی ذ ظاہر ےکلہ ائس پر دہزیادو سے زیادہکسی 
انعامکااور غلاصی پا چان کا شی ہو سکتا تھا۔ اتی ی بات اس کے لے پوکا نی نیں ہوسلتی صھ یک دہبادشاہ 
سے کے خمز ان ارٹش میرے ح ال ہک و“ اور باد شا کہ درے ” یی ء سب بپئھ حاضر سے 
سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 46ھ 

بات فالالوسف علیہ السلام نے اس وق تکبی ہوگی جب قید خانہمین آ پکو تحقیقات کے نی جھکی خر دی 
گئی ہوگی۔ للتض مفسرین ,تن میں این تبیہ اور ای نکر جیسے فضاا بھی شائل ہیں اس فقر ےکو حضرت 
وس فکا ٹیس بللہ زی کی وی کے قو لکا ایک حصہ قرار دپتنے ہیں۔ ا نکی دحل ىہ س ےک یہ نظردام رآ 
العزیز کے قول سے مصعمل آیاے اور تچ بی کوک لفظط ایب نیس سے جس سے بب مجھاجا کہ ”الد لَمِن 
لق ا قد“ پر ام ر1 الع زی نکی بات عتم ہوگئی اور بح کلام حضرت اوسف علیہ السلا مکی ز پان ے ادا 
ہوا۔ وہک ہی ںکہ اگر د ھآومیوں کے قول ایک ووسرے سے مل وائح ہہوں اود اس اع مکی صراحت نہ 
4 کہ یہ قول فلا لکاسے اور یہ فلا لکاءپذ اس صصورت میس لاز کوٹ رین الما ہنا ای شس سے دونوں کے 
کلام بیس فر کیا جا گےء اور بیہالں ای اکوٹی خرینہ موجود میں سے۔ اس لیے یھی ماننا پڑے اک اتی 


حصخص اتی ےن ےک ران زَق فو ےکک اور اظام ام رآ العزیزکاہی ے۔ لین بے 
جب ےکہ این تی یے دقیقہ رس آ دک یک کک نگاہ سے یہ با تکیسے چو کگ کہ شا نکلام ہیا خود 
ایک بہت بڑا تین سے جس کے ہو ت ےکی اور رین ہکی ضرورت نی رہتی۔ پہلا نقرہ و با شیہہ اھ رآ 
العزیز کے منہ پپر نا ےگ رکیا دوسر ا قرو بھی اا سکی حیشیت کے مطالقی ن رآ ہے ؟ یہاں و شا نکلام 
صا فکہہ دی ہ ےکہ اس کے تقائل حضرت وف علیہ السلام میں ن ہک زی مص کی یڑا ا لام میس جھ 
نیک شی جھ مال ظر فیءجو فرو تی اور جو خداترسی بول ربی سے وو خودگو اد ےکہ یہ نرہ اس ز بانع سے ایا 
ہوا یں ہو سلتا ٹس سے یت پت للا تھا ٘س سے ما جآ صن ارام بأهلَٰ مع کا تھء اورخجںس 
سے بھری مل کے سان ب کک پل تا تھاکڈین لع یفتعل ضآ امک تدع ایا پاکیزہ قرو 
وی ز بان بول ستقی شی جھ اس سے پیل مَعَاذ اللہ 0 تَقٌ اَحَسَن مَعُو 000 
الیِجنْ اَحبًٌ اه يَرْ َو الیک گی کی مال“ تظي حَکَيْدَهُنّ اض اِلَيْھِنٌ 
کب گی تشھی۔ اییے پاکیز ہلا مکو لوسف صدرلنی کے با اھ رآ التزی الام منزا اس وق تتک کن نہیں 
سے ج بک ککوکی تخریبنہ اس اھ پر دلاات نکر ےکہ اس مر مے پر جن جک اسے موہ اور ایمان اور اصلاب 


سک فوٹیق نصیب ہوگئی تی ء اور افسوس ےکہ ایباکوئی قرب موجو و نڑیں ے۔ 
سورۃیوسف خاشیہ نمبر: 47ھ 


سورۃڈیوسف حاشیہ نمبر: 47۸ھ 
اس سے پیلے جو تذ وا تگزرہچگی ہیں ا نکی روش میں دیکھاجاۓ وصاف نظ رآ ت گ کہم ہکوگی وک یکی 


درخواست یں ھی ج کی طالب جا نے وفت کے بادشا وکی اشارہ پا بی جچمٹ سے یی لکر دی ہو۔ 
ور یقت بہ اس انقلا بکادرواز مکھو لے کے لیے آخری ضر ب بھی چو حطر ت اوسف علیہ السلام یی اخلاقی 
طاقت سے کچجلہ دس بار سال کے اندر نشونماپاکر ظپور کے لیے تیار ہو کا تھا اور اب ج کا باب صرف 
کیک ٹھو کے بی کا ماع تھا۔ حضرت اوسف علیہ العلام آزماکشٹوں کے ایک طوبیل لے سےےگمز رک کر سے 
تھے اوریہآزانشی کس یکمزائی کے چلیچے میس ٹیش نمی ںآ کی تھی بللہ بادشاہ سے نےکر عام ش رو تک 
مرکا یہہ ان سے واقف تھا۔ ان آزماکشون میں اغخہوں نے شاب کر دی تھاکمہ وہ اعت ء راستتبازیء حلمء 
انف جال ی ظارکی/ ذانت فرامت ا رسا 7 یناکم اکم اپنے زمانہ کے لوگکوں کے در مان تو اپنا 
نی نی رکھتے۔ ا نکی شخصیت کے بہ اوصاف اس طرح کل یک ت ےےل ہکس یکو ان سے اوکا ری مال نہ 
ری تھی ز با نیں ا نکی شہادت دے چچی تھیں۔ ول ان سے خر ہو گے تھے خودبادشاد ان کے آ گے 
بتعیار ڈال چنا تھا۔ ا نکا” <زی “ اور تیم “ ہونااب شف ایک د وکیا نہ تھابللہ ایک خابت دہ داقعہ تھا 
جس پر سب ایمان لا گے تے۔ اب اگ رپ ہکس رباقی شی پووہ صرف ات کہ ححخرت لوسف علیہ السلام خود 
عکومت کے الن اختیارا کو اپنے ہاتھ میس لیے پر رضامندکی ظاہ مکی مجن کے لیے بادشاہ اور اس کے 
اعیان سلطنت ابق کہ من لی جان گے ےک ان سے زیادہ موزو لآ دم او کو کی یں ہے۔ چنا مہ بی دہ 
س تھی جو انمہوں نے اپنے اس نر سے پور یکم دگیا۔ ال نکی پان سے اس ما لے کے لے بی بادشاہ 
اور ا سک یکول نے مجس ط رح اے بسرو نشم قو لکیادہخو داس با تکاشوت ےکمہ یہ تیلل اتناسیک چکا 


تھاکہ اب ٹوٹ کے لیے ایک اشارے بی کا ختظر توا۔ عم دکا بیان ‏ ےکلہ حضرت اوسف علیہ السا مکو 
عومت کے اغخقیارات سو ےکا فیصلہ تھا بادشاددی نے خی سکیا تھابکنہ و ری شا یکو سل نے بالانقاقی اس 
کے فی یں راے دبی شی )۔ یہ اخقیارات جو جخرت بوسف علیہ السلام نے ماگے اور ا نکوسو نے گے ان 
کی ٹو حی تکیا شیا ؟ زاواتف لوگ یہاں ” خزائن ارٹش“ کے الفاطط او رآگے پچ لکل ہکی تیج ما ذکر یھ 
کر قیا کرت ہی ںکہ شاید یہ اف رخزانہءیاافسرمالیہ یق گمشنء یاوزیرمالیاتہ یاوزیر غذ ائیا تک کھمکاکوئی 
عیدہ ہوگا۔ لیکن پ وو متفقہ شہادت ےک ور تفیقت حضرت بوسف علیہ السلام 
سلطدت مص رک متا رکل ل(روہی اصطلا ع مین ڈکٹی رم بناۓ گے تے اور مل ککاسیادو سید سب بٹجھ ان کے 
اختیار بش دے دیاگیا تھا۔ ج رآ نبا ےکہ جب خر ت تقوب علیہ السلام مص راچ یں اس وشت نضرت 
اوسف علیہ السلام تحت نشین تھے( رم ابونیے عَکی لکش )۔ حضرت لوسف علیہ السلا مکی ابق ز بان ے 
ہوا نرہ ق ران بیس متقول ےک ” اے میرے رب فو نے بج بادشاہی عطاک “(رب قَذْاتَْعَبی 
یح الم )۔ پیا ل ےکی چو ری کے م وش پر سرکاری ملازم رت لوسف علیہ السلام کے پیا ل ےکو اد شا ہکا 
پالہ کے بہیں۔ اور اید تھالی مص پر ان کے اققر ا کی کعفیت مہ بیان فرمامتا ےکلہ سمادی رز مین محمرا نکی 
"ليقَبَوأس تا حيِ تی آغ)۔رجی ہا تل تووہشہادت دق ےک ف عون نے بوسف علیہ السلام 
7تس :سو ومیر ےگھ رکا تار ہگ اود می رک سادیر عایاترے مم پر ح کی فیا تق تک میک ہونے کے 
سب سے میں ہز رگ تو ں کا - د کچھ یس ھے سارے میک مص رکا حا بنا نا ہوں 0-29 اور تی رے عم 
کے بی کوک آدبی اس سمارے ملک مع میس اپنا اتھ یا نول نہ بلانے یا گا۔ اود ف رعوان نے اوسف علیہ 


السا م کا نام ضمفنات نع رک جات دہند) رکھا“_ (یید الک ۹ ۱:۳م - ٣۵‏ (اورجمو دکبقی ےکم 
اوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے مصرسے وائیں اکر اپنے واللد سے حاکم مصر(لوسف علیہ العلام کی 
تر بے ےک" ذاپنے ملک کے پاشنعروں پر ال کا اقتھ اسب سے پالاے۔ اس کے عم پردہ 
لے اور اسی کے عم پر وہ داخل وت ہیں ۔ ا سک زان سمارے ملک پر فرمانر وا یکرتی سے ۔کی معاملہ 
رح ےنآ ور تا و اگ دوسراسوال ىہ ےکلہ خحضرت اوسف علیہ اللام نے بہ 
اارا کس خرس کے لے ماک تھے ؟ انہوں نے اپ خدمات الس لیے بی لکی گی ںکہ ای ک کافر 
کومت کے نظا مکو اس کے کافرانہ اصول و قوائین ہی پر چلائیں؟ مان کے شی اریہ خ کہ علوم تکا 
اقترار اپنے ہاتھ مس لن ےکر ملک کے نظام تع واخلاقی و ساس تکو اسلام کے مطابق ڈھال دیں؟ اس 
سوا لکا می رین جو اب ددے جو علامہ ز مخشربی نے ابق تی ”مراف “ بیس دماسے۔ و لیت ہیں 7 :حطضرت 
وسف علیہ السلام نے "الع حح این ال رض 'ج فا اتا سے ا نکی خر صرف بہ شی 
کہ ا نکو اللہ تھالی کے احکام جار یکر نے ادرف ماخ مر نے اور ععدل پچھیلان کا موش مل جا اور دہ اس 
کا مکو اضحجام دی ےکی طافقت حاص لک ریس جس کے لے انویام مچہبم السلام کیتے جاتے ہیں ۔ انہوں نے 
اد شا کی محبت اود د ماک ا و یش مہ مطالبہ خی کیا تھابہ ىہ جات ہوم ۓکیاتھ اک ہکوکی دوس اشن ان 
کے سو ایا یں سے جو ا سیکا مکو امام دے کے“ اور پچ ىہ ےک بہ سال دراصل ایک اور سال پید ا 
اس جو اس سے بھی زیادہاہھم اور فیادیی سوال ے۔ اوروہ ىہ ےک خقرت لوسف علیہ العلام آیاچیہر 
بھی ے پا یں ؟ اکر ٹر تے پ وکیا ق رآن میں نہ مکو چب بی ایی نصور ملا ےکہ اسلا مکیادائی خودنظا مکذر 


کوکافرانہ اصولول پر چلانے کے لیے ابیقی نخدمات شی يکرے؟ بل یہ سوال اس پر بھی شع نیس ہوا ء اس 
سے بھی زیادہ ناک اور جخت ایک دوسرے سوال پر جاک شی ر جاے ینیم یک ححخرت لوسف علیہ العلام 
کیک راستمازآ بی بھی تے پا یں ؟ گر راستراز تے ن ھکیا اسیک راتتماز انسا یکاہ یکام ےکلہ قید خانے میس 
رق تر رت نان ایی ےل ے77 بت سے رب انف رڈیں بیادہ ایک الڈد جو سب پر 
ماب سے ء اور پار جار ال مصرپر یک کرد کہ تمارے الن بہت سے ضرق خودساخنۃ خد اوں میں 
سے ایک بہ شاہ مص بھی ےء اور صاف صاف اپنے مت نکا بنیادکی عقیدرہ ىہ بیا نکر ےکہ ”” فرمانر دا یکا 
اقتزار یر اے واعر کے سوکسی کے "نہیں سے “گر جب گی آز ماش با وفت ہے و ودہی تنس خوو 
اس زظام علوم تکاخمادمء بللہ نام اور محافظ اور پش پناوکک م۲ن جاۓ جو شاو مص کی ر یو بیت ٹیس تل رہاتھا 
اور جس کاہذیادکی نظربہ ” فرمانر دای کے اخزیارات خد آ کے سے یں بللہ بادشاہ کے لیے ہیں “ تھا؟ جیقت 
بی ےکہ اس مقا مکی فی بیس دوراتطالطا کے مسلمانوں نے بیٹھ ای ذ ہنی تکااظہا کیا سے جو بیھ یبودلوں 
کی خصوعبیت تھی یہ یبدداو ںکاحال تھاکہ جب دہ ذ ہنی داغلاثی پچ می مبلا ہو ۓ فو چچچپلی مجار رن یں مجن 
ین بزرگو ںکی سی ری ا کو بلندی پر ٹس کاسبق دبتی تھی ان س بکو وہ ین چ ےگ اکر اپنے مرحے پ 
انار لا کہ اپنے لیے اور زیادہ یئ ےگ ن ےکا بہانہ پیر اکرمیں۔ اغمو سکہ بچی ٹہ مسلمانوں نے گج گکیا۔ 
انی کافر علومتو ںکی چاکر یکر نی شی ہمگر اس نی می سگرتے ہوۓ اسسلام اور اس کے تک ردارو ںکی 
لنلدہی دی کر انییں شرم آکیء لیف ااس شر مکو لے اور اپنے یب کو را یکرنے کے لیے میہ اپتے سا قد اس 
لیگ رت گنی دم تکف گن گی ین ےکرے شش نکی فو نی ذزا صلی انس سیت رن 
یی کلف ےر ضرف تم کم یی ونس الا ئی اغلاقی اور ابا ی راست و 


حم تکاحائل ہو نذوہ تن تھا نجرد اپنے اغخلاق اور ابقی مت کے زور سے اسلا ہی انقلاب بر پک سے ء اور 
بی کہ مو مک نکی اغلائی طافت ( اش مر لہ وہ ا سکااستعحال جاہناہو اور اے استعا لکرن کا ارادہ بھی رکتتاہو) 
فوج اور اسللہ اور سروسمامان کے خی بھی ملک ٹک رعیتی سے اور سلعطفنو ںک وم کر بیقی سے۔ 
سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 48ھ 
:اریم نع حر نکی گیا نک رک جک سنا ا ا نک یک کی ابا 
رپا ھاجھ اس سے روکا جا سکناہو۔ ب گیا ا کال تسلطط اور ہم ۔گیر ایتزا رکا بیع ے جو نخرت لوسف 
اما مکو اس ملک پر حاصل تھا _ قرب مفصرین بھی اس آبی تکی بی تق کرت ہیں۔ چ چناتجہ امن زیر 
حم الہ سے علامہ اہنع جم بر ظہرکی نے اپ یی اس کے معمایہ یا سی ہی کہ نے یو 
السلا مکو ان سب چیزو ںکا مالک بنادیاجھ مص ریس تعیف+ دج یاکے اس مے میں دو چہاں جو ٹہ چابتا وم 
وو سرزمین ایس کے حوال کر و یگئی یہ ت کہ اکر دہ چاہتاگ ہف رعو کو اپنازیر دس کر نے اور خود اس 
سے پا تر ہو جاۓ وھ یکر سنا تھا “۔ دوس را قول علامہ موصوفٰ ے ماپ رکا ك‌ لکراے جو مشہور امہ 
تق میں سے ہیں۔ ا نکاخیالی ‏ ےکہ بادشاہ مصرنے بوسف علیہ العلام کے بات پر الام قو لک لیا تھا۔ 
سورۃیوسف حاشی تمبر:49 ھ 
یہ تبیہ ے اس امریرکہ کوک تی وندی حکومت وافترار کو نی وک وککاریی کا اصلی اج اور نیقی اج 
مطلوب نہ مھ بے بللہ خر دارر ےک رین اجرء اور وداج جو موم نکو مطلوب ہو نا اہی ء ددے جو اللہ 
تھا لی آخرت میں عطافرما ۓگا_ 


+ئ 


رکو۸۶ 


32 7 و تا فَرَعَلوَاعَلَيْهِفَعغ غُزلَه منگِرڈت جھ تنا جَقَوَم جَهَارغقال 


ہہ ؟ 2گ:7۷39+[2. ہے > ےہادخغ 0د ےہ >> >ہسمے ‏ وو ٠‏ مد کہ“ 
مخ باعل مذِن اَبیگُۂ الا تَرونآَقٌاوف اَی داتا عَيْزالْنذدِيِیَْ فان لَۂ 


کے 
پ8 


یو ۔ئپِ ۶ 


قَأَثُوْنبِوِفَلَصَيْل تَکُمْعِتْیِیْوَلَ تقر 0077 وََالََعتَی 
0 َكِقُوَْھَ اذ انْقَلَبوَا ال اَْلِمَ 
آکاتا تَکُکَل ذإتًَا لَه کيِْشُزت رج قال كَلْامَنک ز عَليْد الا نا منَفگ قَل اَعِیْدِ يد 
ِن قَبْلَ فَاللهُ ٠‏ عَیْ حيِظا ٴٴ1 ھُو اَزھۂ اللِكَيْنَ دہ د لنا فَکنوا مَفَاعَغْ مَجَدٰذا 
بضاعَمَف كت اتَْفٴ قَالو اتا تَا نٹ مذہ بفَاعْفُتا ٴُكَثْاِلَیْنا دَتَبِيْرِاَمْلتَاءَ 


ھ2 7 سہےٰہے 7 ۔‫ . 2د 0-0 
7پ 8ھ“ ذٰلِكَکَيْل ينودي قال ٹن 55ہ 


َ‫ سے کات یکم .-ت ص۔ق., ۔ ےے۔ 
جن الله لَکَأَدُ تن بةَالاآن ثحاط بگوٴ فلَيا اد توْه مَوْتِقَُمْ قال الله مَل ما تقول دَلِیُل ۵د 


ط صہم 27 و 


ہت رق وم اع ک0 
الہ مِن حَئوٴ ان امک ال وو عَلَيْه تَوَكُلْث ەَعَلَيْدِ قَلَیَکَوَق الْممَوَقِلوْنَ و تنا 
7 - سے - و ت ےْ 

دخلوا مِن < حَیّٹ آمر ابوظم حا فان يِف عَنف کے اس تن الا حَاجةے جَة ينَفسٍ 


رق و ۱ ائَذُتَذذمَنوتِمَاعَلَنلهََُلٰکِن أََتالثَاس لَايَعْلَمُونَ کے 


رکوع ۸ 


شف کے پھائی مص رآ ے اور اس کے ہاں حاضر ہو ہے۔ لک اس نے انییں پان لیگ وہ اس سے نا آشا 
ہے آ0 پور جب ال نے ا نکاسامالن تا رک وایا نو یل وفت ان ے ھا اپنے سو لے بھالی اور ے پان 
انا۔ دیے خی ہ طکہ می سکس ط رم پان ہ چھ کر دیتاہول او رکیسا اچم ہمان فوازہوں۔ گر تم اسے تہ ل۶ 
گے ومیرے پاس تھہارے لے کوٹ خلہ یں ہے بللہ تم میرے قریب بھی نہ پچکنزا۔ “2 نوں نے 
پا ب مکو شن شکھریں ک ےکک والد تاب اسے کییجنے پر راشی ہو ائیںہ اور ہم ایبا ضرو رکرمیں گے“ 
شف نے اپے نز مرن کین کک یں ےج جیے و ول دیاسے دہ ہے سے ان کے 
سامان بی یش رکھ دو۔“ ىہ فو شفنے اس ای کیک ہگھ رت کم دہ اینادائش پایا نمو امال پان جاییں 
گے ول لاس فیاضصی پر ا مان مند ہوںل گے پگ اور جب نک پھر بیئیں۔ 


جب وہ اپنے باپ کے پاس گے ٹ کہا“ ابا جانء آضترہ ب مکو لہ دریے سے اف رک دیاگیا سے ء لبفرا آپ 
‪ە//ئ7 جوارے ساتجھ مج کت 32 لے آرآی۔ اور ںی اظت کے جم زمہ دار 
یں اپ نے جو آپ زا کیامین انس گے معاٹے بی تم پر ولا دی روس ۔کروں جیما اس سے پبیلے اس 
کے پھاکی کے معاممہ می کر کا ہو ں؟ اید بی بت محافظ سے اور وہ سب سے بڑ ھک رم فرمانے والا ے۔ “ 
چر جب انہوں نے اپناساما نکھولا و دی کہ ُ نک مال بھی انیس وائی کر دہیایاے۔ یہ دب ھک دہ پچار 
آ جج ابا جاان!اور گی سکیا چا ےہ دمکی یہ ہمارامال بھی ٹصئیں وائیں دے داگیاے۔ جس اب ہم جکیں 
گے اور اپنے ائل و عالی کے لیے رصد نے آئئیں کے ء اپنے بھاٹ یکی حفاظت کچھ یکرسں کے اور ایک بارش 
اور زیادہ ھی نے آئئیں کے ءاسن تلم ہکا اضافہ آسا لی کے ساتھ ہو جات گا۔ “ الن کے باپ ن ےکہا” بیس اس 


لا نے م انز نز کا جنپ کو کی تم الد کے نام سے مل ھکد انث دتے ود گ ےکی سے 
می رے پا ضرور وائیں ن ےک رآ کے ہا پک ہککہیں ت مگیر ہی لیے جا “جب انپول نے ال کو اپنے اپنے 
ان 7ص 0 اس قول پر اش پان ہے “بی راس ن ےکہا” میہرے چو ء 
مصرسے دارالسلطنت شی ایک دروازے سے دا ئل ش ہو نابللہ خ٘لّف دروازول ے جانا ڈگ می ا کی 
مشینت ے ق مک نہیں با سکتاء عم اس کے سوا یکابھی نیس چلناہاکی پر ٹم نے چھ روس ہکیااور جم کو بھی 
بپھروس ‏ کنا ہو أسی پ رکرے۔“ اور واقعہ بہ ھی ہو اکہ جب دہ اپنے با پگ بد ایت کے مطالبق شر میں 
پڑتضرق دروازوں ے پھہ داخل ہو٤‏ وا ںکی یہ ایی نم ہیر ال دکی مشییت کے متقا لے میں پچ بھ یکام 
تک لات ول فیس کک تحت و کر ےت یلان ےی یکو یکر 
ی۔ بے کرک وہ ہماری دی ہو گی معلیم سے صاح فلت گر ہک لوگ معام کی مقیق تکو جات نیں 
ہیں۔ ۸54 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 50ھ 

یہاں تچھر سمات آٹھ بر س کے واقعات در مان بی یھو کر سلسلہ بیان الس عملہ سے جوھڑ دمیاگیاے۔ جہاں 
سے بنی اس رائیل کے مصرختفل ہونے اور حضرت تقوب علیہ اللا مکو ا گم شدہ صاتج زار ےکا ند لے 
انا ہولی ہے۔ بی جو داقھات عیوڑد بے گے یں ا نک خلاصہ یہ ہے کہ خواب دای یٹ ری کے 
مطااقی حضرت بوسف علیہ السا مکی عکومت کے پپیلے ات سال مم میں انی خو شھالی سےکمزرے اور 
ان ایام شی انپول ن ےآرنے والے ققط کے بے دو تام ٹیل بند یا نیس نج نکامشورہ باد شاو کے خو ا بکی 
تیر بات وفت دددے گے تے۔ اس کے بعد کا دور شر و ہو ااور یہ قط صرف مصرجی میس نہ تھا لکیہ 
اس پاس کے عمائک بھی اا سکی لبیٹ میس آ گے تے شاممء فسطیینء خر اردنء شالی عحربء سب جلہ 


خشٹک سا یکادور دورہ تھا۔ ان عالات میس رت او سف علیہ ااسلامم کے دا مشمند انہاننظا مکی بدوات صرف 
مص بی ددمکک تماچہاں قیط کے پاوجھ دغخل ہک فراط گی اس لیے پسمادبہ ماایک کے لوگ مجبورہہوت کہ لہ 
ناک ےی لے ری رر کر و وا ای ے ضر رت طے 
العلام کے پھاکی خلہ خر بیدنے کے لیے مع نے الا ضرت او سف علیہ السلام نے غل کی اس رح ضابطہ 
ص۶۳ 02092 مالک ٹیل خخاضص اجازت ناموں کے اق اور اص مقد ار سے زیادد شلہ شر جا سکتا 
ہوگا۔ اس وجہ سے جب پر ادران لوسف علیہ العلام نے خی ر کیک سے اکر لہ حاص لک نا ابا گا و انیل 
ای ےل عالئ آعادت زا ےج پک ےکی رت تیزعت ود مار 
العلام کے سائنے ا نکی پیٹ یکی فوبت آ کی ہ وگ 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 51ھ 

بر ادران لوسف علیہ السلا مکا آ پکونہ انز یھ بحید از تا یں ہے جس ودفت اہول نے آ پکوکنوبسں 
یش پچھیکا ھا اس دفت آپ صرف حترہ سال کے لڑ کے تے۔ اور انب ہآ پک عھ ر۳۸۹ سال کے یک یک 
تھی۔ اتی طو یل مدت آد یکو ببت پکجھ بد د بت ہے۔ می ان کے وب مگمان یس بھی نہ کیہ جس بھائی 
کون میں سیک نے سے وج خ کاخ رخ علق م ون 

سورۃیوسف حاشی ٹنمبر: 52ھ 

افتار بیا نکی وجہ سے شاب کس یکو یہ جن بیس دقت ہ کہ حضرت اوسف علیہ السلام جب اق شخصیی تکو 
ان پھ ظاہرن کنا جات تے نے بچھ ران کے سو لے بعان یکا کر کیسے آگمیااود اس کے لانے پیھ اس قعدر اصرار 
کمرنے ےکی مصمی سے کی مل اس رب فو راز فا ہو اجاما تا لین تھوڑ۔ا و رکرنے سے بات صاف 
جھ یس آجائی ے۔ وہاں کی ضابطہ بندی تھی اورہ رشٹخص ایک مقر مقار خلہ ھی نے سکنا تو لہ لین 
کے لیے می دس بھاٹی آۓ تے ۔گھر دہ اپنے والد اور اپ گار عومیں بھا یکا حصہ بھی مات ہوں گے۔ اوپر 


رت و سف علیہ الام ن کہا کیہ تممارے واللد کے خو دن نے کے لیے توبہ ور ممقول ہو سکتا سے 
کہ دہ بہت اوڑ ھ اور نابینا ہیں گر بھائی کے ش ہن کیا متقول سبب ہو سکنا ے؟ ہیں تم ایک فررضی نام 
سۓ زائ غلہ اع لکرنے اور نین زناجائخجیازر کر ےک یک وص نو تی ںکمررسے و ؟ ان ہو نے جو اب میں 
ا ےگجھم کے باتھ عالات بین سے ول کے اور بای ہو کا ان دہجمارا تا ال ے اور رز وۓہارے 
واللد ا ںکو جمارے ساتھ کی بیں ما لکرتے ہیں تب حضرت بووسف علبیہ السلام نے فرما یا کیہ خیرء 
اس وقت نے ہم تہاریی زبا نکا اختپا کر کے ت مکوپراخلہ دبے دتت ہیں مگ رآ دہ گر تم ا کو سات نہ 
لاے و تہارااختبار جانتارےگااو پلک[ یہاں س ےکوی خلہ نعل سے مگ اس حالمانہ وکیا کے سا قح آپ 
نے ال نکو اپنے احمان اییٹی مہمان نو ازی سے بھی را مرن ےک یکو کی ءکی ومک ول اپنے یھو ٹ بھاٹ یکو 
دن اورک کے حالات معلو مکرنے کے لیے بے ماب تھا۔ یہ معاط ہکمہ ایک سادو کی صورت سے جو ڈرا 
مو رکھرنے سے نود نود مجھ یں آحالی ے۔ اس صورت بین باتز لکی اس مبالہ آمیز داستان پر اعاد 
رن ےک یکوکی ضرورت یں رہتی ج کاب پید الٹش کے ہاب ۴ ۷لم نیس بڑکی رکک آآمیزی کے ساتھ 
ٹیک یکئی ے۔ 

سورۃڈیوسف حاشی نمبر: 53ھ 

ال سے اند اذہ ہو تا ےک لوسف کے بعد ان کے بھاٹ یکو کیج وقت لیتقوٹ کے ول پ رکیا یج ھگگزر رہی 
ہگ یکو خداپر چھروسہ تھااور صیر و لیم میں ا نکا متقام خیایت بلند تما مر پچ ربھی تے فو انان پیء طرح 
مر کے ائد نے ول میں آتے وں کے اود رود ہک اس خیال سےکانپ اھتے ہو ےکلہ خداجانے اب 
اس لڑ ےکی صورت بھی کیہ سو ں گیا یا یں ء ای لیے دہ جات ہوں گ کہ ابیقی حعدکک ا قاط می سکوٹی 
سرن انھار گی جائۓے۔ 


ہہ اما بی مو ر کہ مصر کے وار اسلطنت یں ىہ سب بھافی ایک دروازے سے شہ ای ء الن سیا کی عالا تکا 
تقو رکرنے سے صاف بجھ میس آجاتاے جو وفت پاۓ جاتے تھ ء مہ لوگ سلطدت مص کی صرحدپرآزاد 
ای علاتے کے رن وا نے تھے ء اٹل مم راس علاتے کے لوگو کو ای شیہ کی اد سے د کے ہووں کے 
ٹس ہگادے ہنروسا نکی پر طائ وی عکومت آزاد ص رحدریی علائےۓ والوں آلغڑرورے جع ت یوب 
کو اندییشہ ہو اہ گ کہ اس قط کے زمانہ یس اگ مہ لوگ ایک جتھاپنے ہو وہاں داخل ہہوں کے و شاید 
ائین خش رتمچھا جا آود مان کیا جا کیہ مان لاؤٹ مارکی فرظ سن کر ہیں تچچلی آیت بن 
جرت یتقو ٹکا یہ ار شا دکہ "الا کی ہیں ء: یر ھی لیے جاو"اس مو نکی طرف خود اار ہک رہاے 
کہ يہ مفوروسیاسی اسبا بک رناء یر تھا۔ 

سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 54ھ 

اکا مطلب بہ ‏ ےک ہت ہیر اور نول کے در میائن یہ یک نیک نو ازن جو تم حضرت لیتقوب کے ن کور پالا 
اقوال میں پا ہوہ ہہ وراصل عم عقییقت کے اس فیضا نکا 7 یدلہ تالی کے نضل سے ان پر ہو اتھا, 
کیک ططرفدہعالم اسباب کے قوانین کے مطابق تام ایی تن ہیی ںکرتے ہیں جو عقل ور اور تر کی بناپھ 
ایا کر ی مک ن خیں, بیوں کو ا کا پہلا جم یاد دلاکر زج و تحبی ہکرت ہیں تناک دہ دوبارہ ولیمای جم 
مرن ےکی جم ات ن ہکم ریہ ان سے مد اکے نام پر عہد د پان لیت ہی کہ سو تیلے بھاٹ یکی جفاق تکرمیی کے 
اور وت کے سای حالا تکو وین ہو ۓ جس اعتیاعلی نہ رکی ضرورت سو ہو لی سے اسے بھی استتعال 
کر ےکا عم دتتے ہیں ناک ایق عل دک ککوگی مار گی سبب گھی الاشہ ر بے دیاجاۓے جو ان لوگوں کےگھم 
جا کا موجب ہو ءگھر دوصرکی طرف ہ رن یہ بات ان کے شی نظر سے اور ا کا با باد اظہا کرت ہیں 
ک ہکوکی انسانی ‏ جیر ال کی مشی تکونافز ہونے سے نی روک سکقء اور اصل جفاطت ال کی جفاظت ے ء 


اور ھروسا پقی نیروں پر نہیں بللہ اللی کے فضل پر ہوناجا ہی می کچ قوازن اپٹی باتوں ٹس اور اپے 


ھے٭٭ 


کاموں میں صرف وی شف چک مکرسکتاے جو یق تکا عم رکا ہدہ جو می بھی جانناب ھکہ حیات دنا کے 
ظاہ ری بیباو میں الڈد بنائی ہ کی فطرت انسان مس سی و عم لکا اض اک کی سے اور اس سے می واقف ہو 
کہ اس ظاہر کے تیج جو یقت لس الام ری لو شدرہ ہے ال کی بناپد اصل کاد فرباطاق تک وی ے اور اس 
کے ہوتے ہوے ایق سعی وش پیر انسا نکا چھروساکس قکرر بے جنیادے ء مچی ووبات سے مج سکو اکر لوک 
یں جات ء ان یل سے جس کے ذ بن پر ظاہ رکاخلبہ ہو اے وہ کل سے نائل ہ ھک تیرب یکو سب جج 
جھھ بیتناے اور جس کے دل پر باضن بچھا جا جاسے دہ حطر ہیر سے بے پرواہوکر نڑے پوکل بی کے مل بر 
زن دک یک گاڑی چلاناچابتاے_ 


رکوم؟ 


۔ 


و نَا مَکَلُوا مل يُوْمُف اوّی اِلَيْهِ آَعَاهٌ قال اق آتا اَشُوْكَ قَلَا تَبْمہش ہنا فَانُوا 
َعَمدُوْنَ د٥‏ فَنَنَا جَهَرَعُْبِجَهَارِهْ جَعَلَ الیِقَایَةً ق رش آَجِيْوِکُم اَذَنَمُوَوِن ايِنَھا 
کی من ت ر۶غ ۵ئ قَالوا و آَتْمَلو مَلَيْق کا ذَا تَفَقدُوْتَ دی فالؤا تَفَیْد صُوَاءَ 
ايك و لِمَنْ جَآء ہہ حِنل بَعِیرۃٌ آکا ہہ زَعَمٌ (ج) قَالوا قَاللهِ لَقَذ عَيِنَعمْ کا جِعَنَا 
نت خ اض و تا نَا مِقِیْن ری قالوا فا جَرَاؤَه اِنکُنَكمْ كذِبِیْنَ ر2 قالو 
جَرَاؤهحَن وجت خ رَمہ فَهْوَجَرَاؤَه کَْللك زی الشْلِييْنَ ه2 تَبَدَآباَعِیَیِهقَبْلَ 
وِحَآ و أَخِيْهِگُمَامتَرَجَهَامِن وِعَاءآحید مك ٣نا‏ لوف مَافَاتَلِيَأحْذَاَمَاة 
خ وین الْمَيْكٍ! ان اد ار تی من از و قَوْق کُل ذِن مج عَلْعٌ ‏ 

قَالَّ اِن وق فَقَ ترق اَم لهُمِن قَبَل فَأَنرَمَا يْومث ق تَفَيمََِلَۂْیِْيحَائَ قالَ 
انم عَرمَکَانًا ٴ٥‏ الله آفَذَم با تَصِفمُوْتَ ( قَالوا يَأَيْهَا الَِيإنَلَه آتا مَيْنَا سَبِيْدَا 
شا كَرَنتَا مان نَا تَزىكَ من الْنَحسِِیْنَ ي قَالَ مَعَاذَاللہ آَننَحَل الا مَن وَجَرّتا 


مَمَاعَتا نہ ٤‏ اِنَاِذَالَطلِئُوْنَ کے 


رکوع ۹ 


یہ لوگ او شف کے شور پچ و انس نے اپے بھاٹ یکو اپنے پا اانک بلا لیا اور اے بتاد اک ” یس حر اودی 
بھاٹی ہوں لاج ھکھو ماگ تھاہچہ۔ ا بکو ان پان کا تم نکر جویہ لو کرت رے ہیں 55“ 


جب شف ان بھائو ںکا سامان لدوانے لگا و اس نے اپنے بھاٹی کے سامان میں اپنا الہ رکھ دیا۔ 8 پھر 
ایک پپچارنے وانے نے پیا دک رکہا” اے تاے والدہ تم لوگ چور ہو۔ گے“ نہوں نے پاس فک نے چھا” 
تہار یکراج کھوٹ یکی ؟“ صرکاریی ملا ھوں ن ےکا ” پادشما ہکا انہب مکو نہیں متا“ بل اور ان کے پھعر ار 
ےکھاپہ ”جو خفی ل کر در ےگا اس کے سی اک پارشتر انعام ےہ ا لکاذشہ میس لپ ہوں۔“ ان بھائیوں 
ن ےکہا” خد ای کم ء تم لوک وب جات ہ کہ چم وید میس شا در میں آۓ یں اور ہم چو ریاں 
کمرنے وانے لوک میں ہیں۔ “انہوں ن ےکہا” اچھاء اکر ٹپ ےکی بات ٹجھوی لگی نو چو رک یکیاسزاے؟“ 
أنوں ن کہا ”ا سکی مزا ؟ جس کے سامان میس سے یہ یز کے دہ یپ بی اتی زائیس رکھ لیا جائےء 
ہمارے پال و ایی ظالمو ںکو سزادی ےکا بی ط ریہ ے۔ ”سب و ضف نے اپنے بھاٹی سے پلیہ ا نکی 
ریو ںکی جلاشی لی ش رو کی٠‏ پچ راپ بھائ یکی خکی سےگم شدہ زی ھآمدکری---۔ ایس رس چم نے 
وش فی اتی ابقی ت مر سےگی۔ شا سکاب کام نہ تھاکہ بادشاہ کے وین پلامتقی مصرکے شماپی نقانون ہہ 
ٹس اپنے بھائ یکو پک تا للا کہ الد ھی ایمااے۔ مل ہم جس کے در بے چا ہیں بلن دک دپے یںء اور 
ایک علم رینے والا ایا جو ہ رصاحب مل سے پالا7 ے۔ 


ان بجھائوں ت ےکہا ”یہ ور یکرے فو ین تج بک بات نی ء اس سے پپیلے ان کا بھائی دلو شف بھی 
چور یکر کے لوضف ا نکی یہ بات مگ نکر پ یمیا تقیقت ان پر نکھولیء ہس زیر لب پکہ ات اکہہ 


گر ر ہیاک بڈڑے بی ئرے ہو تم لوک لامرے منہ در مضہ مھ پر پچہ جو ال ام تم گار ہو ا سکی متقیقت 


.ھ2 ٭ 21 
غرا۶ب جاناے۔ 


انہوں تن کہا امے مسردار ذی اققہ ار داع زی 4ء انس کا باپ بہت ُوڑھا آد ھی ےء ا سک عجلہ آپ جم 
یر کو رکھ ییےء م آپ کو بڑابی کیک نُس انمان بات ہیں “او شف ن ےکہا بناوعداہ ڈو رے 
سی نف کو ہ مکیے رک کھت یں جس کے پا جم نے اپنل پایاسے تھا ںکوچھو کر ڈوسر ےکو رکتیں 
گے و ہم الم ہوں گے “ج۹ 

سورۃیوسف حاشیہ ٹمبر: 55ھ 

اس نقرے میں دوسماری داستان سحبیٹ دب کی سے جو اکینس باشاس بر س کے بعد دوفول ماں جائۓ بھائیوں 
کے لے پر بی آکی ہ وی ء حعحضرت اوسف نے بنایا ہ وہل ہمکن عالات ےےگمزتے ہو الس مر پ 
پنی ء بین کین نے سنایاہ وگ کہ ان کے تچیے سو نیل ہھائیوں نے انس کے سا تق ہک ایابد سا کیا ںکییں۔ پچھر 
حضرت اوسف نے بھاگ یکو لی دی ب وگ کہ اب تم میہرے پا بی رو کے ء ان ظالموں کے نے میں ت کو 
دوبارہ نیس جانے دوں گاہ بعد خی سکہ اسی موئح پر دوٹوں پھائیوں بی بہ بھی ہ وگیاہ دکہ بن می نکو 
مصرییش روک رین کے ل ہکیا تم رکیاجاۓ مس سے دہ پدد و بھی پڑارے جو ححضرت وف مصل بھی 
ڈانے رکھنا جات جے۔ 

سورۃیوسف حاشیہ نمبر: 56ھ 

پیالہ رک کنل خالباحضرت لوسف نے اپنے ھا یک رض مندی سے اور اس کے عکم می سکیا تھا جی امہ اس 
سے پیل وا ی آبیت اشظار کر ربی ے۔ حظرت اوسف لے دتوں کے مُچھٹرےۓ بے بھاگ یکو ال ظا 
سے بھائوں کے نے سے تپھٹرانا جات ہوں کے ء بھائٹی خو بھی ان ا موں کے سا تھ والیں نہ جانا چاہتا 


ہوگا همگر علاحیہآ پکا اسے ددکنااور ا سکیارک جانا خی اس کے ممکزن شواک ححضرت اوسف اپ خی تکو 
ظاہ رکرتےء اور ا سکا انار اس موشح یر مصملجت کے خلاف تھاءاس لیے دووں پھائٌیوں میں مشپور ہو اہ وکا 
کہ اسے دوک ےکی یہ نی رک جائۓء گر چہ تھوڑی دیر کے لیے اس ٹیں با یکی سبگی تھی ء اس پر چو ری کا 
دعب ہگن تواء لان بعد یس ہ دصبہ اس طر پکمانی دمعمل سنا ھاکہ دوٹوں پھائی اصل معالل ہکود ایر ظاہر 
گرریں۔ 

سورۃیوسف حاشب ٹمبر: 57ھ 

ا لآیت یل اور بعد دالی آبات با گنیگ یہی ایباکو کی اشارہ موجودغچیں ہے جس سے ہیما نکیاجا سس کہ 
جضرت بوسف نے اپنے ملاز مو ںکو انس راز یس شی فکیا تھا اور یں خو دییہ سکھایا تھاکہ تقا گے والوں پر 
جوا لمزم لگا َء واقع کی سادہ صورت جو ججھ میں آکی سے وہ مہ سےکہ پیالہ امو تی کے ساتھ رکھ دیاگیا 
ہو گاء بعد میں جب ص رکاریی ملاز مو نے اسے تہ پاماہوگاف فا سکیا کہ ہو نہ ہو ہکام انی نقافلہ والوں 
ےکی کاے ج یہاں تھہرے ہو نے تھے 

سورڈیوسف حاشیہ نمبر: 58ھ 

مال ر ےکہ بہ بھاٹی خماند ان اب ا تھی کے افراد تھے اہن اانہوں نے چو ری کے معاممہ ٹیس جو اون بیا نکیا 
دوش ریت ابر ال یکا قافوئن اشن کہ ور انل شی سک خلا یش دے دیاجائے جم کا مال ام نے سج ایا 
ے۔ 

سورۃیوسف حاشیہ نمبر: 59ھ 

یہاں یہ ام خور طلب سےکہ اس پا رے سلسلہ واقعات بی و ہکون کی تن ہیر سے جو حضرت لوس فک 
تا یش بر اوراست ند اکی طرف س ےک یک ؟ ظاہر ےک پیالہ رک کین ہیرجو ححضرت لوسف نے خودکی 
تی ء مہ بھی ظاہر ےک سرکاریی ملاز مو ںکا چو ری کے شب میں فا نے والو ںکور وکنا بھی سب معمول وہ 


کام تھاجھ ایسے مو انح پر سب صرکتادی از مک یاکرتے ہیںء پھر دو خائص خحد ای تم رکون کیا سے؟ او کی 
آیات یش لاٹ شکرنے سے اس کے سواکسی دوس ریچ ہکو ان ںکا مد اقی نیس تہ ایا جال اکمہ سررکاری 
لازموں نے خغااف معمول خودمشتتہ عزموں سے چو رکی سزال و ھی اور اغمہوں نے وو سز بتالی جو ش اعت 
رید کی اتآ کت ا کے دو فا کدے ہہوئے۔ ایک ب کہ ححضرت لوس فکو شش رلیعت 
برای پر عم لکا مو شع لگیاہ دوس را یہکہ بھائ یکو حوالات یل کین کے با اب دہ اسے اپنے پا رک 
سلتے تے_ 

سورۃیوسف حاشب تمبر: 60ھ 

نی بی بات حخرت لوس فکی شان می کے شایاں نہ شیک دہ اپنے یک ذائی معاملہ بیس شاو مر کے 
قافو نپ تم لکرتے ءاپنے بھاٹ یکو روک رکنے گے کیا نہوں نے خو دج تہ رکی تھی اس میں مہ لی وکیا 
ھی اک بھائی اور وکالؤضر ور حا سلما ۳ اکرع حر کے ممانون لو جزات ےکا ملھناپڑ جاء اورپ اں مر مان 
کے مطا بی نہ انس نے اختیارات علومت یبر اسسلا می تو انی نکی بچلہ اسلا می ش ربیعت فان زکر نے کے سے 
اپنے اتھ یس لیے ےہ اگر اللد چا بنانذ ان ب یکو ااس بد ما نشی ٹیس مبلا ہد جانے دیتا مگ اس نے ہی گوارا 
تن کیاکی یہ دحپہ انی کے داسکن پر دہ جا ئ٤‏ ء اس لیے اىس نے بر اہ راست ابق نم ہیر سے بی راہ کال دک یہ 
نات بر اوران وسف سے چو رکی مزال مھ گنی اور انہوں نے اس کے لیے ش ربیعت اب ان یکا قائون بیان 
تا مات کی ری تکازن تفع ین ات ا دو کے 
ہوئے لوگ تے اکر دوخود اپے ہاں کے دستور کے مطابق ا نے دب یکو اس شی سکی خلا ئی میس 
دسنے کے لیے تیار تھے چس کامال اس نے ج ایا ھاء فو پچ ر مصری مقانون تحزیر ات سے اس معاملہ می یرد 
لین ےک یکوکی ضرورت بی نشی بجی دو زس ج سکوبحع دی دو ول می اللہ ال نے اپنے اسان اور ایق 


یتین ےت فیا ات :ایک بے سیک لے اس نت بای کرای وچ اور یاوز کے : اذہ 
بھی بشر یمور کی نار خی لخزش میں مبلا ہورہاہو وذ انل لی خیب سے اس سکو ان کا اتظام فا 
دے۔ ایبابلند م رہ صرف اٹچی لوگو ںکو ماک جا سے جو اتی سجی ول سے بڑیی بڑکی آنزماکشوں میں اپنا 
"سن" ہونا شا ہ تکریے ہوتے ہیںء اور اگرجچہ نخرت اوسف صاحب علم تے خود بببت دانشمندی کے 
ساط ہکا مکرتے ے ‏ گر پچ بھی اس موئع پر ان کے طلم میں ای ککسرددہ یگ اور اسے اس “ستی نے لو را 
کیاجو ہر صاحب حلم سے بالات ے۔ 

یہاں چند امور اور وضاحت طلب رہ جات ہیں مجن پیر بھم من لا مکمریں کے : 

)۱( عام طور پر ال آبی تکاترجمہ ب ہکیا جانا کہ ''اوسف بادشاہ کے تافو نکی رو سے اپنے بھاٹ یکو نہ پڑ 
سا تھا میتی سا چان یش کو مت رین و مفسرین عدم قدرت کے معن بیس لکیتے ہیں ن کہ عدم صحمت 
اور عرم مناسبت کے معن میں لان اول تو ىہ ترجمہ و تضی رع ری مماورے اور ق رآ اقعالات دوئوں کے 
باط سے ٹیک نیس سے مکی وککہ عربی میں عموم ما کان له “ئگ ما يَقبَغی لهء ما صَخ لەٗء ما 
امنممتَقَام لئ ء و غبرہآاے اور ق رآن میں بھی مہ زیادہوتر ای مع میس آیاے۔ خ(آیت )سا فَانَ ان 


ے۔ 
ید 2 
مسے 


۰ 0 ہے کے کو 0د ُ ثٰ وی ہ۔ 2 7 07 

يَتنْذمِن ول -مَا کان لنا آن نضراۓ باطومِن شی -ما کان الله لِيْطلِعَکَمَل القَیْب -۔ 
گے :- ۰-۲ وھ 1 ط - ت۳ ہے 2 ت۔جپ- ۰ م١‏ 

مَا کان اد لِيَْضِیَََاِيْمَانکۂْفا کا ناد لِيیظیمغ - ما کان الد لِيَذر الئنٹومیِين لی 

ےہ سے کے رم سے ر2 ہے ۔ہ۔ ہو کے 2 ے 1 ۰ اب 

ما ان عَليْد -مَا کان لِمُٹومِن از قش مو سنا دو سر ےاگمر اس کے وہ معن لیے حایس جھ 


مین ومفس ین پالسوم پیا نکرتے ہیں توبات پالئل پل ہو سائی ہے بادشاہ کے تقانون میس چو رکون پڑ 


سک کی آخر وج ہکیاہوسلتی ے؟کیاد نیا یس کچھ یکوئی سلعطزت السی بھی ری سے جس کا نون چو رکوگر قار 
رن ےکی اجازتث دیتاہو؟ 

(۳) اش تعالیٰنے شابی مانون کے لیے ' وین الیک 'لکا لفظ اتا لک کے خود اس مطل بکی طرف اشارہ 
فرمادیاے ج ماکان لیاخذ سے لیا جانا اہی ء ظاہر ےک الڈ رکا خٹمجر زین بیس ''دین اللہ '' جار یکر نے کے 
لیے محوت پہو اتا کہ "وین الملک "جار یکر نے کے لیے ء اکم حا لام تکیا مجبد ری سے ا سکی حکومت میں 
اس وفت کک پاری طر دن اللل کک عچکمہ دین الللد جارکی نہ ہو کا مانب بھی ام ازم میغبر رو 
کہ اپنے الیک تفصی موالہ میس د لانیک برک ليکرے۔ اہ اضرت لوس کا دن الک کے مطابق 
اپنے بعائ یکوشہ پل نا اس بنا پر نیس تھاکمہ دب الملک می ای اکن ےکی گفیائکش نہ تھی بلکلہ ا سکیا وجہ صرف یہ 
تع یکہ بر ہون ےکی حیشیت سے اق ذائی ح دای اد یر ت٥‏ لکنا ا نکا رض تھا اود دین المل کک 
پیروکی ان کے لیے قطعانا مناسب شھی۔ 

(۳) قانون مگگی (003] :۶ہ )1]٣۲‏ کے سے لفظ' ومن ”ٹا لک کے اود تھالی نے می دی نکی 
وسعمت پواریی ط رب وا حکر دگی سے ہ اس سے ان لوگوں کے تور وی نکی اکٹ جائی سے جو انام مہم 
السلا مکی دجو تکو صرف عام بی ممنوں میں خدراۓ داع دکی و جاک انے اور جس چند جھ بی مرا مو 
خظا حل دی اہن یکر ا نے جک ا اور بہ خی لکمرتے بی کہ انسا یی تمرنء سیاست معیقتء 
عرااتہ تقانون اور ایپ بی دوصرے دیو یی امو رکاکو گی لق ومن سے نیس ےےء با اگمر سے بھی فان امور 
کے بارے میں دی نکی ہدایات شض اغخنیاری سغارشات ہیں مجن پر ار شل ہو جاۓ آے ابچھاے ورنہ 
انمانو ںکواپنے بناۓ ہو ۓ اصول وضو ابی قو لکر لیے میں کچھ یکوکی مضا کہ غییںء یہ راس رگم رابانہ تصور 
دزن ء جم کا الیک مرت سے مسلمائوں میس ججہ چاے جو ببہت بڑئی ح کک مسلمانو ںکو اسلائی نظام ز ن دی کے 


قیا مکی سی سے فاخ لکرن ےکا ذمہ دار سے ج سک بدوات مسلرا نکفرو جا بلیت کے نظام ز ‏ دگی پر نہ صرف 
رش ہے ایک ن یکی سنت مجح ھکر اس اظام کے پرزے بے اور ا کو ود چلانے کے ےکی آمادہ 
ےن نآ کرد تنا فلط خثابت و ما ےء بیہاں الد تحالی صاف بتار ہا ےک بس طرئ راز ءروڑہ 
اور دینغ سے ای رس وہ نقانون بھی رین سے جس پر سوسا یکا نظام اود لن ککاافظام چلایا جانا ے۔ لہ ا 
١ن‏ الْزِيَْ حِند الو الِْملَامُ اہ وَعن يَبَعَع غیَالْدِملاِ دِيْنَافَلن مل سنہ مر 
آیات میں جس دی نکی اطا عم تکا مطالب ہک یاگیا سے اس سے راد صرف نمازہ روزہ بی میں بلہ الا مکا 
ای نظام بھی سے جس سے ہہ فک می ذوسرے نظا مکی پیر وئی خداکے ہاں ہ مگز مقبول نیس ہوسکتی 

(٦)‏ سوا کیا جاسکنا ےکہ اس س ےگ ا زم یز و ثایت ہو ما ےکلہ اس وش کیک مص کی عکوامت ٹیس "ادن 
الیک 'ی جار تمہ اب اکر اس عکومت کے ح اکم اعلی حضرت او سف بی تھے جبی کہ تم خودپپیلے خابت 
ری ہوہ نواس سے ازم متا ےک حضرت اوسف ند اکے تیر ءخود اپنے ہاتھوں سے ملک میس "ادن 
الیک" جار یکر رسے تے ء اس کے بعد اگ اپنے ذاٹی معاملہ ٹیل حظرت اوسف نے '' بین الیک '' کے 
باۓ ش اعت ابر اتی پر ع لکیا بھی نو اس سے فر یکیاواضح ہو ا؟ ا سکاجو اب مہ ےک حخرت اوسف 
مور و دین الد جار یکرنے ہی پر تے اور ہی ا نعکا مر انہ مشن اور ا نکی عکومت کا مقصدد جو مر ایک 
کن ککاظام جملا ایک دن کے اند ر نیس بدل جا اکر جاءآج اگ کوٹ باککیہ ھارے اخقتیار بیس ہہو اور چھم اس میں 
اسلائی نظام مق مرن کی خالص یت بی سے ا کا اظام اپنے بات میں لیٹس رب بھی اس کے نظام تعدان ء 
نظام معاشیء نظام سیاست اور نظام عد الت و مقانو نکو پالفعل بد لج بد لے بر سو ںالک سائیں کے اور رجہ 
رت کک مکو اپنے انتظام بیس بھی سالقی قوائین بر قرار رک پڑیں کے ءکیامتار تاس بات پر شابد کیل 
س ےک خوونی صی الد علیہ وصل مکو بھی عرب کے نظام ز ن کی میس ہپ رااسلا می انقلاب بر پاکرنے کے لیے نو 


دس سال گے تتے ؟ اس دوران میں نخاتم ایی نکی اتی علومت میس چند سال شر اب نو شی ہو لی رجیء سود 
لبااور دیاجا تا باء جا ہی ت کا تقائون مب راث جارکی دبا پر انے قو این اکا و طلاق بر قراررے مو فاسد کی 
کی ضو تین تی یس آکی رہیںء اور اسلای قوانئین دبداٹی فوحد ار بھی اول روز بی بقام وکمال نافز 
یں مہ یں اکر حفرت ری کی تزمت مین ازت گی نل سال کین سراىقع محری اد شارت کے 
کچھ قوانین لے رے ہوں فو اس میں تج بک یکیا بات سے اور اس سے بہ وی لکیسے لکل آ1کی ےکہ اکا 
یٹم رمصرمیں خمد ا کے وی نعکو نیس بلللہ بادشماہ کے دی نکو جار یکر نے پیر ماصود تھا رجیا یہ با تکہ جب ملک 
ٹس دبین الیک جاری تھائی تو خر تظثرینت لوس کی ابق ذات کے لے الس پر ش لک ناکیوں شابان شان نہ 
تما نیہ سوال بھی نی صلی اللد علیہ و سکم کے ط وق پر مو رکھرنے سے پاسانی عل ہو جا تا سے ہ نی صلی ان علیہ 
ول مکی علومت کے ابتقہ اکی دور یل ج بکتک قوا نین ال بی حجارکی نہ ہو تے ء لوگ پر انے طر یت کے 
مطا بی شراب بت رے ہگ رکیا حضورنے بھی پی ؟ لوگ سد لیت دنت تے 1گ کیا آپ نے بھی سود یلین 
دی نکیا ؟ لوگ من کرت رے اور جع بین الا تی نکرتے رے ہن کیا تضمور نے بھی ای ایا ؟ اس سے 
معلوم ہو ا ےکہ داگی اسلا ٹ یکا تی مجبدر یو ںکی بنا پر اجکام اسلائی کے اج اء یل ند ری سےکام لین اور چز 
0 ۲ سڈ 
دوروں کے لیے ہیں ء داگ یکا ابا ہکام نیش ےک خحود ان طر پیقوں میں سے می پر عم لکرے جن کے 
مٹانے پر دہمامور ہو اے۔ 

سورۃیوسف حاشب تمبر: 61ھ 

بی اہول نے ایق خفت مٹانے کے لے ےکہاء پیل ھہکہہ گے ےک عم لوگ چچ ریس میں ء اب چو دی کہ مال 
ہمارے بھائ یکی خ رق سے بآم ہ گیا فو فوراالیک مھ وڈ بات :ناک اپے آن پکو اس بھائی سے ال ککم لیا 


اور اس کے ساتھ اس چیہ بھا یکو بھی لبیٹ لیا۔ اس سے اند اذہ ہو ما ےک حضرت اوسف کے می ین 
ین کے سماتقھ الع چھا و ںکاکیا لوک دباہ وگ اورکس بنا یر ا لک اور حخرت لوس کی ىہ خو اہ ہوگی 
کردو الع کے سا تھ نہ جائۓے- 

سورۃیوسف خحاشیہ تمبر: 62ھ 

یہاں لفظ'ع زی 'نضرت اوسف کے لیے جو استعمال ہو ا سے صرف ا سک بنایر مفس رین نے قا کل کہ 
رت وسف ائی منصب پر مامور ہوۓ تھے ٹمس پر اس سے پییلہ زلیناکا شوہر مامور تھا چھر اس پیر رید 
اما کی مار تکنٹرب یکر یگئ یک اق عزیم رگم تھاء حضرت بوسف ا لک عچلہ مقمرر سے گئےء زلٰغا 
زع لے ےرپ ے ان الیک شاو ضر نے ان سے رت بت اکا اک اک وی 
سےکہ شب عوسی میں ححضرت بوسف اور ز لاک کو میان جھ بات ہ ٗی ددم ک می ذد بج سے جمارے 
مفسری کوک چکنھیں.. حا اکلہ یہ سب پاتیں سر اص روم ہیں افط ع زی ا کے متحلق ہم کیہ کے ہی کہ 
بی می کسی خاصص منص بکانام نہ تھابلہ شض ''صاحب اقنڈ کے می میں استعا لک یاکیاسے ۔ الما 
مصرٹیں بڑے لوگوں کے لے اس ط رب گاکوئی اط اصصطلا ا رای ھا سے ہوارے ملک میں لف 'س رکا ر'' ہوا 
جاتاے ء ا کات جمہ تق ران ٹیل 'عزیز' اگ اگیاے۔ دہاز لیا سے حضرت او س کا کاےء نے اس افسمان ےکی 
فیاد صرف یہ ےک اتل او رجهمود یں فور کی بٹئی آسناتھھ سے ان کے نیا نکی ردایت بیا نک گی سے 
۔ اور زایا کے شوہ رکا نام فوطیفار تہ ىہ چیزری اص رائیی روایات سے لفل ور نل ہوقی ہوگی مفسرین ججک 
یں اور حجیاکہ زبای افواہو کا تاعددے ء فوطفرع باسانی فوطیفار بی نیگیاہ بٹ کی تہ ہی یکم لک اور 
0 0ل وی ا و 
رح ''ئرسف زلغا "کی تصنی فعمل ہوگئی_ 


سورۃیوسف حاشی تمبر: 63ھ 

ایا ملاحظہ ہ کہ "چو ر "فی ں کھت بللہ صرف بی کت ہی کہ ٹس کے پاس چم نے اینامال مایا سے '' ا یکو 
اصطلاح شرع میس 'فوریہ کت ہیں نی حقیقت پر پردہ ڈالنا یا امر واقع کو یناہ ج بعسی مظلو مکو نلم 
سے بیانے پاکسی بڑے مم ہکو و کر ےک یکوکی صورت اس کے سواہ ہ کہ پٹجھ خلاف واقعہ با تی 
جا کوٹ خلاف تقیقت حیل ہکیاجاۓ نذا کی صورت میس ایک پر ہی زار آدبی صرح عجھوٹ ہو لے سے 
زا زکرتے ہو ابی بات کے ماا کی تہ رن ےک یکو کر ےگیاء جس سے جقیقق تکوچی اکر بد یکو 
دٹ کیا جا کے۔ ای اکر نا شرع واخلاق ٹیں جئڑے بش رططبلہ شح ‏ کام کا لے کے لیے الیمانہ کیا جا بل کسی 
لی را یکودد رک رنہ اپ دک کہ آنکگارے مال فیس حففرت زو نیت ن ےگ رح مال زلز کی 
شر ایا لور کی یں۔ بھال یکا رضا مندکی سے ان کے سعامان می پیالہ رک دیالگھر ملاز موں سے یہ می کہ 
اس پر چو ری یکا الزام لگا بچھرجب س رکاریی ملازم چو ری کے الام بی انل وگو ںکو پھڑ ا ئۓ تو ما مو شی کے 
سا اش ھکر جلاشی لےےکیء پھر اب جھ ان چھاٗوں ن ےکہاکہ جن کیاکی کہ م میں س ےکس یکو رھ یی ء لے 
اس کے جو اب یں بھی ہس اس کی بات الن پر اٹ دی یہک تہاراابنا فک یہ تھاکہ تس کے سامان یں سے 
تمہارامال لے ونی رکھ لیاجاۓ سو اب ممہارے ساسئے بن ٹین کے سمامالن میں سے جھارامال لے اور ای 
کو ہم رکھ مکی ہیں دوسر ےکو ا سکی ہل ہ کے رکھ کت ہیں ؟ اس عم کے قرب کی مثالیس ود نی صلی الد 
علیہ و سم کے غرزوات ٹیں بھی ملقی ہیں اورسی ول سے بھی ا سکواغلا ما معوب نی سکہاجاسکا۔ 


٣۶وکر‎ 


َ۔ 


٦‏ 20و 6 عَلكًٌ١‏ حا ا " قَالکہ رہن انز تَعْلمُوَا آكَ ا کۂ قَر اَحَدٌ 


َ۔ 


مَلَمْكَمََوْنمان حت وف فَلَنْ آبَرع الاَزضی حقی يَأَكنَ ؿْ 


بت 


پوسید و وٹرکتوفمیت صرجنڑارل ےر نز ات اتا انتت 
ق وَمَامَهِذْتَاالابِمَاعَنتا ما نَا لِلْقَْب خدطِیْع (ك مَم الَقَرية الکن 
فِيْھَا ةَ الْعِیرَالیّ اَتْبَلَتا فِيِهَاٴ و رنَاَيِِِکُوْتَ جي قال بل مَوَلَ‌ثَ تکۂ آئئنگۂ 
قَصبْدِجَمِیْل“ عَی الله آن ایی بے جَيِيْم ا اتَّدحُوَالْعَوْع امم 1 تول 
عَنحُ ة قَال یاملٰی عَل بُؤشف دَ ابَیَضّت عَيْله ملژن فَهُرَکَيع 2 اڑا تاللہ 
0 مت عای کرت عرما آزتزہ بن لْوْیسوبح ھ ڈال شاف 
یکر تپ مَِىٌاذْمَبُوْافْتتَمَسُوَامِن يُوْمّفَ 
وَاَجِیْدِوَلَا تَا َِعوْامِندَذساللہ وا ہش قد حون < 
فَلَمَا سمہیس ہسوب میں 
فَاَوْفِلَنَا الیل وَۃ قَصَّق مَلَْنَا ٴا الله يَجْری الْنْتَصَرْة قِيْنَ د قال مَل مَنَغ کا 


فَعَلعم بیو تس غف زَ آَحِیْدرِذأنكغ جھنوت دق قَالَڑا عَالَك انت ومٹٴ قَال اتا يُؤْمْف و َ 


5 


یک ٭ ن لو ۔‫ ً 7 ہے“ ۔۔ْ9ہْ 7 لے > و بت-- ٦و‏ د 1 
هٰذ١‏ ا قد مَنّاللَهُمَليْتَا 777886 99پ "9+۷+8" 
قَالوْا کاللہِ لَقَنْ اكَرك الله عَذَ َلَيْنا ‏ ان کُنَا كَطِيِیْنَ :3 قَال لا دَثرب حر 


ھے۔۱ 


7 ہے کی 7 ہے ےم 
الوم وَلْف الله سز دَمُوَآَرحَۂ الٰحِيِنَ م٥۱اهُمَبُوا‏ 0ەە+ 


ً9 َ ےم ۔ کچھ رج کل 2 کل پڈے ك 
وَجدائ يَاتِبَوِیڑا و آتوْخ باهِْکطۂ اجِمَعِین ے3 


٣ رکوع‎ 


سے دس گے انوس ود گے لی نی کین ال لوس میں مو کر کی گی از من یب ےے 
بڑاخھادہ پوا تم جات کیلب کہ تمہارے والد تم ت شد اکے نام پر عہد وہیپان لے گے نہیں ؟ اور اس سے 
پیل شف کے معاملہ میں جوزیاوثی ت مکر گے ہووہ بھی خ مک معلوم ہے اب میس نے بیہاں سے ہ رگمز نہ جاتوں 
گاج بک کک ہ میرے والد مج اجازت نہ دیس یائچھر الد عی می لاتق کہ سکوکی فیصلہ فرمادر کہ وو سب 
سے بت فیصل کر نے والاے۔ تم جاک اپنے والد س ےکپ کہ ” اباجانء آپ کے صاتزادے نے چو رک یکی 
ہے پھم نے أسے چور یکرت ہو ۓ میں د یکاہ جو پچجھ ہیں معلوم ہو ا سے یس وبی ہم بیا نگم ر سے ہیں ء 
اور خی بکی کہ پان ہم نکر سکتے تے۔ آپ اس مصتی کے لوگوں سے وھ مییے جہاں جم سے اس تا لے 
سے دریاف تکر یچک جس کے سا مآ ہیں |م اپے بیان جس پالیئل ہے ہیں۔ “ 

پاپ نے بی داستاع مل یک رکہا” جا لی ای نے لیے تار لے نکی ات ٣ال‏ 
دیا۔ ھت ا یچھاء اس پر بھی صب رکرو ں گا اور ہل کرو ں گا ۔کیا بج یر ےک الد ان س بک مھ سے لاملا ےء وہ 
سب بٹھ جاغناے او راس کے سب کام حھمت پر نی ہیں“ روہ نکی رف سے من پگ رکر میٹ ھگیا اور 


کے اک ”ہائے شف !“.... وہ دل ہی ول مس غم س ےگا جار ھا اور ا کی ہیں سفید ڑگئی " 
 +‏ لے کہا خحد ارا! آپ فو سوشف یکو اد ییے جات ہیں۔ نوبہت بے اک ے 0 

مم 80و دیس کے ۶۶۷و و کین ےکھا نمی ایق پر بای اور اپے 
م کی فریاد الد کے سو ای سے مر اکم جاء اور اللہ سے چبیما یل واقف ہہوں تم حم میں ہو۔ مہرے پیوء اکر 
وف گ۸27 اھ وو لگاہ ال ریا رححت سے مال اش وأ ںکی رت سے ٹوا سکافربی مالول 


جب یہ لوگ مص چاک ٹوش فی شی بی داشل ہو ۓ وا نہوں نے ع رخ سکیا ”اے مسردار با اق اہ ہم اور 
ہمارے ائل وعیال مخت معبیبیت میں ہتلا ہیں او ٢مھ‏ 5 


قیری و بھی لے مک ہآ ہیں ء آپ یں بج یور 
لہ عنایت فررائیں اور ب مکو خیرات دیس الہ الد خر ا تکمرے والو ںکو جزاداے_' علیہ م نی کراوشف 
سے رہن ہگیاپچہ انس ن کہا ” 8-290 بھی معلوم ےکلہ تم نے لس ف اود اس کے بھائی کے سا کیاکی 
تاج بکہ تم نادان تھے ؟“ وہ چو کر ہونلے ”بای ! کیا تم فو شف مہو ؟“ اس ن ےکہا اس بیس او شف 
ہل اور یہ مم اچھائی ے۔ الد نے پھم پر اسان فرمایا تر 79 7 نی اور عر انرک 
ےہ ہاں اش نیک لوگو ںکا اج مارا یں جاتا_ “ سے سہ تپ 
2 اور واشتی ہم خطاکار تے۔ “ ےپ تا تم پ کوٹ یگرفت یں ٦موس‏ و 
وو سب سے پڑ ھکر رتم رانے والا ے۔ جاؤہ می راہ لی نے چا اور میرے واللد کے منہ راودا 
کی بیناٹی لٹ آائے گی اور اپنے سب ائل و عیا لیکو میرے پا لے 51- “ح٠۱‏ 


سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 64 ھ 

می تمہارے نزدیک بہ ہاو رک رلھنا ہت آسائن س ےک مر ابیٹا٘س کے سن یرت سے میں خوب واقیف 
ہو الیک پیال ےکی چو ریکام ح لب ہو سلنماے۔ پییلے تمہارے لیے اپنے یک پھاٹ یکو جان وچ ےک رگ مکردینا 
اور اس کے ٹیش پر جھوٹاخون ل اکر نے آنا بت آسا نکام ہودمگیاتھا۔ اب ایک دوسرے بھائ یکو وا فی چور 
ان لینااور جھے اکر ا سک خمر دنا ھی وییابی آسمان ہہ وگیا۔ 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 65ھ 

یی ہماری ا سگزارش پر جھ وھ آپن: دی کے دہگو یا آ پکا صدقہ ہوگا۔ اس مخ ہکی قبت میں جو گی جم 
یکم رے ہہیں دوفو ینک اس لا نی غیین کیب مکواس قدرخلہ دیاجاتے جو ہماری ضرور تکوکاٹی ہو 


رکو۷۶ 


و َلَنا فصن الْعيرقَال ابوْهإ( لاجد ریم يُوْمت تَوْلاآن تُقَيِدُذن :2 فَالوا تَالِرنَكَ 
پیپوئئسروودس وت را رو رم 
َقُل لح اق اَل مِن اللہ ما لا تَمْلَمُوْنَ ہے قَالوا پاباتا امْعمَغْفْ لنا مُنُوْنتَا انا 
نَا غطِيِیْنَ رت قَال سَوْف آَمَمَففُتَسمرَق ِلد مُوَالْفنُوْز دح رےَنَلمَامَحَلُ 


ظط 


عَلٰ يف ١اذَی(لَمْد‏ اَبَوَيْهۃ قَال اهَشذوَاِمِضرَ!ن مَآءَ الله امييْىَ هََِ٥َرَفَع‏ أَبَوَيْوِمَلٌ 


دہع ےے 2د سی ویو کر ہے ہکےہ ےم دتگھ ود۔٣‏ ۔ : ى٠‏ 2 صعم۔ 2ط 
الع سش و خڑوالہ چجدا و ل يابّتِ ھذ١‏ تاود رَعَيائمِن قمُّل قں رَدْحَقًا و 


ےےًَْْ۔ 


قُنْ امن وٌ١ِڈ‏ آَحْرَجَی من الفجن و جَآء بِکُم َإالْمَذُو مِنّ بَعْدِ ان تَوۃٌ لق 


َ5 وسر ے ۔ و ث ۔ 7 ۸+0 ۔ "1مد رو تو ای ہے 
يَهّىْوَمَنىَ!ِخوَق اِنرَيْلطِيیْف 30 ائك تَدَحُوَالْعَيْعٌئع دےي رب قد اتَْتَیْ 


اللُّیا د الذاحرة تَوَثَیْ میا ڈ آلیٹی باضفیّع تک ذٰلِكَ من اَنْبآء التب 
ُوْحِيْدِاِلَيْكَ 1 تا نت لَدَيْه اذ آَجْمُوّا مغ وھ يَنکُزذن ( د ما اَُلٛ 
النَاس د آؤ عرضت بئُؤميْنَ 0 ة ما تَْکَلّْ مَلَْه مِن آجُر !ِن مُو الا وو 


ں2 2 )ء۳ 2 


١ رکوع‎ 


جب یہ قافلہ دمرس پگاروانہ ہو ان ان کے با نے و لاکتعان یس پ کہا“ میں وش فک خوشوو نو سکر 
رہامولء ںہ لا لرگ ہیں پک رکش بڑھاے می سٹیاہوں۔ رس لگ نے" قرکی 
عم آپ ائچھ کک اپنے اکا یر انے خبا یٹس پڑے ہو ے ہیں ک9“ 


پچ رجب ش وش ری انے دالا آیان اس نے ٹوش ف' کا فی لعتقوب کے منہ پر ڈال دیا اود پکا یک ا کی بنائی 
عو دک آآئی۔ جب اس ن ےکہا” میں تہ ےکتتانہ تھا؟ یس اد رکی طرف سے دہ بکھ جات ہوں جو تم نہیں 
جات" حب بول آھ ”ا جانء آپ ایخ خی کت ے اکر ء وانچی ہم خطاکار 
تتے۔“ سن ےکا میس اپنے رٹ سے تھہارے لیے معائیکی درخ اس تک دو ل گاء وو ڑا معاف فرمانے 
والا اور ر بھم ے۔“ 


ارب یہ لوگ لوشف کے انس پچ 8أ نے اپنے والمدی نک و نے ساتھ بٹھالیا ‏ اور ٹڈ ان سب 
نے والوں سےکہاپا' لو اب شر بیس جیلوہ اڈدنے چاہا این ملین ے رہوگے_ “ 


پڑ شر میں داخل ہونے سے بعد اس نے اپنے والمدی نک اُٹھاکم اپنے پاش تخت پر نٹھایا اور سب انس کے 
آکے ہے اختیار سحیرے میں نیک گے۔ کن بے اباجانء مہ لحجییرے میرے ا خو ا بکیج 
شس نے چیہ دریکھا تھاء میہرے ری نے اسے حقیقت بنادیا۔ ان کا احسالن ےکم اس نے جھے قد خانے سے 
اگالاء اور آپ لوگو ںکو صحھراسے لاکر مھ سے مایا عالمامکنہ شیطان میہرے اور مہرے بھائیوں کے در میان 
فسادڈال چک نتھا۔ داقعہ ىہ ےکہ مر ارب غی نو س تل ہیروں سے ابیقی مشنت و ری یک اے ء بے شنک وہ 


یم اور میم ہے۔ اے میرے ری ہو نے بے علومت مشتی اور یے بانو کی تہ کک چنا سکھایا۔ ز مین و 
آسمان کے بنانے وا لے کو بی ڈنیا اور آخخرت میں می را صریرست سے مر اخاعقمہ الام پ رکم اور انجا مکار 
کے صاشین کے سرانق مآ“ 


اے حرکء مہ قصدہ خی بک خروں یں سے سے جو ہم تم پر وگ یکر رے ہیں ورنہ تم اس وقت موجو دنہ جے 
جب وش ف کے بھائیوں نے آ یں میں انف قکر کے ساؤ کی عفھی ۔گر تم خوا ہکتناجی چا ہو ان ٹیش سے کشر 
لک ما نک دن وانے میس بہیں_ ما امہ تم اس خدممت پر ا نے کوکی ارت بھی نیس ما گت ہو۔ بر 
قویک لشیحت ہے جو دنیاوالوں کے لیے عامرے۔ ے2 ١١‏ 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 66ھ 

ایس سے اندیاء مہم السا مکی خی ر معمولی توق ں کا اند اتا ےک ائبھی مقافلہ فرت لوس کا فیس لیر 
مصرسے چلاے اور ادھر سیلڑوں نیل کے فاکلے پر حضرت تقوب ا لکی ہک پا لیت ہیں گر ای سے یہ 
بھی معلوم ہو جا ے کہ ایا مالسلا مکی یہ تو تی پھھ ا نکی ذائی یں مہ الک بھشنٹ سے ا نکی 
گی اور الد جب اود جس در چاہتا تھا انی کا مکرن ےکا مومع دبا تھا۔ حطخرت اورسف برسوں ممصرٹیں 
موجوورے اور بھی حضرت یتقو بکو ا نکی خوشبوتہ گی گر اب یسیک قوت ادرا کک تی ز یکاہ عال م 
ہوگیاککہ ابھی ا نکا فی مصرسے چلاہے اود دہال ا نکی ہک لی رو ہوگئی۔ 

7 و و000 واج دی 
یڑ یکر دہاے ء اور دوصرىی رف بنی اص رائنل ا نکو ای رنگ میس دکھاتے ہیں ججیدا حر بکاہر معمولی بد 
ہو نے ء اتیل کابیان ‏ ےکہ جب بٹوں نے اکر خج رد یک لوسف ا بکک جبےاے اور وہی سمارے ملک 
مص رکا حا ے تو یتقو بکا ول دوک سے د ہگ اک وکلہ الس نے ا این ن ہکیاء اور جب الع کے باپ تقوب 


نے وہ گاٹزیاشن دککھ لیس جو اوسف نے ال کو لانے کے لیے ہیی میں نب ائ کی ازم یس ان کی 
پر انش:۵م ٦۔ے ٣‏ 

سورۃیوسف خاشیہ نمبر: 67ھ 

اس سے معلوم ہما ےکہ پپورے نان ان یں حضرت بوسف کے سو اکو کی اپنے با پکا قدد شا نہ تھا اور 
حضرت تو خو بھی ان لوگو ںکی ذہنی و اغلاقی بجی سے مابوس تے ؛کھ مر کے جج ا کی دومن باہ رکیل 
رق تی مخ کے ہے لت اور ا نکی ماش وہای تککارتے تے را ھا 
فطر ےک اس ستم ری ے مار نیدی شمیتو ںکو۔ابقہ یآ ے۔ 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 668ھ 

ایل کا بیان ے کہ سب اظر اد غاد ان جو اس موم ہے گے ے٦‏ تے۔ الس تع او میں وو ین ےکر اوں 
کی ان لڑکیو ںکو شر خی ںک ایا ے جو حضرت یتقو کے ہاں بیاہی ہو گی آکی یہ اس وفت حضرت 
تقو کی ح م۳۰ اسمال ےشکر یس کے اسمال ڑنزورے۔ 

اس مو پر ایک طالب عم کے ذ جن میں یہ سال پید الو تا ےکہ بی ار ائیل جب مصرمیں داخل ہو تۓے 
و حضرت او سیف ممیت ا نکی تحد ۱د۹۸ تےء اور جب تق میا۵ سوسسال کے بعد وہ مصرسے کے وہ کھوں 
کی تعد ادس تے ء با مم لکی ردایت ہ ےکہ خر وج کے بعد دوسرے سمال بیاپان دنابیس حضرت موک نے 
ان کی جو مردم شحاری یکر اکی تھی اس میس تصرف تائل جنگ مر دو ںکی تد اد * ۵۵ ۹۰۳ شی اس کے می 
یہ ڈی کہ عورتء ھر دہ ہے سب ملاک دوگ ازم * ۴لک ہوں گے ۔ک ای ساب سے پا سوسال یل ٥۸‏ 
آدمیو ںکی اتی اولا و ہوستی سے ؟ مص رک یک لآ بای اگ اس زرانے میس کروڑ ف رخ کی جائے(ج یقینا بہت 
مبالضہ آمیز اند ازہہہوگا) اس کے مج بہ ہی ںکمہ صصرف بی اصرائنل وہاں ١١‏ فیصد تے کیا ایک خاندان 
جس جال کے ذریجہ تے اتطابڑھ سکتا سے ء اس سوال پر مو رکرنے سے ایک اہم یق تکا اکشاف ہوا 


ہے ء ظاہر بات ہ ےکہ ۵ سو برس میس اسیک خماند ان و انا نیس بڑھ سکناء لین یی ا راننل رو ںکی اولاد 
تھے ان کے لیر رت بوسف مج نکی بدوات مصرمیس ان کے قیدم حے ‏ خو در تے ء ان کے بعد چار 
اپ مدکی تک مل ککا اتاد انی لوگوں کے ہاتھ ٹل رجا اس دوران میس بنا نہوں نے مص می اسلا مکی 
وب نکی ہ وگیء اب مصرمیس سے جو لوگ اسلام لاۓ ہو کے ا نکاخھ ہب بی نی بلکہ ا نکا مرن اور 
را ط ربق زندگی غیر مسلم مصریوں سے الک اور جخی اس انل سے چم رنگ گیا ہوگا۔ مصرییوں نے ان 
س بکواسی ط رب اج کر ایاہ وگگائٹس ططرب جندوستالن یی جندوئوں نے ہندوستالی مسلمانو ںک وک رایاء ان 
کے اوپر ارام یکا فظط اسی طرح سیا نکر د امیا ہوگاء جس طرں غیر عرب مسلمانوں پر ' مجن 'لکا نفظا 
آج سپا لکیاجا اے ء اور دہ خودجھی دی و تب ہی ردابط اود شادی بیاہ کے تعلقا کی وج سے غی لم 
مریوں سے الک اور بی اس رائل سے وابستہ ہوک رہ گے ہہوں کے ہی وج ےکہ جب مصرمیں قوم یہ سقی 
کاو فان اٹ نو ظا ھم صرف بنی اص ائٗیل بی پ میں ہو ۓ بللہ مصری مسلمان بھی ان کے سا تح ساس لبیٹ 
لیے گے اور جب بنی اسر ایل نے میک تچھوڑا تو مصری مسلمان تھی ان کے ساضھ بی کے اور ان س بکاشار 
ار انمبوں بی میں ہو نے لگا۔ 

ہکارے اس ق یا ںکی متائید با قیل کے متعدداشمارات سے ہوکی ے ء مثال کے طور پر 'خ وج "بیس جہاں بت ی 
ارائیلی کے مصرسے مکل کیا حال بیان ہو اےء باب لکا مصن فکتنا ےکہ الن کے سا یک عی پل گر دہ 
بھیگئی.(٣۱۔۳۸)‏ ای طر عکضی یں وو پچ رتا ےکہ جو کی جلی بھیٹر ان لوگوں میں معھی وو ط رح طر نکی 
مر صقکرن ےکی (۱۱۔ )پھر نل رم ان غیر اصرائیلی مسلمانوں کے لیے اہی اور پر دب یکی اصطلا حیں 
استعمال ہو نے آگییں, چناغی ور یں حطر ت مم وی کوچ اظکام د بے گے ان یں جمکوىہ فضر نے ۷ 


”تہارے لیے اود اس پروی کے لیے جوتم میں ر بت اے ٹسل در نل سداابیک بی مین رےگاء خداوند 
کے آگے پردڑی بھی وی می ہوں جیسے تم ہوہ تمارے لیے اور پر دیسییوں کے لیے جو تمہارے ساتھ 
رت ہیں ایک کی شر اور ایک می مفانون ہو (ش۵٥۔۱۵۔١۱)‏ 

گی رک رےمھمیفدھانک ان کے ء وہ نیس ایے 
لوگوں یں سےکیاٹ ڈاا جا ت گیا“ _ من ن۵ ۳ 

مخ اہ چھائیٰ بعا یکا معا مہ ہو یاپر دک یکاء تم ا نکا فیصملہ انصاف کے سات دک رن“ (ٹء١۔_١٦)‏ 

اب تق نکرن مکل ےک کزان الچ بیس غیر اسرائیلیوں کے لیے وہ اصسل لف دکیا ا ستعا لکیایاتھا سے 
منرجھوں نے '' پر دری 'بناکر رکھ دیا۔ 

سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 69 ھ 

تو دککیماے جب حطرت یتقو ٹ کی 1ء کی خر دار السلطنت میں گی و حضرت بوسیف سلطدت کے بڑے 
بڑے امرا و ائل مناسب اور تورج فا کو یکر ان کے استنخیال ہل لی کہ اور و رے تک و اتظام کے 
ساتجھ ال یکو شہ ریش لا ئے٤ء‏ ووون وہال جش کا دن تھ: عورتء مردہ چے سب اس جو سکو ویک کے لیے 
اکیٹھے ہو گے تےء اور سارے کلک میں وش یکی اہ ردوڈیکئی تھھی۔ 

سورۃیوسف خاشی تمبر: 7/0 ھ 

اس لفظا "اسر" سے بکشزت لوگو ںکو قلط ھی ہوکی ےش کہ ای کگ گر دہ نے فو ای سے امن لا کر کے 
بادشابھوںل اور پچیروں کے لیے سد ہو تحت اور رہ نی یکا جواز ول لیاءدوسرے لوگو ںکو اس قباحت سے 
نے کے لیے ا سک می قوج ہک نی پڑ یک انی شرمیتتوں یں صرف سجدہ خی اد کے لے عرام تھاہ بات رہادہ 
دہج عبادت کے ج ہے خالی ہو وذ وو شد ا کے سوادوصرو ںک وھ یکیاجاسکما اہ الین ش ربعت شج ری میں 
ہ رٹ مکاسحجدہ خی ال کے یے حرا مکرد مایا مجن سارک غاط پسیاں دداصمل اس وجہ سے پیر اہو ئی ی یہ 


لزا "سر 'اکو موجو دہ اسلائی اصطاا ںکا جم صعنی کب لیاگمیاء مشتنی باقع ء گن اور پیشالی ز لن پر نکاناء عا اکم 
یرہ کے اصل میتی شضس ھن کے ہیں اور یہاں یہ لف اسی موم بیس استعال ہو اہےہ قلد میم تہف یب ٹیل ىہ 
ام طر یہ تھا( اور آ ج بھی جن علکوں میں اکا روا ےکک یکا شک ریہ اواکرنے کے کے 
اتقبا لکرنے کے لے ء یج سلا مر نے کے لیے نے بد بات رک ہک ری حدکک آ ےکی طرف کت 
ےء اسیج کا کے لیے حر اش وداور اگریزکی میں (00,) کے الفاظط اتعال کے جات ہیں ء با تجمیل 
میں ا سک یککشزت مشالیس ہ مک ملقی ہی کہ قد مم زمانے مس مہ طر ینہ آداب تب یب میس شائل تھاء چنا مہ 
ححضرت ابر ائیم کے مل ایک جل ہککھھا ےکہ انہوں نے اپنے متیع ہکی طرف می نمیو ںکو آتے دیکھا نو 
دو ان کے اتقبال کے لیے دوڑے اور زین بتک بلھلے۔ ع ری پ اتیل میں اس موئع پر جھ الفاط استعال سے 
گے ہیں دہ ئیں:فلماآً نظررکض لاستقبال ہشن باب الخیمة ومجد ا ی الاارض۔ 
(عوین:۰۱۸) پھر نجس مو پر مہ ذکر ما ےکلہ ما حتف نے حضرت سارہ کے وشن کے لے قی رکی 
زین مشت دئی وہاں اردد باعل کے الفاظ یہ یں :ابر ام نے اکڑل دیکنی حت کے آگے جو اس میک کے 
لوگ ہیںء داب ھا اکر ان سے او گنگ ھکی ء اور جب ان لوگوں نے قب رکی ز بین بی نیس بلمہ الیک اورا 
حیت اور ایک نار نذر یش جن یکر دیاحب ابر ھام اس ملک کے لوگوں کے سان کا مر عم ربی ترجہ میں 
ان دونوں موا پر آداب با لانے اور جک کے لیے سد ہکرنے بھی کے الفاظ اتال ہوئۓ ہیں ۔ فقام 
براقیم وسحیر لشحب الارت شکٹینی حت(مگومین: ۳+ ے) نع ابر ایم امام شعب الارض(۳٣-١٠)‏ اگر زی 
ار .2 بر جو الفاظ آ یں دہ ىہ ہیں: 

.1ہع ٭طا [۱۷۷۰۸۷۰۸۲)٥۲٠ا١:‏ صتط ۹ 0۷ط 


۹۰وہ صهط۹٥۲ص۸ 4١‏ صہ ١ص1۸‏ ۰٤۲ہ‏ مامہ٭م ٭طا ۰٤۱۲ء‏ صتط ۹۱ ×0ط 


اس مضمو نکی مژالیس بڑ یکقزت سے اتل میں لی ہیں اور ان سے صاف معلوم ہو انتا ےکلہ اس 
سر ےکا مٹہوم وہ سے بی نیس جو اب اسسلا می اصطلاح کے لفظ 'سحبد و" سے "مچھا جانا ے۔ 

جن لوگوں نے معامل ہکی اس یق کو جانے بی ا سک اویل می سرسری طور یرب ہلک دیا ےک انی 
شر یں مس خی ال کو شضٹی سد ہکر نایا دہ تی بھالانا جات تھا خہوں نے شض ایک بے اعل با تفکچی 
ہے۔ اگ سیرے سے مرادوہ یز ہو جے اسلائی اصطلاح مس سج ہکماجااے ء ذوہ خداکی بی ہوٹ کسی 
شریعت مس تھ یکسی غیر اللر کے لیے جائز نیس رہاہے ۔ پاشھبل یس ذک ‏ آا ہے کہ با لکیا اسی ریا کے 
زہانے یں جب اخمو یرس باد شا کاو کو اپناامی الام راہنایا اد عم دیاکہ سب لوگ ا سکو سوہ نی 
با یاک یں تو مدکی ج بتی ا رابل کے آولیاءٹیں سے حے ہی عم مان سے الک رکر دیالآست ۳: ۔٢)‏ 
فور ال رھ یر ر کرت ہو‌ۓ ا س کیج تین دی گئی سے وویڈ ھن کے لاک سے : 

”بادمشاہ کے ملاز موں ن ےکہا آخ ھت وکییوں پما نکو سد مر نے سے اکا رک جا سے ؟ پم بھی 1وی ہیں گھرشاہی 
مکی تع لکرتے ہیںہ اس نے جو اب دیاتم لوگ نادان ہو ءکیاپنللا پا انسان ج ھکل خناک یس مل جانے 
والا ے اس تقایل ہو سلتا ےک ان کی بڑ اک ماٹی جا کیا مس ا سکو سح دکمروںل جو ایک عورت کے پیٹ 
سے پیر اہو ا کل بی تھا آج جو ان ےکل بوڑھاہ وکا اور پر ول مم جات ۓکا اف 7نی 
خد اہی کے آکے ہھکوں گاج گی و قیوم ہے۔ دوج انا تکا ال اور حام سے ء میں نویس اس کی نیم ہا 
7٦‏ 0ھ*"9* 

لت پر نزول ق رآنع سے تقر یبا الیک راد بر پیل الیک اص انی موم نکی ز پان سے ادا ہ کی سے اور اس 
شسکوئی شائ ہک اس شی لکاننی پایاجاتاکہ غیرادلرکوکسی مممی میں بھی "سحیدہ'کرناجانتڑہے۔ 


سورۃیوسف خاشیہ تنمسبر: 7/1 ھ 

يہ چند فتترے جو اس موںع پر خرت اوس فک زبان سے کہ ہیں ہمارے سام ایک جج موم نکی 
سر کا جیب دلش نقشہ بی کرت ہیہ صعح ال یکلہ بانوں کے ناند ا نکا ایک فر دج[ سکو ود اس کے 
پھائیوں نے سد کے مارے بلا فک دیناچاہا تھا ز ن دگی کے نشیب و فراز دیتا ہوا الا خر دشیوی ع روخ کے 
انال مقام پر کیا ء اس کے قیدزدوائل نماند ان اب اس کے دس ت گر ہ وکر اس کے حضمو رآ ے ہیں 
اور وہ عاسد پھاگی بھی جو ا سکو مار ڈالنا جات تے ء اس کے تخت شاہی کے سا نے س مو ںیکھرے کریں۔ نیہ 
موقع دنا کے عام وسقور کے مطاب یفخ جانےء ڈ میں مارے ء گے اور کو ےکرنے ہ اور نع وملااصت 
کے تیر بر سان کا تھا مر ایک ساد ارت انسان ال مو پر پھ دوسرے بی اخلاقی ظا رک تتاے ٤وہ‏ 
اپنے انس عون پر تُ نے کے ہا اس خد اکے اما نکااعترا فک ما سے جس نے اسے بہ ھ رحب عطاکیاء 
دونمانر ان والو ںکو اس لم وستم پ کوک مامت خی سک ماج ول عم بی انہوں نے انس پر بے ےہ اس 
کے رس وو اس بات پر شک اداکر جا ےکہ خحدانے ات ون کیاکی کے بعد ان لوگو ںکو مھ سے 
طایا۔ دو عاسد بھائیوں کے خلاف شاب تکا ایک لفظظ ز پان سے میں اکالماء خ کیہ بی بھی می کت اکمہ اغمہوں 
نے میرے ساتھ بر اق یکی تعھی۔ بلکمہ ا نکی صفائ خوددی اس ط رس من کم تا ےکہ ححیطان نے میرے اور 
ان کے در میان بر ائی ڈال دی شی اور پچھر اس بر ائی کے بھی ہرے ہد سچھو کر ا سکا ىہ اچچھابیبلو یی کر ما 
سےکہ خداٹٹس مرح پر مھے پاپانا چا بنا تھا اس کے لیے مہ اطیف تر ہیر اس نے فرماکیءم]فی چھائیوں سے 
شیطان نے جو ج ھکر ایا اسی میس ححکمت البی کے مطابق میرے لے تیر ھی ء چند الفاظ یش ىہ سب جن ھدکہہ 
جانے کے بعد وہ بے اختار نے خد اکے آکے تک جانتاےء ا ںکاشگکر اداکرتا ےکہ فوّنے جھے بادشادی 
وی اور وہ تائیقیں جنیں ج نکی بدرولت میس قید خمانے میس سڑنے کے بجھائے آجع دیاکی سب سے بڑی 


سلطنت پر فرہاں روا یکررپاہولء اور آخ یں خداسے بت مانزاے وب ہکہ د اٹل ج ب کک زندەرہوں 
تو رکی بن گی ولا ئی پر ثابت قدم رہل ء اور جب اس د ناس رخحصت ہہوں فو یھ نیک پندروں کے سساتھ ملا 
دیاجال سی ققدر بلنلد او رکتااکیزدے ہی خمود سی رت! 

رت پوس گی ال شی تقریرنے کی ہاب او مود کوک کہ ٹیس اق ےہ یرت سےکہیکنائیں 
تصو ںکی غی رضروری تقصیاات سے فو بھربی یڈ ہی گر جو چیزی کو گی اخلاقی ققدد وقبت رگصتی ہیں اور جن 
سے اندیا کی اصلی تعلیم اور ان کے تخبقی مشن اور ا نکی سی رتوں کے سیق آموزپھلڑئوں پر رو شی ہڑتی سے 
اانعٰسے ال کما و ں کا دامن خالی ے_ 

یہاں یہ قصہ تخم ہورپاے اس لے ناظ ری نکوپچھ اس حقیقت پر تن کر دیناضرورکی ‏ ےکہ قصہ لوسف علیہ 
الام سے متحلق ق مر نکی نے رڈایٹ ایق جلہ یگ تنعل روایت ےء پابعیل یا مو کا تچب یں سے ء 
مو ںکتابو ں کا منتقامل مطالع کر نے سے یہ بات بات وا نج چو اتی سےکہ تہ کے متحدد اہم اہجزام بش 
رآ نکی ردایت ان دونوں سے ملف ے۔ لیخ چمزی ق رآن اع سے زان بی نگ جاے من ان سے 
اض میں ا نکی تردیدکر ہے ؛لبذاسی کے لے کیک یئل نہیں ہے مم صلی ال علیہ 
وم نے جو قصہ سنایادہ ہنی اس رائیل سے سن لیاہ گا 

سورۃیوسف خاش تمبر: 2/ ھ 

نی ان لوگو لکی ہٹ دع رب یکا جیب عال ے ہ تہاری نو تکی آزمائنشی کے لیے بہت سویج بج ہکر اور 
مور ےکر کے جو مطالبہ اخمہوں ن کیا تھا سے تم نے چھری فل میں بر جس پوراکر دیاہ اب شا یتم مو 
ہو گ ےکہ اس کے بعد تو (نچیں ہہ صلی مکر لیت ہی ںکوکی ئل نہ رےگاکہ تم مہ ق ران خو و تصذیف نہیں 
کرتے ہو بللہ وا فی تم پر وگی آلی ے ‏ گممش۲ن جا ھکہ یہ اب گگیانہما میں کے اور اپنے الکار پر تے رے کے 


لی ےکوی دوس رابہانہ ڈجونڈمکایاس ک ےکی کہ ان کے شہ مان کی اصل وجہ مہ فی ےک تمہا ری صد اش تکا 
اھیان حاص لک نے کے لے بی کے ول ےکوی معتقول وبیل ات تے اور وہ ا چھ یک انیس نیس می ء 
بللہ ا لک وجہ صرف یہ ےک تمارک جات یہ انتا جات یس مہیںء اس لیے ال نکو لا درا صمل ما سے کے 
ےکی دلی لکی خی بللہ نان کے لی کی پان ےکی ہے۔ ا سکلام سے منتقصوو می صلی ال علیہ وس مکی 
می فلطط غٹھ کور جک نا نیس ہے ہگرج بظاہر نطاب آپ دی سے ےلان ا سکااصل مقرد مخاط بگر وہ 
کو جس کے ہگ یں مہ تقر رکی جار ہی شیا ء اسیک نہایت طف وشن بیقہ سے ا سکی ہٹ ددع ری پر متلب 
کنا ہے اخہوں نے اپقی عفل بی آ پکوامخجان کے لیے بلایاتھاادر ا اتک بی مطالہ ہکیاتھاکہ اگر تم نیہ ون 
تا بی اسر ائٗل نے م رجا ےکا قص کیاے ء اس کے جو اب میس ا کو وڈیں اور ای ونت او راقصہ سنادیاگیا 
اور آخ میں بہ ملق رسا فقر ہک ہک آکینہ بھی اان کے سامح رک د اگ اک بہٹ دع رو اس یش اپقی صورت 
دیلو ت مکس منہ ے اممان لین ٹیٹے سے * ممقول انسان اگ امتان لیت ہیں فو اس لیے لیے ہی کہ اکر 
تن ابت ہو جائۓ و اے مان لیس گے گر تم ود لوک ہو جو انام ماڈکاخھوت مل جانے پر بھی ما نکر نہیں 


٭ھ 


و( ے۔ 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 73ھ 

اد کی تحبیہ کے بععد ہہ دوس رىی اطیف تز تبیہ سے جس میں لام تکاپہلوکم اور فہ ال کا پپہلوز یاد ےہ اس 
ارشا دک خطاب بھی بظاہر نی صی ارڈ علیہ سکم سے ےگ ر اصصل مخاط بکغا رکاش سے اور ا کو مہ مچھانا 
مقصود ےک اللر ہے بندد تو رکروہ تمہاریی بی مہٹ دع رب یکس قدر بے جا سے ١‏ اگر ہفہر نے اینےمسی ذائی 
مفاد کے لیے دعوت و تن کا ہکام جار کیا ہو تا یا اس نے ابیقی ذات کے لیے یھ بھی چاباہ” تاذ بے نک 
تہارے لیے کن ےکا موقع قھاکہ ہم اس مع لی ہب یکی با تکیوں ا ہیں مر تم دھد رے ہ کہ مہ شس 


نے خر ےہ تخہاری اود د میا کی بجھلاہی کے لیے لشمچحم تکرر ہاے اور اس میں ا سکااپن اک کی مفاد لو شیرہ 
کیل سے ء پھر ان کا مقابلہ اس ہہٹ دھ می سےکرنے میں آخ کیا متقولیت سے؟ جو انسالن سب کے بے 
کے نے الک مان رضح سے ما فی کے ا ےکی یکنا اض تو وو کنل دک سے 
لے ضط رتو لامھنہ 


رک و۲۶٢‏ 


وَكَايْنْ ضِن ايَة نی الشدوٰتِ و الأَزضِ يَمْرُوْنَعَلِ ل َ2ه عَنھَا مْعِضُوْنَ للےدَمَایْؤمِنْ 

ے ہے کا ھ2 .0 7 2 ےے سے 

سیت الو مُضْرکُوْنَ دک اَفَأَمَنوا ان غ تَايِيَهْ غَايِمَة مِن عَذَاب الله آؤ 
7 میا ے سے کے ف9 ہے و" 0 

تَأَيِيَق المَاعَة َفْمَةةَ لا يَنْمَرْفْتَ کے قُل یج سَبِيْقّاَذَعُوَاا لی اللہ عَلی بصدرة 

4 ط 

اَمَو مَن اتْمَعَی و مہ سُبْن الوم آتا بن الْمخْریِنْتَ 92 دَمَاآَزِمَلْتا مِن قَبَيكَ ال 


اگ پہ 997 ۸  ٌ‏ 0 سے دخ ید 0 2 و ۷[۔ 
رِجالا تی اليّغَ يِن امل القری افلۂ يَبِدِْا یی الازضِ فَيَنْظرَدًا صحَیّف کان 


امع 


7 کا ک ہے و مر سج و ہ۔ ۔ ا 
عَاقيَة الیِیّن مِن تبیغ وَلد‌ ار الاخِرَة خَيرَلِلدِیّنَ! اتَقُوا وا ٴ فلا تَمْقلُوْنَ ےی عتی اِٰذا 


ََ۔ 


کس کہ ا +ھ 0019 > سم ط ۔ و دہ 
رت مَکَیتٌی الُسُل وَھَتُوّا اَتّْ كَن گن ِبُوْا جا تَصَرَنا فنّی مَن نشَاء ولا يْرَدبامُتا 


۰ 2 3 دہ ط فی ے‌ 
عَن الْقؤم الْنجِرمِینَ (ئ لئذ فان ؿ قضِخ عِبْرَهُلِّهل الاباب ما فَانَ عَرِینًا 


رکوع ۲ 


رق گا زور الو ان اہی نانیاں ہیں جن رس ہیرلو رگ آزرۓٍوں اورژورا 4 اارے۔ 28 
ان ٹیل سے اکمشراا کو مات ہی گر اس طر حکہ اس کے ساجح دوممرو ںکوشج یک مھ رات ہیں۔ قاکیا۔ 
صن ہی ںکہ خد اکے عر ا بک یکو کی بل نیس دو نہ لے گی یابے خ ری ٹیس قیاص تک یکھٹرکی اس اتک ان ہہ 
نآ جا ۓگا؟ من ےئم ان سے صا فکہہ دوک ” می ر ارت فو بے ء یں اش دکی طر فلا جاہہوں ٹیس خو دکھی 
دی روش یس اپناراست د کچھ ربا 094 اور یر ےت یہ اور النلد اک سے اور ش ر ککرنے والوں 
سے مر )ص2 723۷س 


اے ,تفم سے پل جھم نے جو می رکییجے تے دو سب بھی انسان بی تے ء اود انی بستیوں کے رئے والوں 
جس تےء اورپ کی طرف جم وی سیت ر ہے ہیں۔ پچ رکنیا لوگ ز شن میس لے بچرے نیس ہی کہ ان 
قوموں کا انجام یں نظرتہآیاج ان سے پیل مگزرچھی ہیں ؟ یقن خر اگ ان لوگوں کے لے اور زیادہ 
پیر سے جنپوں نے ولغمرو ںکی بات ما نکرپچہ تق یکی روش اختیا کی کیا اب بھی تم لوگ شر مجھو 
ے797 


لا یہ خنقروں کے ساتج بھی مچی ہو جار با ےک دو نوں نچحم تکرتے رے اور لوگوں نے ش کم نہ دیا ہہ 
ہا لت ککہ جب شر لوگوں ے مالوس ہو گے اور لوگوں نے بھی سبجھل کہ ان سے تُجھوٹ ہو گیا قفا و 
ایک ہماری مد درو ںکو ج جگئی۔ پھر جب ایما مو آجا اس نے ہمارا قاعدہ یر ےکہ صے ہم جات ہیں 
ھا لیے ہیں اور جج رموں پر سے پذہماراعز اب ٹالا بی یس جاسکتا۔ 


کل یں گے حر شض تم ۱ت یسفن والوں کے لیے عبرت سے۔ مہ جو کہ ق رآلن بیس یا نکیا 
جار اہے یہ بادلیٰ بات نی ہیں بلکلہ جھکزائیں اس سے پل کی ہو گی ہیں اٹ یکی تع لبق ہے اود ہر کی 
تفصیل 8 اور یمان لا والول کے لے پد بت اور ر مت- ۱۳ 

سورۃیوسف خاشیہ ٹنمبر: 7/4 ھ 

ادپرے کےگمیار ہو رکوعوں میں حضرت لوس فک قصہ تم ہ گیا اگر وی ا یکا مقصد عحض قص ہگ وکی ہو مان 
ای مہ تقریر خم ہو سای چا ہے شھی مر یہاں توق ہکسی متقص دکی غاط کہا جات اہ ء اور اس متص ری جح 
کے لے جو موںح بھی مل جاۓ اس چا ارد اٹھانے میں درگ فو سکیا جاجاء اب جچوکلمہ لوگوں نے ش دن یکو 
مایا تھا اور قصہ سنے کے ل ےمان متوجہ تے اس لیے ان کے مطل بک جات کرت بی چند جھملہ اپنے 
مطلب کے مھ یکمہ د لے گے اور نابہت درجہ اخنصمال شی مراتھ ان چندملوں بی میں لحصبحت اور دعور کا 
سار مضمون میٹ دماگیا۔ 

سورۃیوسف خاش تمبر: 7/5 ھ 

اس سے مقصیدلوگو ںکو ا نکی فلت پر تنک نے زین اور آسما نکی ہر زا خود جن ایک چز 
جی نی ے بللہ ایک نثا نی بھی ے جو یق تکی طرف انار ہک دج سے :جو لوگ ان چیزو ںکو شل چز 
بے لیے رس نان کا کن نین کے اون کا اد کنا نت یں : ور ےل 
درخت اور پہا کو پپاڑ اور پا یکو بالی فذ جاندر بھی د یکسا ہے اور اتی اتی ضرورت کے فحاظ سے ہر جاور ان 
یزرو ں کا مصر ف بھی جاناے :گر جس مقصد کے لیے انسا نعکوحواس کے سا سو نے والا دماغ ھی دیاگیا 
ہے دو صرف ای ععدکک نی ےک ہآدمی ان چیزو لکود کے اور ا نکا مصرف اور اسنقعال معلو مکھرے 
بللہ اصل متصصد بس ےکآ وی مقیقق تک تج وککرے اور ان نشانثوں کے ذد بیعہ سے ا کا راغ لئے ء 


اسی معاملہ یش اکر انسان فلت برت رے ہیں اور می غفلت سے جس نے ا نک وگ ابی میس ڈال رکھا 
ہے اکر ولوں پر یہ ففل نہ چچڑھ ا یاگیا ہو تا نایا ءکی بات سبجھنااور ا نکر چنمائی سے فا مد اٹھال وگوں کے 
ۓیے اس قد ر مل مہ ہو جام۔ 
سورۃیوسف حخاشب تمبر: 76ھ 
یہ فطرکی نطیہ سے اس خفل تکا جج سکی طرف اوپر کے نقررے میں اشمار ہک یاگمیا سے جب لوگوں نے نشان 
رااے آ میں ہر و یًِِممم۸ افکی اڑلروں یس جس انس 7 
بھ یکم انسان اسے ہیں جو مز لکو پالگل ب یگ مکر کے جہوں اور جنییں ا بات سے شعتی اکا ہ کہ خد اا نکا 
خالق ورازقی ے) پپیشتر مان جج سگم رای مین لا ہیں دہ انار خد اک یگھمراتی نیس بللہ شر ککیگمر ای ےء 
نی دہ یہ نیس سک کہ خد انی ٤ے‏ بلمہ اس فلط بھی ٹین مبنلا ہی کہ حد اکی ذات ال سکیا صفاتہ اختیارات 
اور وق میں دوسرے بھ یتین کی طر شریک ہیں ء می فلط تھی ہ رگز نہپ ابد تی گر زان و آسما نکی 
ان نشانیو ںکو ڈگاہ عبرت سے دیکھاجا تاج ہر کہ اور ہ رآلن خد ایی ذحد تکا یع دے دربی ہیں۔ 
سورۃیوسف خاشب تمبر: 77ھ 
اس سے مقصوداوگو ںکو چو ٹھانا ےکہ فرصت زن دگ یکو دراز جج ھکر اور حال کے ام نکو دائم خی یکر کے 
لب لک وک ی نے وانے وقت پر نہ ٹالو ری انسان کے پا بھی اس اھر کے یی ےکوکی انت کھیں ےہ 
ان کی مبلت حیات فلاں وش ت کک مق ینا باتی ر ےگ >کوگی غھیں جا اک کب ا اتک ا سک یگر فیاری ہو جا 
سے او رکہاں سے ای مس3 1ي تمہاراشب ددو ڑکا جھرہر ےکلہ پردہ :5 یہ لہ 
بھی خ نیس دیتاکہ اس کے اندر تمہارے لی کیا چیا ہو اے ء لہ اھ گک رکمرلی سے و ابچھ یکمرلوز ن دگ یکی 
شس دا ہیر لے ارہ ہو اس میں آگے بڑ نے سے پیلہ ذرا رز تل رک کیا رہ راستنہ شیک سے ؟ اس کے 
درست ہو نے کے لی ےکوگی وا تھی جت موجو و ے؟ ان گے ے زارف ہو ےکی کوک دی فا نات 


سے مل درجی ہے ؟ اس پر لن کے جو متا تمہارے ابنائے موم پیلہ کچھ گے ہیں اور ج تا اب تمہارے 
تر ن یل رو نماہہور سے ہیں دہ کی تھمد ا کرت ڈی ںکہ تم شیک جارے ہو۔ 

سورۃیوسف خحاشیہ تمبر: 7/8 ھ 

نی ان باوں سے پاک جو ا ںکی طرف ملسو بک مجارہی ہیںء ان نقائ او رک دریوں سے پاک جھ ہر 
مشرکانہ ختقیر ےکی ناپ لا زا سکی طرف مفسوب ہولی ہیں۱ ان وب اور خطاول اور بر ائوں سے پاک 
ن کا سکی طرف مفسوب ہوناش رک کا می نتر ے۔ 

سورۃیوسف حاشی تمبر: 719ھ 

یہاں ایک بہت بڑے مضمو نکو دو تن جھنوں یس سحیٹ دیاگیااہے ءا کو اگ رکسی شی عبارت ٹل بین 
کیا جاۓ نذا ںکہاجاسکنا سے مہ لوگ تمہار گی طرف اس لے فوجہ نمی ںکرت تک جو ش کل ان 
کے شم بیس پیرابہو ا اود انی کے در مین چے سے جو الع اوج ان سے بوڑھا ہو اس کے ملق بہ کی مان 
کہ پمیک ایک روز خدانے اسے اپناسفی مقر رکر دیاہ لان بی کو گی ان ھی بات نیس ہے جس سے آ 
دیس بجہلی مر حبہ ان یکو سابقہ یل آیاہدء اس سے پسلہ بھی خد ااپنے نی گے کے اور وو سب بھی انسان 
ہی تہ پھربہ بھی بھی نیس ہو اہ ا اتک ایک ا جلی شی کسی شہ میس خودار ہوگیاہھ اود ان ےکہاہ 
کہ میس مٹمہر ب نکر کیہ اگیاہہوںء بللہ جو لو ک ھی انسانو ںکی اصلاح کے لے اٹھائۓ گے وو سب ال کی ای 
ىی بستیوں کے ربے والے تھے ء سج موی ایر می ,و (ملہہم السلام) آن کون تے؟ اب تم خود بی 
دہ ا وکہ جن قوموں نے ان لوگو ںکی دعوت اصلا ںکو قبول تن ہکیا اور اپنے بے جذیاد تخبلات اور بے (گام 
خواہشات کے تیہیے جلقی رہیں ا نکا اما مکیاہواء تم خود اپنے تار کی سفروں میس عادہ شود ین اور توم لوط 
وغمیرہ کے تاد شدہ علاقوں سےگگزرتے رسے ہو کیادہا ںکوگی یق ہیں خی ملا ؟ یہ امجام جو اغہوں نے 
دنائش دیکھا کسی ذ خر دے دبا ےک عاقیت یس ود اس سے بد تر امام دلھعیں کے . اور کہ جن لوگوں 


نے د یشیش ابیقی اصلا کرک وہ صصرف دخیاپی میس انگ نہ رے آخرت میس ال نکا امام اس سے می زیادہ 
اہ رہ وکا 

سورۃیوسف حاشیہ تمبر: 80ھ 

یجنی ہر اس کی نیل جو انسا نکی ہدایت ور جمائی کے لیے ضروری سے ھت لوگ" رک یتفصیل ١‏ 
سے مرادخواہ اود ٹیا پھ کی چیزو ںکی فصبیل نے لیے ہیںہ اود بچھرانکویہ پریشانی ٹین لی ےک ق رن 
جگلات اور طب اورریاشی اور ووسرے علوم وفتون سے متحا کوک یتفصیل خھوں ملق